جموں//نمازجمعہ کے بعدمسلمانان جموں نے ہیرانگر کٹھوعہ کے رسانہ کی آٹھ سالہ کمسن بچی کی عصمت دری اورقتل معاملے کے ملزمان کوکیفرکردارتک پہنچانے کے مطالبے کولے کرتالاب کھٹیکاں، جامع مسجدپل توی اورجامع مسجداُستادمحلہ کے باہراحتجاجی مظاہرہ کرنے کے علاوہ شام کے وقت پریس کلب کے باہرطلباء نے کینڈل مارچ بھی نکالا۔اس دوران مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مسلم قائدین نے حکومت سے کٹھوعہ عصمت ریزی وقتل معاملہ کی تحقیقات کی چارج شیٹ درج کرانے میں کرائم برانچ کاراستہ روک کرروڑے اٹکانے والے اورملزمان کی حمایت کرنے والے کٹھوعہ اورجموں کے وکلاء کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے ساتھ ساتھ انتہائی سنجیدہ نوعیت کے معاملہ کوفرقہ وارانہ رنگت دینے والے حکومت کے وزراء لعل سنگھ اور چندرپرکاش گنگاکو کابینہ سے بے دخل کرنے کامطالبہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق نمازجمعہ کی ادائیگی کے بعدمسلمانان جموں نے مختلف مقامات پراحتجاجی مظاہرے کئے ۔اس دوران مقررین نے کہاکہ جن لوگوں نیقتل و عصمت دری کے ملزمان کوبچانے کیلئے کھلے طورپراحتجاجی ریلیاں نکالیں اورتحقیقات میں رخنہ ڈالاان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے۔انہوں نے کہاکہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ آٹھ سالہ معصوم بچی کی عصمت ریزی اورقتل کیس میں وکلاء ملزمان کی حمایت کرکے جموں بندکرواتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ بارایسوسی ایشن جموں کی ہڑتال ہندوستان کی تاریخ کاسیاہ ترین دن تھا۔انہوں نے کہاکہ وکلاء کوکم ازکم یہ خیال رکھناچاہیئے تھاکہ اس کیس کی تحقیقات کی نگرانی عدالت عالیہ کررہی ہے لیکن اس کے باوجودمعاملہ کوفرقہ وارانہ بنیادپردیکھ کرتحقیقات کے عمل میں اڑچنیں پیداکرنے کی کوششیں کیں۔ انہوں نے حکومت کوکسی دبائومیں نہیں آناچاہیئے اورآصفہ عصمت دری اورقتل سانحے کے ماسٹرمائنڈاوردیگرملزمان کوسزادلانے کیلئے سنجیدگی سے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ مقررین نے متاثرہ بچی کی وکیل کوبارایسوسی ایشن کے صدرکی دھمکیوں پربھی تشویش کااظہارکیا۔انہوں نے کہاکہ انسانیت سوزواقعے کوسیاسی اورفرقہ وارانہ رنگ دینے کیلئے ہندوایکتامنچ کاقیام عمل کرکے ملزمان کوبچانے کیلئے ترنگاجھنڈااُٹھاکر ریلیاں نکالنے والوںکے خلاف جھنڈے کی توہین کامعاملہ درج ہوناچاہیئے۔انہوں نے کہاکہ متاثرہ کوانصاف دلانے کی بجائے ملزمان کوبچانے کیلئے بارایسوسی ایشن اوردیگرفرقہ پرستوں کی انسانیت مخالف مہم موجودہ سماج کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ادھرکٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس پر خطہ پیر پنچال کے مختلف مقامات پر جمعہ کے روز احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔ مظاہرین نے مجرموں کو کڑی سزا دینے کی مانگ کرتے ہوئے بھاجپا وزراء اور مجرموں کی حمایت کرنے والے وکلاء کے خلاف بھی کارروائی پر زور دیا ۔ انہوںنے کہاکہ بھاجپا وزراء کو برطرف کیاجائے جبکہ وکلاء کے لائسنس منسوخ کئے جائیں کیونکہ ان کے اقدامات کی وجہ سے جہاں مجرموں کو حوصلہ افزائی ملی ہے وہیں ریاست کا بھائی چارہ اور امن بھی خطرے میں پڑ گیاہے ۔اس سلسلے میں راجوری ، کوٹرنکہ ، منجاکوٹ ، منڈی ، مینڈھر ، سرنکوٹ ، پونچھ و دیگر مقامات پر احتجاج کیاگیااور ریلیاں بھی نکالی گئیں ۔پونچھ میں ائمہ مساجد کی قیادت میں احتجاج ہواجس میں بڑی تعداد میں لوگوںنے شرکت کی ۔ اسی طرح سے منڈی میں بھی ائمہ مساجد کی قیادت میں ریلی نکالی گئی ۔ پونچھ میں سیول سوسائٹی کی طرف سے بھی احتجاج کیاگیا۔پونچھ کی تحصیل سرنکوٹ میں سیول سوسائٹی جبکہ مینڈھر میں نیشنل کانفرنس کی طرف سے احتجاج اور ریلی نکالی گئی ۔ وہیں راجوری میں ائمہ مساجد کی قیادت میں احتجاج ہوا جبکہ کوٹرنکہ کے لوگوںنے بھی احتجاج کیا ۔