عوام تیزی سے امن کی طرف گامزن، بدامنی کو ہوا دینے کی کوششوںکو سختی سے کچل دیا جائیگا:ڈلو
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اتل ڈلونے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز خطے میں ابھرتے ہوئے تمام چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں اور سرحد پار سے آنے والی دشمن قوتیں اور شرپسند عناصر اگرچہ بدامنی پھیلانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم زمینی سطح پر سیکورٹی انتظامات مضبوط اور مؤثر ہیں۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دراندازی کی کوششیں، موسم کی سختیاں اور دشوار گزار جغرافیائی حالات کو دشمن عناصر اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن سیکورٹی ایجنسیاں ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے الرٹ ہیں۔ ڈلو نے کہا کہ پڑوسی ملک اور اس کے زیرِ سرپرستی ملی ٹینٹ نیٹ ورک صورتحال کو خراب کرنے کے لیے عنصرِ حیرت کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم سیکورٹی فورسز ہر سازش کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔چیف سیکریٹری نے کہا کہ فوج، نیم فوجی دستے، جموں و کشمیر پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ہائی الرٹ پر ہیں اور ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2025کے دوران مجموعی طور پر جموں و کشمیر کی سیکورٹی صورتحال قابو میں رہی، جو فورسز کی مؤثر کارروائیوں اور مضبوط حکمت عملی کا ثبوت ہے۔انہوں نے پہلگام میں گزشتہ برس اپریل میں ہونے والے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ایک بڑے واقعے کے علاوہ مجموعی صورتحال بہتر رہی۔ ڈلونے کہا کہ پورے خطے میں سیکورٹی فورسز کی واضح برتری نظر آئی اور کئی بڑی کامیابیاں حاصل کی گئیں، جن میں آپریشن مہادیو اور دہلی حملے میں ملوث ماڈیول کا پردہ فاش کرنا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ اور ہوم سیکریٹری کی صدارت میں ہونے والے اعلیٰ سطحی سیکورٹی جائزہ اجلاس معمول کا حصہ ہیں، جن کے ذریعے صورتحال کا مسلسل جائزہ لے کر نئی حکمت عملی مرتب کی جاتی ہے۔ڈرون کے ذریعے اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چیف سیکریٹری نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ڈرون سرگرمیاں ایک سنگین چیلنج ضرور ہیں، تاہم فوج، بی ایس ایف، پولیس اور دیگر ادارے اسے مؤثر طریقے سے ناکام بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کی سمگلنگ کو ملی ٹینسی کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس کے خلاف سخت کارروائی جاری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میںملی ٹینسی کا پورا نظام اب نمایاں طور پر کمزور ہو چکا ہے۔ نوجوانوں کی ملی ٹینٹ گروپوں میں شمولیت تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے، جبکہ پتھراؤ، ہڑتالوں اور تشدد کی کالوں کو عوامی حمایت بھی ختم ہو چکی ہے۔ اتل ڈلو کے مطابق عوام تیزی سے امن کی طرف لوٹ رہے ہیں اور کسی بھی کوشش کو سختی سے کچل دیا جائے گا جو دوبارہ بدامنی کو ہوا دینے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز، پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیاں مکمل طور پر اہل اور باصلاحیت ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ خطے میں امن، استحکام اور معمولاتِ زندگی برقرار رہیں۔