کیف حسن زیدی
جموں //جموں شہر میں کرسمس کا تہوار انتہائی جوش و خروش، مذہبی عقیدت اور باہمی بھائی چارے کے ماحول میں منایا گیا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں واقع گرجا گھروں کو خوبصورت روشنیوں، رنگ برنگی سجاوٹ اور کرسمس کے روایتی علامات سے آراستہ کیا گیا، جس سے پورا شہر تہوار کے رنگ میں رنگا نظر آیا۔سینٹ میری چرچ گاندھی نگر کے ساتھ ساتھ اور دیگر گرجا گھروں میں خصوصی دعائیہ اجتماعات کا اہتمام کیا گیا، جہاں بڑی تعداد میں مسیحی برادری کے افراد نے شمعیں روشن کر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کی خوشی منائی اور امن، محبت اور خوشحالی کے لیے دعائیں کیں۔ خواتین اور نوجوانوں کو شمعیں روشن کرتے ہوئے اور دعاؤں میں مشغول دیکھا گیا، شمعوں کی نرم روشنی، دعا میں جھکے ہوئے چہرے اور عبادت گاہ کا پُرسکون ماحول اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کرسمس صرف ایک تہوار نہیں بلکہ امن، بھائی چارے اور انسانیت کی خدمت کا پیغام ہے۔ موم بتیوں کی قطاریں امید کی کرن بن کر جلتی نظر آتی ہیں، جو دلوں کو جوڑنے اور معاشرے میں ہم آہنگی کو فروغ دینے کی علامت ہیں۔شہر کے عوامی مقامات پر کرسمس کی خصوصی سرگرمیاں دیکھنے کو ملیں۔جموں کے ہر ایک چرچ کے باہر کا منظر کسی میلے سے کم نہ تھا۔ جہاں ایک طرف لوگ یادگاری تصویریں اور سیلفیاں لے رہے تھے، وہیں دوسری طرف بچے صابن کے بلبلوں اور غباروں کے ساتھ کھیلتے نظر آئے۔ فضا میں ہر طرف’میری کرسمس‘کی گونج سنائی دے رہی تھی۔چرچ آنے والے لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ تہوار صرف ایک مذہب تک محدود نہیں بلکہ یہ پیار، محبت اور ایک دوسرے کے ساتھ خوشیاں بانٹنے کا نام ہے۔شہر کے تمام چرچ میں شہریوں نے اپنی نیک تمنائیں تحریر کیں، جن میں ملک میں امن، خوشحالی، بھائی چارہ اور بہتر مستقبل کی دعائیں شامل تھیں۔ بچوں اور نوجوانوں نے تہوار کے اس پرمسرت موقع پر مختلف تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لیا، جب کہ رنگین غبارے، روشنیوں اور موسیقی نے ماحول کو مزید خوشگوار بنا دیا۔گرجا گھروں کے اطراف سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، تاکہ تہوار پُرامن انداز میں منایا جا سکے۔ انتظامیہ کی جانب سے صفائی، ٹریفک اور دیگر سہولیات کا بھی خاص خیال رکھا گیا۔ سخت سردی کے باوجود بچوں اور بڑوں کا جوش دیدنی ہے، جہاں لوگ سانٹا کلاز کے روپ میں بچوں میں تحائف تقسیم کر رہے ہیں اور ہر طرف “میری کرسمس” کی گونج سنائی دے رہی ہے۔مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے ایک دوسرے کو کرسمس کی مبارکباد پیش کی، جو جموں کی گنگا جمنی تہذیب اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی خوبصورت مثال ہے۔