عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جموں و کشمیر اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے جموں ضلع میں کسٹوڈین زمین سے متعلق ایک اور بڑے گھوٹالے کا انکشاف کیا ہے۔ایک بیان میں اے سی بی ترجمان نے کہا کہ اے سی بی نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں زمین کے ایک بڑے سکینڈل کو بے نقاب کیا ہے، جس میں اسروان، مشری والا، بھلوال اور آر ایس پورہ کے علاقوں میں واقع کسٹوڈین زمین کو لینڈ مافیا نے فارم الف ہولڈرز اور کسٹوڈین/ریونیو محکمہ کے افسران و اہلکاروں کی ملی بھگت سے ہتھیا لیا۔انہوں نے کہا کہ اطلاع ملی تھی کہ ہزاروں کنال کسٹوڈین زمین، جو اسروان، مشری والا، بھلوال اور آر ایس پورہ میں واقع ہے، کو قبضہ مافیا نے ریونیو افسران و اہلکاروں کے ساتھ ملی بھگت سے دھوکہ دہی کے ذریعے ہتھیا لیا ہے۔ ریونیو ریکارڈ میں رد و بدل کیا گیا اور زمین مختلف افراد کو فروخت کر دی گئی۔بیان میںکہاگیا’’اے سی بی کو موصولہ اطلاعات کی بنیاد پر تصدیقی کارروائی شروع کی گئی، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ 1000کنال سے زائد کسٹوڈین زمین جعلی احکامات کی بنیاد پر بے گھر افراد کو الاٹ دکھائی گئی، حالانکہ وہ اضافی زمین کے حقدار نہیں تھے۔ یہ سب زمین مافیا/فارم الف ہولڈرز نے ریونیو محکمہ کے افسران و اہلکاروں کی ملی بھگت سے دھوکہ دہی کے ذریعے حاصل کی۔اسی بنیاد پر اے سی بی نے 24مقدمات درج کیے تھے جن کی تحقیقات جاری ہے۔ مزید تصدیق کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ پاکستان (پاک/پی او کے) سے آئے ہوئے بے گھر افراد کو پہلے ہی زمین الاٹ کی جا چکی تھی، اس کے باوجود ان کے رشتہ داروں نے، جو فارم الف ہولڈرز تھے، متعلقہ پٹواریوں، گرداوروں، نائب تحصیلداروں اور تحصیلداروں کی ملی بھگت سے آر ایس پورہ اور دومانہ علاقوں میں اضافی زمین کی منتقلی اپنے نام کروا لی، یا تو بغیر کسی سرکاری/پی آر او حکم کے یا جعلی احکامات کے ذریعے‘‘۔ترجمان نےمزید کہا کہ تصدیق کے دوران یہ بھی پایا گیا کہ پی آر او دفتر کی جانب سے اس طرح کی زمین الاٹمنٹ کے کوئی احکامات جاری ہی نہیں کیے گئے تھے۔ ان افراد نے زمین اپنے نام منتقل کروا کر اسے براہ راست یا اپنے ایجنٹوں کے ذریعے دھوکہ دہی سے فروخت کر دیا، جس سے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔بیان میں مزید کہاگیا’’چونکہ ابتدائی طور پر مجرمانہ عناصر/زمین مافیا/فارم الف ہولڈرز اور ریونیو محکمہ کے افسران کے درمیان ملی بھگت ثابت ہوئی، جنہوں نے تقریباً 20کنال 9مرلہ کسٹوڈین زمین کو دھوکہ دہی سے منتقل کیا، اس لیے اے سی بی نے اب مزید 3ایف آئی آر پولیس سٹیشن اے سی بی سنٹرل جموں و کشمیر میں درج کئے۔ ان مقدمات میں انسداد بدعنوانی ایکٹ، مجرمانہ سازش، دھوکہ دہی، جعلسازی اور فراڈ کی دفعات کے تحت گہرائی سے تحقیقات کی جائے گی‘‘۔ملزمان میں (1) وریام سنگھ ولد شالو رام ساکن کوٹلی بھگوان سنگھ (کٹو چک)، تحصیل آر ایس پورہ، ضلع جموں (سابق پٹواری)، (2) بالک رام ولد آنجہانی بوٹی رام ساکن توترے، تحصیل آر ایس پورہ، جموں (سابق نائب تحصیلدار)، (3) موہن سنگھ ولد بھگوان سنگھ ساکن نانک نگر جموں، (4) پریم سنگھ ولد چورو رام ساکن بگن، تحصیل بلاور، کٹھوعہ (سابق پٹواری)، (5) بھارت بھوشن مہرا ولد ہربنس لال ساکن مامکا، آر ایس پورہ جموں، (6) راہل کائی ولد آنجہانی دیپ راج ساکن مکان نمبر 39، نیو کمپنی باغ کینال روڈ جموں (سابق پٹواری)، (7) ثاقب سلیم ولد سلیم احمد ساکن مجھیر، تھنہ منڈی راجوری (سابق تحصیلدار)، (8) ست پال ولد نانک چند ساکن گڈی گڑھ جموں اور دیگر شامل ہیں۔