ندیم خان
اگرچہ ہمارے پاؤں تلے زمین مضبوط اور ساکن محسوس ہوتی ہے لیکن حقیقت میں ہم سب زمین کی چٹانوں کے بڑے بڑے ٹکڑوں پر چند سینٹی میٹر سالانہ کی رفتار سے حرکت کر رہے ہیں۔ ہندوستان کے نئے زلزلہ کے نقشے میں جموں و کشمیر کو مکمل طور پر سب سے زیادہ زلزلے کے خطرے والے علاقے میں رکھا گیا ہے، جو بھارت کی زلزلہ بندی میں کئی برسوں کے بعد سب سے بڑی تبدیلی ہے۔ یہ نقشہ کچھ روز قبل ہندستانی معیارات کے ادارے ( بی آئی ایس) نے 2025کے زلزلہ حفاظتی قواعد کے حصے کے طور پر جاری کیا، جس میں پورے ہمالیائی سلسلے، بشمول جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام اضلاع کو سب سے خطر ناک درجہ میں رکھا گیا ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ نئی درجہ بندی ایسے جدید سائنسی طریقوں پر مبنی ہے جو زمین کی حرکت پیدا کرنے والی دراڑوں ( فائٹس)، ان سے ممکنہ دراڑ کے زیادہ سے زیادہ پھیلاؤ، زمین کے جھٹکوں کی شدت اور زیر زمین چٹانوں کی نوعیت کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔ یہ طریقہ کار ماضی کے انداز کو بدل دیتا ہے جو صرف پچھلے زلزلوں کے ریکارڈ اور مٹی کی اقسام پر انحصار کرتے تھے۔ وہیں بی آئی ایس کا مزید کہنا ہے کہ نئے اصول واضح انداز میں بتاتے ہیں کہ ممکنہ زلزلے زمین کو کس حد تک جھنجھوڑ سکتے ہیں اور آنے والے وقت میں ہمیں جموں و کشمیر میں شدید زلزلے دیکھنے کو ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی گھر مستقبل میں بنائے جائیں ،وہ ڈھانچے موجودہ سائنسی جانکاری کے مطابق بنائے جائیں ، نہ کہ پرانے طریقوں کے مطابق تاکہ آپ کا گھر کچھ حد تک ان زلزلوں کے شدید جھٹکوں کو برداشت کرسکے۔ جموں و کشمیر کے کچھ بڑے ماہرین معیارات سے ہم نے بات کی تو انہوں نے کہا کہ یہ بڑا قدم اس غلطی کو درست کرتا ہے جس میں پورے ہمالیہ جیسے یکساں طور پر خطر ناک خطے کو پہلے دو مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق نئی درجہ بندی ان گہری زمینی دراڑوں کے خطرے کو تسلیم کرتی ہے جن میں دہائیوں سے دباؤ جمع ہو رہا ہے اور جو کئی سو برسوں سے کوئی بڑا زلزلہ پیدا نہیں کر رہیں، یہی وہ فائٹس ہیں جن سے بڑے زلزلے کا اندیشہ رہتا ہے۔
پرانے نقشے ان خطرات کو کم سمجھتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے قواعد کے مطابق جموں و کشمیر میں عمارتوں کو اب انتہائی سخت جھٹکوں کے مطابق ڈیزائن بھی کرنا ہوگا، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں زمین کی دراڑیں موجود ہیں۔ اس میں عمارت کے جھکاؤ کی حد، لوہے اور کنکریٹ کی لچک اور زلزلے کی توانائی کو برداشت کرنے کی صلاحیت کے اصول پہلے سے زیادہ سخت کر دیے گئے ہیں تاکہ بڑے حادثات سے بچا جا سکے۔ غیر ساختی حصے، جیسے چھجے ، چھتیں، پانی کی ٹنکیاں، سجے ہوئے بیرونی پینل، برقی تاریں اور لٹکے ہوئے فکسچر، کو اب لازمی طور پر مضبوطی سے جکڑنا ہوگا، کیونکہ اکثر زلزلوں میں یہی حصے گر کر زیادہ نقصان اور چوٹ کا سبب بنتے ہیں۔ جموں و کشمیر میں آنے والے 8 اکتوبر 2005ء کے قیامت خیز زلزلے کو اکیس سال مکمل ہو گئے۔ اِس سانحہ میں ہزاروں افراد لقمہ اَجل بنے‘ ھزاروں گھر زمین بوس ہو گئے تھے۔ 8 اکتوبر 2005 کی صبح جموں و کشمیر میں آنے والے زلزلہ نے پورے جموں و کشمیر کے شمالی اضلاع کو اس بری طرح جھنجوڑا کہ آن کی آن میں ہزاروں انسان لقمہ اجل بن گئے اور لگ بھگ ہزاروں افراد زخمی ہوئے تھے۔ تقریباً دس ہزار گھر تباہ ہوئے اور ہزاروں خاندان آناً فاناً بغیر چھت کے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ 2005 میں آئے جموں و کشمیر میں خطرناک زلزلے کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے اصولوں کے مطابق نرم مٹی، زمین کے بیٹھ جانے کے خطرے اور ہر علاقے میں زمین کے جھٹکوں کے مختلف رد عمل پر بھی زور دیتے ہیں۔ اس کیلئے کمزور علاقوں میں نئی تعمیرات سے پہلے زمین کی جانچ ضروری ہوگی۔
اس کے علاوہ اہم عمارتیں، جیسے اسپتال، اسکول، پل اور سرکاری دفاتر اب اس طرح بنائے جائیں گے کہ بڑے زلزلے کے بعد بھی ان کی خدمات جاری رہ سکیں۔ وہیں 2025کے نقشے میں ایک نیا سامراجی خطرہ جائزہ بھی شامل کیا گیا ہے، جس میں آبادی کی کثرت، عمارتوں کا زور اور لوگوں کی معاشی حساسیت کو بھی خطرے کے درجوں میں شامل کیا گیا ہے۔ اس سے سرینگر ، جموں، اننت ناگ بارہمولہ اور بانڈی پورہ جیسے شہروں کی منصوبہ بندی مزید اہم ہو جاتی ہے، جہاں درمیانے درجے کے جھٹکے بھی بڑے نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔ زلزلہ زدہ زونیشن یا زلزلے کے خطرے کا نقشہ ایک سائنسی ٹول ہے جو یہ بتاتا ہے کہ ایک مقررہ وقت کے دوران مختلف مقامات پر ذلزلے کے بعد زمین کے ہلنے کا امکان کتنا ہے۔ صرف ماضی کے زلزلوں کو ریکارڈ کرنے کے بجائے، جدید نقشے ممکنہ زلزلے کے خطرے کی تشخیص کا استعمال کرتے ہیں، جو فعال فالٹس، تاریخی زلزلوں، ٹیکٹونک پلیٹ کی حرکات، مقامی ارضیات اور ماڈلز کو یکجا کرتا ہے کہ کس طرح زلزلے کی لہریں فاصلے کے ساتھ کم ہوتی ہیں۔ سائنسدان پھر ان خطرات کی تعداد کو ڈیزائن کیٹیگریز میں ترجمہ کرتے ہیں جو انجینئرز کو بتاتے ہیں کہ لرزنے سے بچنے کے لیے ڈھانچے کا کتنا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی اور متعلقہ ایجنسیاں ان نقشوں کی نگرانی اور ماڈلنگ فراہم کرتی ہیں۔ ڈیپارٹمنٹ آف سیسمولوجی کے سابق ہمالیائی پٹی قدرتی طور پر زلزلوں کے لیے خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کو زون VI میں رکھنا، مخصوص زلزلوں کی پیش گوئی کرنے کے بجائے ممکنہ خطرات کے پیمانے اور ہونے والے نقصان کی سطح کو سمجھنے کے لیے ایک واضح فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپ ڈیٹ شدہ درجہ بندی کو تمام اسٹیک ہولڈرز کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، حکومتی محکموں سے لے کر مہمان نوازی کے آپریٹرز تک، موجودہ خطرات کا از سر نو جائزہ لینے، حفاظتی اصولوں کو مضبوط بنانے، کمزور ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنے، اور زیادہ شفاف اور قابل اعتماد آفات سے نمٹنے کے طریقوں کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ وہیں سائنسدان، واڈیا انسٹی ٹیوٹ آف ہمالین جیولوجی، نے آؤٹ لک ٹریولر کے ساتھ اشتراک کیا کہ زلزلوں کو برداشت کرنے والی عمارتوں کو ڈیزائن کرنے کے لیے ہندوستان کے اپ ڈیٹ کردہ نقطہ نظر کی بنیاد ‘زلزلے سے بچنے والے ڈھانچے کے ڈیزائن کے زلزلے کے خطرے اور معیار کے لیے ڈیزائن کوڈ آف پریکٹس ،اس سال انڈین اسٹینڈرڈ بیورو کے ذریعہ تیار کیا گیا ہے۔ زیادہ تر ڈھانچوں کے لیے انجینئرنگ کی کم از کم ضروریات کا خاکہ پیش کرتا ہے اور زلزلے کی قوتوں کا حساب لگانے کے لیے ایک متحد طریقہ فراہم کرتا ہے۔ اپ ڈیٹ کردہ معیار میں اس بات کی بہتر تفہیم شامل کی گئی ہے کہ کس طرح زمین کی حرکت پورے ملک میں مختلف ہوتی ہے اور اس سال متعارف کرائے گئے نئے زلزلہ زون کے نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے۔ حال ہی میں جاری کیا گیا سیسمک نقشہ ہندوستان کے پہاڑوں کو حد سے باہر نہیں کرتا ہے۔ مسافروں کو فائدہ ہوگا اگر حکام، آپریٹرز اور مقامی کمیونٹیز اس وضاحت کو محفوظ تجربات بنانے اور اس کی تشہیر کرنے کے لیے استعمال کریں۔ ہندوستان کی پہاڑیوں کے سفر کی منصوبہ بندی کرنے والے ہر شخص کے لیے، باخبر سفر کرنا سمجھداری ہے ڈیپارٹمنٹ آف سیسمولوجی کے مطابق رہائش کا انتخاب کریں، زلزلے سے حفاظت کے آسان اقدامات سیکھیں اور نئے نقشے کو ایک ایسے ٹول کے طور پر پیش کریں جو ہر کسی کو پہاڑوں سے زیادہ محفوظ طریقے سے لطف اندوز ہونے میں مدد کرتا ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نظرثانی نے پہلے کے نقشوں میں دیرینہ تضادات کو درست کیا، جس نے یکساں ٹیکٹونک خطرات کے باوجود ہمالیائی پٹی کو زون IV اور V کے درمیان تقسیم کیا۔
قارئین آخر یہ زلزلے کیوں اور کیسے آتے ہیں، لاس اینجلس کی ایک مشہور یونیورسٹی کے ایک ماہر جان ویڈیل کہتے ہیں کہ زمین کے اندر موجود چٹانی پرتیں مسلسل حرکت میں رہتی ہیں اور جب وہ اپنی جگہ سے کھسکتی ہیں تو ان کے کناروں پر شدید دباؤ پڑتا ہے اور جب یہ دباؤ ایک خاص سطح پر پہنچتا ہے تو پوری زمین ہلنا شروع کردیتی ہے جس کے بعد وہ زلزلے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔
زلزلے کے جھٹکوں سے زمین پر موجود ہر ایک چھوٹی اور بڑی چیزوں کو نقصان پہنچتا ہے۔عمارتیں گھر، سکول، اسپتال، عبادت گاہیں اور دوسری تنصیبات گر جاتی ہیں۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں۔ درخت اور بجلی کے پول زمین بوس ہو جاتے ہیں۔ اگر متاثرہ علاقے میں دریا یا جھیلیں ہوں تو ان کی جگہ بدل سکتی ہے۔ پہاڑوں میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔ آپ کو یاد دلا دیں کہ انڈونیشیا کے علاقے پالو میں زلزلے کے بعد سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں تھیں۔ اگر زلزلے کا مرکز سمندر کی تہہ یا ساحلی علاقوں کے قریب ہو تو سمندری طوفان اور سونامی سیلاب وغیرہ آسکتے ہیں اور بپھری لہریں ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔ ہماری زمین کے مختلف حصوں کے نیچے چٹانوں کی پرتیں اس نوعیت کی ہیں کہ ان میں نسبتاً زیادہ حرکت ہوتی ہے۔ چنانچہ ان علاقوں میں زلزلے بھی بہت زیادہ آتے رہتے ہیں۔ بعض ملک اور علاقے زلزلوں کے زون میں واقع ہیں۔ ان میں نیوزی لینڈ، انڈونیشیا، نیپال، فلپائن، فرانس، سری لنکا، جاپان، روس، شمالی امریکہ میں بحرالکاہل کے ساحلی علاقے، وسطی امریکہ، پیرو اور چلی شامل ہیں۔ اسی طرح بحرالکاہل کے کئی حصے بھی ان علاقوں میں شامل ہیں جہاں زیادہ زلزلے آنے کا خدشہ رہتا ہے۔ وہیں تقریبا 70 سال پہلے کے سائنسدانوں کا خیال یہ تھا کہ زمین ٹھنڈی ہورہی ہے اور اس عمل کے نتیجے میں اس کا غلاف کہیں کہیں چٹخنے لگتا ہے،جس سے زلزلے آتے ہیں۔ کچھ دوسرے سائنسدانوں کا کہنا یہ تھا کہ زمین کے اندرونی حصے میں آگ کا جہنم دہک رہا ہے اور اس سے بے پناہ حرارت کی وجہ سے زمین غبارے کی طرح پھولتی ہے۔یہ ہیں ماضی میں زلزلوں کے آنے کی مختلف توجیہات۔ آپ کو بتا دیں کہ ترکیہ اور شام میں فروری 2023 کو 7.8 شدت کے زلزلہ آیا، جس میں میں 35 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں تھیں اور لاکھوں افراد شدید زخمی ہوئے تھے۔ انسانی زندگی پر زلزلے کے اثرات دیگر قدرتی آفات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ نفسیاتی ماہرین کا تجزیہ ہے کہ زندہ بچ جانے والے افراد پر برسوں شدید حزن و ملال،خوف اور ڈراؤنے خواب مسلط رہتے ہیں۔ اسی طرح جموں و کشمیر میں 8 اکتوبر 2005 کے قیامت خیز زلزلے کو آج 21 برس مکمل ہوگئے، لیکن دو دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی وہ حادثہ لوگوں کے ذہنوں میں سے ابھی تک نہیں نکلا ہے۔ ہم نے سرینگر بٹہ مالو سے تعلق رکھنے والے بزرگ شخص غلام نبی شیخ سے 2005 کے قیامت خیز زلزلے کے متعلق بات کی تو انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو زلزلے کے خطرے میں رکھا گیا ہے، جس سے لوگوں میں کچھ ڈر کا ماحول ہے ۔لوگوں کو ایسا لگتا ہے کہ کہیں 2005 جیسا زلزلہ پھر سے نہ ہو، لوگ ابھی بھی اس خوفناک حادثے سے نکل نہیں پائے ہیں، اللہ تعالیٰ ہم پر رحم کرے۔ ہمالیہ خطے میں تو بڑی تبدیلی آئی ہے ، مگر جنوبی بھارت کے نسبتاً محفوظ علاقوں میں صرف معمولی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ چونکہ اب ملک کا61 فیصد حصہ درمیانے سے زیادہ خطرے والے علاقوں میں شامل ہو گیا ہے ، اس لیے انجینئروں، منصوبہ سازوں اور مقامی اداروں کو فوراً نئے اصول اپنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ماہرین نے کہا کہ یہ نقشہ کسی فوری زلزلے کی پیش گوئی نہیں ہے بلکہ ایک سائنسی تنبیہ ہے اور جموں و کشمیر کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ پیشگی تیاری کے ذریعے اپنی حفاظت کریں۔
رابطہ۔ 9596571542
[email protected]