جموں صوبہ میں بیشتر آمدنی حاصل ،کشمیر صوبہ میں محدود موجودگی،پلوامہ، شوپیان، بانڈی پورہ، بڈگام اور کولگام مستثنیٰ
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جموں و کشمیر حکومت نے منگل کے روز قانون ساز اسمبلی کو مطلع کیا کہ یونین ٹیریٹری کو ’’ڈرائی یو ٹی‘‘ (شراب بندی علاقہ) قرار دینے سے متعلق اس وقت کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے، جبکہ گزشتہ تین مالی برسوں کے دوران بارز اور وائن شاپس سے 3,450کروڑ روپے سے زائد کی خطیر آمدنی حاصل کی گئی ہے۔ایم ایل اے بلونت سنگھ منکوٹیا کی جانب سے پیش کیے گئے ایک تحریری سوال کے جواب میں حکومت نے واضح کیا کہ شراب بندی کے نفاذ سے پڑوسی ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز سے سمگلنگ میں اضافہ، غیر قانونی کشید کاری کے فروغ، شراب مافیا کے مضبوط ہونے اور عوامی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔حکومت نے یہ بھی خبردار کیا کہ شراب پر مکمل پابندی کے نتیجے میں سیاحت، ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، جبکہ شراب کی تجارت سے وابستہ ہزاروں افراد کے روزگار کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔آمدنی کا لیکھا جوکھا پیش کرتے ہوئے حکومت نے کہا کہ تین سال میں3450کروڑ روپے کی آمدن ہوئی۔
جموں ضلع آمدنی میں سرفہرست
جموں ضلع میں سال 2022۔23کے دوران 140 وائن شاپس اور 84بارز سے 51,262.41لاکھ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی۔ 2023-24 میں وائن شاپس کی تعداد بڑھ کر 151اور بارز 93ہو گئیں، جس سے 50,826.31لاکھ روپے کی آمدنی ہوئی۔ 2024–25-میں 153وائن شاپس اور 97بارز سے 52,292.83لاکھ روپے کی آمدنی ریکارڈ کی گئی، جو پوری یونین ٹیریٹری میں سب سے زیادہ ہے۔
کٹھوعہ، سانبہ اور اُدھم پور میں مسلسل اضافہ
کٹھوعہ ضلع میں 2022–۔23کے دوران 28وائن شاپس اور 33بارز سے 12,367.06لاکھ روپے کی آمدنی ہوئی۔ 2023–24-میں یہ آمدنی 12,217.17لاکھ روپے رہی، جبکہ 2024–25-میں 31وائن شاپس اور 37بارز سے بڑھ کر 12,694.98لاکھ روپے ہو گئی۔سانبہ ضلع میں 2022–23-میں آمدنی 8,229.14لاکھ روپے تھی، جو 2023-24میں بڑھ کر 9,825.74لاکھ او2024–۔25میں 10,299.42لاکھ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ وائن شاپس کی تعداد 14سے بڑھ کر 19ہو گئی۔اُدھم پور میں 2022–23-میں 10,777.00لاکھ روپے کی آمدنی ہوئی، جو 2023–24-میں 12,410.00لاکھ اور 2024–25-میں 12,987.50لاکھ روپے تک پہنچ گئی، جہاں 26سے 28وائن شاپس اور 22سے 25بارز کام کر رہے تھے۔