عظمیٰ نیوزسروس
جموں//پولیس اور محکمہ جنگلات نے منگل کے روز جموں شہر کے مضافاتی علاقہ سدھرا میں انسدادِ تجاوزات مہم چلاتے ہوئے تقریباً 20 سے 30 ڈھانچوں کو منہدم کر کے قریب 60کنال قیمتی جنگلاتی اراضی واگزار کرائی۔حکام کے مطابق محکمہ جنگلات، فاریسٹ پروٹیکشن فورس، محکمہ مال اور پولیس کے افسران نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے جنگلاتی علاقے سے مبینہ قابضین کو بے دخل کرنے کیلئے آپریشن شروع کیا۔مبینہ قابضین کی مزاحمت کے باوجود کارروائی تقریباً تین سے چار گھنٹے تک جاری رہی، جس دوران مہامایا جنگلاتی پٹی میں زیادہ تر کچے تعمیراتی ڈھانچوں سمیت تقریباً 20سے 30تعمیرات کو مسمار کیا گیا۔حکام نے بتایا کہ لوئر شوالک رینج کے رائیکا بندی جنگلاتی علاقے میں کروڑوں روپے مالیت کی تقریباً 60 کنال اراضی واگزار کرائی گئی۔متاثرہ خاندانوں نے کارروائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انہدامی مہم کو’’غیر منصفانہ‘‘ قرار دیا۔ ان کا الزام تھا کہ انہیں پیشگی کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ پانچ سے چھ برس قبل مہامایا جنگلاتی پٹی میں چند ہی ڈھانچے موجود تھے، مگر اب وہاں بڑی تعداد میں غیر قانونی تعمیرات قائم ہوچکی ہیں جبکہ نئی تعمیرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔محکمہ جنگلات کے حکام نے کہا کہ آئندہ مزید تجاوزات روکنے کیلئے جموں بھر کے جنگلاتی علاقوں میں قبائلی بستیوں اور دیگر آبادیوں کی نقشہ بندی کی جائے گی۔ایک افسر نے بتایا’’تمام ایسے علاقوں کی فوٹوگرافی اور ویڈیوگرافی کی جائے گی اور دستاویزات کی جانچ کے بعد ریکارڈ سرکاری ویب سائٹس پر اپ لوڈ کیا جائے گا۔ ہم کسی کو بھی جنگلاتی اراضی پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور تمام غیر قانونی قبضے ہٹائے جائیں گے‘‘۔
وزیر جاوید احمد رانا انہدامی مہم پر برہم ،کہا اسکا کوئی جواز نہیں
تحقیقات کا حکم،زمین متاثرین کی ملکیت ،محکمہ جنگلات کی نہیں :وزیر جنگلات
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//وزیر جنگلات جاوید احمد رانا نے منگل کے روز جموں شہر کے مضافاتی جنگلاتی علاقے میں انسدادِ تجاوزات مہم سے متاثرہ افراد سے ملاقات کی۔انہوں نے محکمہ جنگلات کی کارروائی کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے مطالبہ کیا کہ کارروائی کے دوران مبینہ زیادتیوں پر پولیس کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔انہوں نے کہا’’میں لیفٹیننٹ گورنر سے درخواست کروں گا کہ عوام کے خلاف زیادتیوں میں ملوث پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ قانون و انتظام کا شعبہ ان کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ پولیس نے طاقت کا استعمال کیا اور لوگوں کو نماز ادا کرنے کی اجازت بھی نہیں دی‘‘۔جاوید احمد رانا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا’’میں ابھی پیر پنجال سے واپس آیا ہوں اور محکمہ جنگلات کے کردار کی تحقیقات کا حکم دیا ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’یہ لوگ ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں، اور میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ان کی قربانیوں اور خدمات کی وجہ سے ہی جموں و کشمیر بھارت کے ساتھ کھڑا ہے۔ آپ ان جذبات کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں اور لوگوں کے احساسات سے کھیل رہے ہیں‘‘۔وزیر نے لوگوں سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی اور متاثرین کی بازآبادکاری کیلئے اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا’’میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ آپ کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا اور جو لوگ نقصان کے ذمہ دار ہیں، انہیں قانونی عمل کے تحت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا‘‘۔جاوید احمد رانا نے کہا کہ قبائلی امور کا محکمہ متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری کیلئے اقدامات کرے گا۔انہوں نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی کارروائیوں کی مہذب معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا’’میرا کہنا یہ ہے کہ جو کچھ ہوا وہ غیر انسانی ہے اور ایسی چیزوں کی نہ تو مہذب معاشرے میں گنجائش ہے اور نہ ہی کسی مذہبی یا سماجی نظام میں۔ یہ لوگ گزشتہ پچاس برس سے یہاں رہ رہے ہیں اور میرے پاس موجود ریونیو ریکارڈ کے مطابق یہ زمین انہی کی ملکیت ہے‘‘۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ زمین محکمہ مال کے ریکارڈ میں درج ہے اور محکمہ جنگلات کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔اس سے قبل ایکس پر ایک ٹویٹ میں انہوںنے لکھا ’’سِدھرا، جموں میں ایل جی انتظامیہ کی جانب سے گھروں کی خفیہ اور یکطرفہ مسماری پر شدید صدمہ اور غم و غصہ ہے۔ ہمارے معصوم گوجربکروال خاندانوں کی دہائیوں پر محیط وراثت کو منتخب عوامی حکومت اور میری وزارت کو اعتماد میں لیے بغیر ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔یہ محض ایک انضباطی مہم نہیں بلکہ ہمارے خانہ بدوش قبائلی طبقات کو خوفزدہ اور حاشیے پر دھکیلنے کیلئے دانستہ اور ظالمانہ بے دخلی کی کارروائی ہے، جنہوں نے نصف صدی سے زائد عرصے تک ان زمینوں کی حفاظت کی ہے۔ہم اس امتیازی سلوک اور من مانی کارروائی کے خاموش تماشائی نہیں بنیں گے۔ میں فوری طور پر اس معاملے کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ساتھ اعلیٰ سطح پر اٹھا رہا ہوں تاکہ فوری طور پر اس کارروائی کو روکا جائے، ذمہ دار افسران و اہلکاروں کے خلاف ادارہ جاتی تحقیقات کی جائے، اور متاثرہ خاندانوں کی مکمل بازآبادکاری کو یقینی بنایا جائے۔ہمارے لوگ بے دخلی نہیں بلکہ انصاف کے مستحق ہیں!‘‘۔
سدھرا انہدامی مہم پر الطاف بخاری کا شدید ردعمل
وزیر اعلیٰ سے ذاتی طور اور فوری مداخلت کرنے کی تلقین کی
عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر// اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے جموں کے سدھرا علاقے میں چلائی گئی انہدامی مہم پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو ہدف تنقید بنایا۔ انہوں نے اس مہم کو غیر منصفانہ اور بے رحمی پر مبنی قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سے ذاتی طور اور فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔بخاری نے کہا، ’’جس انداز میں سدھرا میں انہدامی کارروائی انجام دی گئی، وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ میں حیران ہوں کہ حکام نے رہائشی ڈھانچوں کو اس قدر ظالمانہ اور من مانی طریقے سے منہدم کرنے کی اجازت کیسے دی؟‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’اطلاعات کے مطابق یہ کارروائی تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہی اور درجنوں گھروں کو بے رحمی سے مسمار کیا گیا۔ ‘‘انہوں نے کہا، ’’متاثرہ خاندانوں میں سے کئیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ برسوں سے وہاں مقیم تھے۔ اگر ایسا ہے تو اس معاملے کو انتہائی احتیاط اور مکمل طور پر قانون اور طے شدہ رہنما اصولوں کے مطابق نمٹایا جانا چاہیے تھا۔‘‘اپنی پارٹی کے سربراہ نے مزید کہا، ’’میں نے ایسی ویڈیوز دیکھی ہیں جن میں متاثرہ افراد واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ انہدامی کارروائی سے قبل انہیں کوئی پیشگی نوٹس تک فراہم نہیں کیا گیا۔ اگر یہ بات درست ہے تو یہ پوری کارروائی کی قانونی حیثیت پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔‘‘اس الزام پر کہ یہ مہم ایک مخصوص برادری کو نشانہ بنانے کے لیے جانبدارانہ انداز میں چلائی گئی ہے ، پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہا، ’’سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ تاثر قوی ہو رہا ہے کہ یہ مہم جانبداری کے تحت ایک مخصوص برادری کو نشانہ بنا کر چلائی گئی۔ ممکن ہے یہ درست نہ ہو، لیکن ایسا تاثر بھی ہمارے سماجی تانے بانےکو نقصان اور بڑی مشکل سے قائم ہوئے امن و استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘‘وزیر اعلیٰ سے معاملے میں مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہا’’میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے پُرزور اپیل کرتا ہوں کہ وہ بلا تاخیر ذاتی طور پر اس معاملے میں مداخلت کریں، ایک منصفانہ اور شفاف تحقیقات کا حکم دیں، متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کریں، اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں کہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔‘‘بیان میں مزید کہا گیا، ’’آخرکار یہ حقیقت ہے کہ یہ نام نہاد انسدادِ تجاوزات مہم محکمہ جنگلات، فاریسٹ پروٹیکشن فورس اور محکمہ مال کی مشترکہ کارروائی سے کی گئی ہے۔ اور یہ تمام محکمے منتخب حکومت کے تحت کام کر رہے ہیں۔ لہٰذا عوامی مینڈیٹ رکھنے والی حکومت اس تشویشناک کارروائی پر اپنی جوابدہی اور ذمہ داری سے بچ نہیں سکتی۔‘‘
میاں الطاف کی انہدامی کارروائی کی مذمت
کہا، کارروائی جانبدارانہ اور ناقابل قبول ہے
عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر//سینئر نیشنل کانفرنس رہنما اور رکن پارلیمان میاں الطاف احمد نے جموں کے سدھرا علاقے میں خانہ بدوش قبائلی برادری کے خلاف محکمہ جنگلات کی کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔میاں الطاف نےایک بیان میں کہا کہ نام نہاد انسدادِ تجاوزات مہم کی آڑ میں گوجر کوٹھوں اور جھونپڑیوں کو مسمار کرنا قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی قبائلی برادری پہلے ہی جموں میں پیش آنے والے ایسے متعدد واقعات کی وجہ سے خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہے اور جموں میں ان کے عارضی ڈھانچوں کی تازہ مسماری نے پوری خانہ بدوش برادری کو ایک بار پھر تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔انہوں نے کہا’’میں سدھرا جموں میں غریب قبائلی لوگوں کے کئی رہائشی ڈھانچوں کی مسماری کی سخت مذمت کرتا ہوں، جو کئی دہائیوں سے وہاں آباد تھے۔ انتظامیہ اور محکمہ جنگلات کی یہ زیادتی ناقابل قبول ہے‘‘۔میاں الطاف نے کہا کہ یہ خانہ بدوش خاندان دہائیوں سے پہاڑی علاقوں اور چراگاہوں کے قریب مختلف مقامات پر قیام کرتے آئے ہیں، جہاں وہ صدیوں سے اپنے مویشی چراتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکام کو اندھا دھند کارروائی کرنے اور مخصوص طبقے کو نشانہ بنانے سے پہلے اس حقیقت کی جانچ کرنی چاہیے۔میاں الطاف نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جائے اور انتظامیہ فوری طور پر ایسی کارروائیوں کو روکنے کیلئے ہدایات جاری کرے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کی باز آبادکاری کا مطالبہ بھی کیا۔
کانگریس نے لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کیلئے وقت مانگ لیا
بھلا کی قیادت میں کانگریس وفد کا بندی، باہو میں انہدامی مقام کا دورہ
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدرطارق حمید قرہ کی ہدایت پر کانگریس پارٹی کی ایک اعلیٰ سطحی ٹیم نے، جس کی قیادت ورکنگ صدر اور سابق وزیر مال رمن بھلا کر رہے تھے، باہو قلعہ علاقے کے بندی میں گزشتہ رات پکے مکانات کی انہدامی کارروائی کے مقام کا دورہ کیا تاکہ زمینی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔کانگریس ٹیم نے پایا کہ انتظامیہ کی جانب سے آدھی رات کے بعد بلڈوزر کارروائی کے دوران 40 سے زائد خاندان بے گھر ہو گئے، جبکہ تین سے چار دہائیوں سے وہاں مقیم لوگوں کے پکے مکانات اور مستقل رہائش گاہیں منہدم کر دی گئیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رمن بھلا کی قیادت والی کانگریس ٹیم نے انتظامیہ اور پولیس کی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’وحشیانہ اور غیر انسانی‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قانون آدھی رات کو بغیر پیشگی نوٹس کے ایسی غیر انسانی کارروائی کی اجازت نہیں دیتا۔کانگریس رہنماؤں نے متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر جنگلات جاوید احمد راناسے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرائیں اور کارروائی کی وجوہات اور دیگر تفصیلات عوام کے سامنے لائیں تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔انہوں نے بے گھر خاندانوں کیلئے عارضی رہائش فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا، جب تک ابتدائی تحقیقات مکمل نہ ہو جائیں، اور اگر کارروائی غلط ثابت ہو تو متاثرین کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔ترجمان اعلیٰ رویندر شرما نے میڈیا کو بتایا کہ کانگریس ٹیم نے تمام تفصیلات پی سی سی صدر کو پیش کر دی ہیں اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کیلئے وقت طلب کیا جائے تاکہ اس مبینہ من مانے اقدام کی تفصیلات حاصل کی جا سکیں اور ضروری اقدامات کا مطالبہ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ ٹیم تمام معلومات اور حقائق جمع کرے گی اور اس معاملے پر منتخب حکومت اور ایل جی انتظامیہ کا موقف بھی طلب کرے گی۔
سجاد لون کی حکومت کے دوہرے معیار کی مذمت
انہدامی کارروائی کے احکامات کس نے دیے؟، وضاحت طلب
عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر//جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر اور ہندواڑہ سے رکن اسمبلی سجاد غنی لون نے منگل کے روز سدھرا جموں میں تازہ انہدامی کارروائیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے ان پیش رفتوں کو انتہائی تشویشناک قرار دیا اور حکومت سے فوری وضاحت طلب کی کہ اس کارروائی کا حکم کس نے دیا۔اپنے بیان میں سجاد لون نے حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے۔انہوں نے کہا’’سدھرا سے آنے والی خبریں انتہائی تشویشناک ہیں۔ ایک بار پھر انہدامی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ کیا حکومت ایک مرتبہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ واضح کرے گی کہ انہدامی کارروائیوں کا حکم کس نے دیا؟ اگر حکومت نے نہیں دیا تو پھر کس نے دیا؟ اور اب وہ اس بارے میں کیا کارروائی کرے گی؟‘‘۔پیپلز کانفرنس صدر نے حکومت کے طرز عمل میں واضح تضاد کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہی حکومت جموں میں انہدامی کارروائیوں پر ’’آہ و بکا کا ڈرامہ‘‘ کرتی رہی اور عوام کے سامنے شدید غم و غصے کا اظہار کرتی رہی، لیکن جب اسمبلی میں اس معاملے پر سوال اٹھایا گیا تو انہی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا گیا کہ تمام ضابطے اور طریقہ کار پر عمل کیا گیا ہے۔سجاد لون نے کہا’’مجھے یاد ہے کہ اس حکومت نے جموں میں انہدامی کارروائیوں پر آہ و بکا کا ڈرامہ رچایا تھا۔ اور جب اسمبلی میں سوال پوچھا گیا تو انہی کارروائیوں کا یہ کہہ کر دفاع کیا گیا کہ تمام اصول و ضوابط اور طریقہ کار پر عمل کیا گیا ہے‘‘۔انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت اس طرز عمل پر خاموش تماشائی نہیں بنے گی۔
تاریگامی کی سخت تنقید
انسانی بنیادوں پر مداخلت کا مطالبہ
عظمیٰ نیوز سروس
سری نگر//سی پی آئی (ایم) کے رہنما اور رکن اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے منگل کے روز جموں کے سدھرا علاقے میں قبائلی اور خانہ بدوش خاندانوں کے ٹھکانوں کی مسماری پر تنقید کرتے ہوئے اس کارروائی کو غیر جواز اور غیر حساس قرار دیا۔گجر اور بکروال خاندان، جو مویشی پالنے اور موسمی ہجرت پر انحصار کرتے ہیں، پہلے ہی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے تھے اور اس طرح کے اقدامات ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔“متاثرہ خاندان برسوں سے ان علاقوں میں مقیم ہیں۔ کوئی بھی قدم جو غریب لوگوں کو بے گھر کر دے، اسے سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے اور انسانیت کے ساتھ نمٹا جانا چاہیے،” تاریگامی نے کہا۔انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس طرح کی مہمات کو روکا جائے، معاملے کا مناسب جائزہ لیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کے لیے راحت اور بازآبادکاری کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی برادریوں کو غیر محفوظ یا نشانہ بنائے جانے کا احساس نہیں دلایا جانا چاہیے۔