جموں//جموں یونیورسٹی کے شعبہ اُردوکی جانب سے پروفیسرگیان چندجین سیمی نارہال میں یک روز ہ قومی سیمینار کاانعقاد کیاگیاجس کاموضوع ”اُردوادب کی بدلتی صورتحال “تھا ۔ اس دوران پروفیسرانیس اشفاق سابق صدرشعبہ اُردولکھنو¿ نے کلیدی خطبہ پیش کیاجبکہ ڈاکٹرمحمدریاض احمد،ڈاکٹر چمن لال اورڈاکٹرفرحت شمیم نے اس موضوع پر تفصیلی مقالات پیش کئے۔سیمینارکی صدارت کے فرائض نامورنثرنگار اورچیئرمین وومن کمیشن جموں وکشمیرنعیمہ احمدمہجو نے انجام دیئے۔پروفیسرانیس اشفاق نے اپنے خطاب میں اُردوادب کی بدلتی صورتحال پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ترقی پسندمصنفوں نے اپنی تحریروں میں زندگی کے حقائق کواُجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ سماج کے پچھڑے لوگوں کودرپیش مسائل کومنظرعام پرلایا ۔ڈاکٹر انےس اشفاق نے اپنے صدارتی خطبہ مےں کہا کہ آج کے دور مےں اگر دےکھا جائے تو اردو ادب سب سے زےادہ متاثر ہوا ہے اس لئے اس کو مزےد تقوےت بخشنے کے لئے ہم سب کو مل کر محنت کرنے کی ضرورت ہے اس پروگرام مےں شعبہ اردو کے اساتذہ کے ساتھ ساتھ متعدد طلباءنے بھی شرکت کی اور اردو ادب کی افادےت و ترقی پر تبادلہ خےال کےا ۔نعیمہ احمدمہجورنے اپنے صدارتی خطاب میں شعبہ اُردوکواہمیت کے حامل موضو ع پرسیمینارمنعقدکرنے کےلئے مبارکبادپیش کی۔مہجورنے اردو ادب کی نشونمامےں مختلف تحرےقوں کے رول پر روشنی ڈالی اور طلبا ءسے اپےل کی ہمےں اےسا ادب مرتب کرنا چاہیئے جو دور حاضر کے سماج کی مکمل عقاسی کرے۔انہوں نے مزےد کہا کہ دور حاضر کے سماج کو اےسے تحرےری مواد کی ضرورت ہے جس سے لوگوں کی اصلاح ہو سکے۔انہوں نے کشمیرمیں تحریرکردہ اُردوادب کاخصوصی طورسے ذکرکیا ۔انہوں نے شکایت بھرے لہجے میں کہاکہ کسی بھی مصنف نے کشمیرمیں گذشتہ تیس سال سے جاری صحیح صورت حال کی عکاسی نہیں کی ہے ۔انہوں نے مصنفین سے کہاہے کہ وہ کشمیرکے سُلگتے مسئلے کے بارے میں اپنی قلم کوجنبش دیں ۔اس سے قبل اپنے خطبہ ¿ استقبالیہ میں پروفیسرشہاب عنایت ملک صدرشعبہ اُردو جموں یونیورسٹی نے ریسورس پرسنز کاتعارف سامعین سے کرایا۔اس موقعہ پر طلباء،اسکالرز کے علاوہ ڈاکٹر شہناز قادری اور ڈاکٹر رےاض احمد ودیگران بھی موجودتھے۔