جموں//ریاست میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال جموں کشمیر یونائٹیڈ پیس مؤ منٹ کے بینر تلے جموں پریس کلب کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیاجس دوران مقررین نے جموں کشمیر کو ہندوستان ، پاکستان اور ریاستی عوام کے درمیان تصفیہ طلب تنازعہ قرار دیااور کہا کہ ریاست ایک نازک دور سے گزر رہی ہے جس سے جنوبی ایشیا کا امن بھی خطرہ میں پڑگیا ہے ۔ مقررین ،جن میں مؤ منٹ چیئر مین ہمت سنگھ، سابق وزیر بابو سنگھ، محمد شریف سرتاج،سابق ایم ایل سی ایڈوکیٹ محمد رشید قریشی، صدر سکھ انٹلیکچول سرکل سردار نریندر سنگھ خالصہ اور شرومنی اکالی دل کے بھائی گور دیو سنگھ شامل تھے،نے کہا کہ جہاں ’اٹوٹ انگ‘ اور ’شہ رگ‘ جیسے راگ فرسودہ ہو چکے ہیں وہیں کچھ طاقتوں کی طرف سے ریاست کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجاویز بھی ناقابل قبول ہیں۔ جموں کشمیر کو انڈو پاک کنفیڈریشن کے تحت یونیفائیڈ فیڈرل سٹیٹ بنانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے ہندوستان، پاکستان اور ریاستی عوام کے درمیان سہ فریقی بات چیت کیلئے ماحول تیار کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ ریا ست جموں کشمیر میں قتل وغارت گری کو رو کنے مسئلے کوبات چیت کے ذریعے حل کرنے ،لوگوں کوتحفظ فراہم کر نے کا مطالبہ کر تے ہوئے مرکزی حکومت پرزور دیا کہ وہ طاقت کی پالیسی کوترک کر کے ریاست میںبحالی امن کیلئے بات چیت کا سلسلہ شروع کرے ۔انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر میںشہری ہلاکتوںکا نہ تھمنے والا ایک سلسلہ جوشروع کیاگیا ہے اس پرفوری روک لگا ئی جائے ، کشمیر میں شہری ہلاکتیں ناقا بل برداشت ہیں سرکا رکو یہ بات واضح کر نی ہو گی کہ عام شہریوں کی جانیں کیوں ضائع ہورہی ہے جس سے ملک کی شبیہہ بین الاقوا می سطح پر متاثر ہو رہی ہے اور جس جمہوریت کاہم دعویٰ کر ر ہے ہیں وہ بے بنیاد ثابت ہوتا جارہا ہے ۔افسپا اور پی ایس اے جیسے قوانین اور پیلٹ گن وغیرہ کے استعمال پر فوری پابندی عائد کئے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مقررین نے لوگوں کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔اس موقعہ پر گوردیو سنگھ، سردار کلونت سنگھ، دیدار سنگھ اور دیگران بھی موجود تھے ۔