جموں//صدر نیشنل کانفرنس اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے اس قرار داد پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ اگلی حکومت تشکیل دیں گے جبکہ انہوں نے اسے خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد جموں و کشمیر کے عوام کو پھر سے گمراہ کرنے کی کوشش قرار دیا ۔عبداللہ نے کہا کہ وہ کہتے تھے کہ آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کو منسوخ کرنے کے بعد ترقی اور خوشحالی آئے گی تاہم اس کے بعد جموں و کشمیر کو کچھ نہیں ملا۔یوم خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جموں میں نیشنل کانفرنس کے صدر دفتر میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے کہا کہ جن لوگوں نے جموں و کشمیر میں اقتدار میں آنے کا دعوی کیا ، وہ کبھی نہیں آئیں گے اور وہ صرف شور مچا رہے ہیں۔عبد اللہ بالواسطہ کٹرہ کی دو روزہ ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں بی جے پی کی منظور کردہ قرارداد کی طرف اشارہ کررہے تھے جس میں دعویٰ کیاگیا تھاکہ بھاجپا جموں و کشمیر میں اگلی حکومت تشکیل دے گی۔این سی صدر نے کہا کہ وہ دیکھیں گے کہ یہ کیسے ہوگا (وہ اقتدار میں کیسے آئیں گے) اور لوگوں کو مذہب اور نفرت کی سیاست کے خلاف متنبہ کیا۔انہوں نے کہا، "وہ لوگ جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ آ رہے ہیں وہ نہیں آئیں گے ،" اور انہوں نے اپنی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں سے ان لوگوں (بی جے پی) کو بے نقاب کرنے کو کہا جنہوں نے 5 اگست 2019 کے بعد کی صورتحال کے حوالے سے ترقی اور خوشحالی کا وعدہ کیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ (بی جے پی والے) کہتے ہیں کہ وہ حکومت بنائیں گے’’میں دیکھوں گا کہ یہ کیسے ہوگا۔ کیا وہ آسمان سے آئیں گے؟ ہم ان کے راستے میںکھڑے ہیں اور آپ ہمیں کس طرح ہٹائیں گے "۔ انہوں نے کہا کہ’’ جب بھی انتخابات ہوتے ہیں تو ترنگا کے لئے قائدین اور کارکنوں کی قربانیوں کے باوجود ہمیں پاکستانی قرار دیا جاتا ہے تاہم انتخابات کے بعد ہم ہندوستانی ہوجاتے ہیں‘‘۔ کشمیر میں حالیہ ہلاکتوں کے براہ راست حوالہ دیتے ہوئے فاروق عبد اللہ نے حکومت سے بھی سوال کیا: "کیا عسکریت پسندی ختم ہوگئی ہے؟اب بھی فائرنگ جاری ہے اور لوگ مارے جارہے ہیں"۔انہوں نے مزید کہا "چند روز قبل عسکریت پسندوں کے ہاتھوں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ عسکریت پسندوں کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ وہ ہندو اور مسلمان میں فرق نہیں کرتے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے دو غیر مسلح پولیس اہلکاروں کو گولی مار دی جو بازار میں اپنے کیمپ کے قریب کچھ خریدنے گئے تھے۔ ان کے بچوں یا ان کے اہل خانہ کا کیا بنے گا؟‘‘۔انہوں نے تقریب کے دوران پارٹی کارکنوں سے پوچھا کہ کیا خصوصی پوزیشن کی تنسیخ کے بعد ان کے بچوں کو ملازمت ملی ہے ، خوشحالی آئی ہے یا نہیں ؟۔ اس کے بجائے بقول ان کے اشیائے ضروریہ کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تو ایک تنخواہ کے ساتھ گھریلو معاملات چلانا ممکن نہیں ہے ۔انہوں نے بی جے پی کے ان دعوؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہا "وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ انہیں بولنے دو کیونکہ ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔ تاہم جب خصوصی حیثیت کو منسوخ کیا گیا تو انہوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں اور آرٹیکل 370 کو کھونے کے بعد ہمیں احساس ہوا ہے کہ ہمارے پاس جو کچھ تھا وہ ہم کھو چکے ہیں۔ ہمارے پاس جو تھا ، وہ ہم سے دور ہوچکا ہے۔اس قانون (سٹیٹ سبجیکٹ) کو 1927 میں مہاراجہ ہری سنگھ نے نافذ کیا تھا۔ کیوں؟ تاکہ ڈوگرہ ثقافت ختم نہ ہو‘‘۔ڈاکٹر عبد اللہ نے کہا "خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کشمیر کے مقابلے میں جموں میںزیادہ لوگوں کو زمین اور روزگار کھونے کا خطرہ ہے"۔ انہوں نے کہا "مہاراجہ ہری سنگھ نے 1927 میں ڈوگرہ ثقافت کے تحفظ کے لئے جموں و کشمیر میں خصوصی درجہ (اسٹیٹ سبجیکٹ قوانین) نافذ کیا تھا"۔انہوں نے کہا ’’آج بھی مجھے (کشمیری عوام) کو کشمیر میں کوئی خطرہ نہیں ہے تاہم آپ کو جموں میں خطرہ ہے کیونکہ وہ آپ کی سرزمین پر قبضہ کریں گے اور آپ کی نوکریاں حاصل کرینگے‘‘۔ فاروق عبد اللہ نے بتایا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ ایک ماں نے اپنی بیٹی بیچی ہے۔ان کا کہناتھا’’ایک ماں نے اپنی بیٹی بیچی ہے۔ اس نے مبینہ طور پر غربت کی وجہ سے اپنی بیٹی کو فروخت کیا ۔شاید وہ خود کو بھی کھانا کھلا نہیں سکتی تھی تو اپنی بیٹی کو کیا کھلاتی‘‘۔ انہوں نے کہا "میں آپ کو اخلاص کے ساتھ بتا رہا ہوں کہ ہمارے گھروں پر یہ صورتحال ہوگئی ہے"۔گولڈ کارڈوں پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں مریضوں کو مبینہ طور پر گولڈ کارڈ کے علاج سے انکار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے حکومت کی صحت سکیم کا انتخابی وعدے سے موازنہ کیا کہ ہر ہندوستانی کے اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے آئیں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق عبد اللہ نے کہا کہ "آپ کو میانمار کی صورتحال معلوم ہے جہاں آپ دیکھتے ہیں کہ اس ملک کے فوجی کیا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کا چارٹر ہے اور حکومت ہند نے بھی اس چارٹر پر دستخط کیے ہیں۔ ہمیں چارٹر کو قبول کرنا چاہئے اور انسان دوست انداز میں کام کرنا چاہئے۔انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ چاہے انتخابات کا انعقاد ہو یا نہ ہو ، لیکن ہم نے خودکو تیار رکھا ہواہے۔