سیئول//جنوبی کوریا نے میانمار کے ساتھ دفاعی شعبے میں تعاون ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق وزارت دفاع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سیئول حکومت میانمر کے ساتھ دفاعی شعبے میں تعاون معطل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں دیگر شعبوں میں بھی میانمر کے ساتھ تعاون محدود کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ یہ پیش رفت میانمر میں فوجی بغاوت اور فوج کی جانب سے جمہوریت کے حامیوں کے خلاف جاری شدید کریک ڈاؤن کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ یاد رہے کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے بہیمانہ استعمال پر امریکا نے بھی میانمر پر پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب چین نے عالمی برادری سے میانمرمیں کشیدگی جلد سے جلد کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ حکومت خود اس معاملے میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ڑاو لی جیان نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کے روز نیوز بریفنگ کے دوران میانمر کی صورتحال پراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک حالیہ بیان سے متعلق سوال کے جواب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ سلامتی کونسل کے پیغام سے صورتحال میں کشیدگی کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اْدھر میانمر کی نظربند رہنما آنگ سان سوچی کے وکیل نے اقتدار پر قابض فوج کی طرف سے ان کی موکل پر کرپشن کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔