محتشم احتشام
پونچھ//جموں کشمیر و لداخ پنشنرز فرنٹ کی جانب سے ضلع پونچھ میں ایک منظم اور پْرامن احتجاج کا انعقاد کیا گیا، جس میں سبکدوش سرکاری ملازمین نے اپنے دیرینہ مطالبات کے حق میں آواز بلند کی۔ احتجاج کی صدارت سابق چیف ایجوکیشن آفیسر اور فرنٹ کے صدرصدیق کوہلی نے کی، جبکہ بڑی تعداد میں پنشنرز نے شرکت کر کے اپنے مسائل اور خدشات کو اجاگر کیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ سرکاری خدمات کی تکمیل کے بعد ریٹائر ہونے والے ملازمین کو وہ عزت و وقار نہیں دیا جا رہا جس کے وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ جن افراد نے اپنی زندگیاں سرکاری خدمات کے لیے وقف کیں، انہیں بڑھاپے میں نظر انداز کرنا نہ صرف افسوسناک بلکہ ایک سنجیدہ سماجی مسئلہ ہے۔
احتجاج کے دوران پنشنرز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بینکوں اور دیگر سرکاری دفاتر میں بزرگ شہریوں کے لیے علیحدہ کاؤنٹرز قائم کیے جائیں تاکہ انہیں لمبی قطاروں اور غیر ضروری دقتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی عمر کے ساتھ جسمانی کمزوری اور صحت کے مسائل بھی درپیش ہوتے ہیں، ایسے میں سہولتوں کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔مزید برآں، مظاہرین نے آٹھویں پے کمیشن میں پنشنرز کو شامل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق موجودہ پالیسیوں میں پنشنرز کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کے باعث ان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں پنشن میں مناسب اضافہ اور مراعات کی فراہمی ناگزیر ہو چکی ہے۔صدیق کوہلی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ پنشنرز معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں، جن کے تجربات اور خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ پنشنرز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے اور ان کے لیے باعزت اور سہل زندگی کو یقینی بنائے۔احتجاج کے اختتام پر پنشنرز نے اپنے مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لے گی اور جلد مثبت اقدامات اٹھائے گی تاکہ بزرگ شہریوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ممکن ہو سکے۔احتجاج کے بعد تمام ملازمین ضلع ترقیاتی کمشنر کے دفتر پہنچے جہاں انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر اشوک کمار شرما سے ملاقات کی اور انہیں ایک تحری یادداشت پیش کی جس میں۔