یو این آئی
سرینگر// وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت نے اپنے وسیع ثقافتی، لسانی اور سماجی تنوع کو جمہوریت کی طاقت میں تبدیل کر کے دنیا کے سامنے ایک منفرد مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جمہوریت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مضبوط جمہوری ادارے اور شفاف عمل نہ صرف استحکام فراہم کرتے ہیں بلکہ ترقی کو رفتار اور وسعت بھی دیتے ہیں۔یو این ایس کے مطابق وزیر اعظم نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاو ¿س کمپلیکس کے سمویدھان سدن میں دولتِ مشترکہ (کامن ویلتھ) کے اسپیکرز اور پریزائیڈنگ افسران کی 28ویں کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جو 14 سے 16 جنوری تک منعقد ہو رہی ہے۔ اس کانفرنس میں تقریباً 60 ممالک کے اسپیکرز اور پریزائیڈنگ افسران شرکت کر رہے ہیں۔ اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ جب بھارت نے آزادی حاصل کی تو دنیا کے کئی ماہرین کو شک تھا کہ اتنے بڑے اور متنوع ملک میں جمہوریت کامیاب ہو سکے گی یا نہیں۔انہوں نے کہا”بھارت کی یہی تنوع ہماری جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت بن گئی۔ جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا، بھارت نے انہیں اپنی کامیابی سے غلط ثابت کر دیا۔ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے وزیر اعظم اور دیگر ممالک سے آئے اپنے ہم منصبوں کا خیرمقدم کیا کانفرنس میں بین پارلیمانی یونین کی صدر ڈاکٹر تُلیا اکسن، دولت مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن کے صدر کرسٹوفر کلیلا اور راجیہ سبھا کے نائب چیئرمین ہری ونش سمیت دولت مشترکہ کے 42 ممالک کے 61 اسپیکر اور پریزائیڈنگ افسران شرکت کر رہے ہیں۔ہندوستان چوتھی بار اس کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے اور آخری بار اس نے 16 سال پہلے اس کی میزبانی کی تھی۔کانفرنس کا آغاز مسٹرہری ونش کے خطبہ استقبالیہ سے ہوا۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ کامن ویلتھ اسپیکرز اینڈ پریزائیڈنگ آفیسرز (سی ایس پی او سی) کانفرنس میں اس مرتبہ خاص یہ ہے کہ ہم اپنے تجربات کو ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں گے اور اپنے جمہوری عمل کے چیلنجوں کو اہمیت دیتے ہوئے سیکھنے اور سکھانے کے عمل کو آگے بڑھانے پر خصوصی غور کریں گے ۔مودی نے کہا کہ اس کانفرنس کے ذریعے ہمیں ایک دوسرے سے سیکھنا اور سکھانا ہے تاکہ جمہوری عمل کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں عوامی بہبود کی اسکیموں کو سب کے فائدے کے لیے یکساں طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت کو مضبوط کرنے والے عمل پر خاص غور کرنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا اور اے آئی کے کردار کے تناظر میں۔وزیر اعظم نے کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی ایک بڑا چیلنج ہے اور اسے ہندوستان میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسے پارلیمنٹ اور ق اسمبلیوں میں استعمال کیا جا رہا ہے اور اس سے درپیش چیلنجز پر بھی اس کانفرنس میں غور کیا جانا چاہیے۔