منڈی/مینڈھر//تین روز کی شدید گولہ باری کے بعد جمعرات کو حد متارکہ پر سکوت رہا جس سے متاثرہ دیہات کے لوگوں نے بھی راحت کی سانس لی۔اگر چہ لوگوں کے اذہان میں خوف اور خدشات ہیں کیونکہ کسی کو معلوم نہیں کہ کب اچانک گولہ باری پھر سے شروع ہوجائے لیکن فی الحال ان تین دنوں تک اپنے گھروں میں محصور رہنے کے بعد انہوںنے اپنا روز مرہ کا معمول دوبارہ شروع کر دیاہے ۔واضح رہے کہ گزشتہ تین روز سے ضلع پونچھ کے سرحدی علاقوں میں ہند پاک افواج کے درمیان شدید گولہ باری کا تبادلہ ہوا جس کی وجہ سے کئی انسانی جانیں بھی ضائع ہوئیں اور کئی لوگ زخمی ہوئے جبکہ مال مویشیوں کی ہلاکتیں بھی ہوئیں۔منڈی کا ساوجیاں سیکٹر بھی فائرنگ اور گولہ باری کی لپیٹ میں رہا۔ساوجیاں کے عبدالحمید نامی شخص کاکہناہے کہ اگر چہ جمعرات کو دونوں ملکوں کی افواج کی بندوقیں خاموش رہیں مگر یہ پتہ نہیں کہ کب پھر ان بندوقوں کے دہانیں کھل جائیں۔ شدید گولہ باری کو مد نظر رکھتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے ضلع کے تمام سرحدی علاقوں کے تعلیمی اداروں میں تعطیلات کا اعلان کیا ہے تاکہ اس دوران مزیدکسی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔مینڈھر بالاکوٹ کے محمد شکیل اور ظہیر خان و دیگر ان نے ضلع انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس وقت تک ایس ڈی ایم مینڈھر کے علا وہ کسی بھی اعلیٰ افسر نے علا قہ کا دورہ نہیں کیا۔ انہو ں نے کہا کہ افسوسناک بات ہے کہ یہاں ایک شہری ہلاکت ہوئی اور دو لوگ زخمی ہوئے لیکن انتظامیہ سوئی رہی ۔ان کاکہناہے کہ حکومت کی طرف سے تو محض وعدے ہی کئے جاتے ہیں لیکن ان کی زندگی کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ہنوز کوئی اقدام نہیں کیاگیا اور بنکروں کی تعمیر بھی ایک خواب بن کر رہ گیاہے ۔ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ طارق زرگر نے کشمیرعظمیٰ کو بتایاکہ انہوںنے گولہ باری کی وجہ سے کسی بھی حالت سے نمٹنے کے لئے تمام تر انتظامات کر رکھے ہیں۔ ان کے مطابق سب ڈویژن مینڈھر ، حویلی اور منڈی میں صدرمقام پر سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لئے سرکاری عمارتیں ، کھانے پینے اور دوسری اشیائے ضروریہ کا انتظام رکھاگیاہے ۔تاہم ڈپٹی کمشنر نے کہاکہ کچھ لوگ گھروںسے نکلنا ہی نہیں چاہتے ۔انہونے کہاکہ انہوں نے تمام ایس ڈی ایمز اور تحصیلداروں کو لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت دی ہے مگر لوگوں نے کہا ہے کہ وہ اپنے مال مویشیوں کو چھوڑ کر نہیں آ سکتے۔ ضلع ترقیاتی کمشنر نے مزید کہا کہ انتظامیہ نے سرحدی علاقوں کے تعلیمی اداروں کو بند رکھا ہے اور جمعرات کو کسی بھی علاقہ سے گولہ باری کی کوئی بھی خبر نہیں آئی۔انہوںنے کہاکہ تعلیمی اداروں کو کھولنے کے بارے میں فیصلہ حالات کو دیکھ کر کیاجائے گا۔