جموں// توہین قر آن کے خلاف بعد نماز جمعہ چناب اور پیر پنچال خطوں میں عوام نے جم کر احتجاج کیا اور ریلیاں نکال کر مجروج جذبات کا نہ صرف اظہار کیا بلکہ نعرے بازی کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ میں قر آن کی آیات ہذف کرنے کی عرضی خارج کرکے وسیم رضوی کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈوڈہ
نامہ نگار اشتیاق ملک کے مطابق 'توہین قرآن اقدام' کے خلاف ڈوڈہ ضلع کے مختلف مقامات پر نماز جمعہ کے موقع پر پر امن جلوس نکالے گئے۔ ڈوڈہ، بھدرواہ، ٹھاٹھری و گندوہ بھلیسہ میں نماز جمعہ کے موقع پر ا یمہ مساجد و علماء کرام نے شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے درمیان فتنہ کی آگ بھڑکانے کی سازش قرار دیا۔ انہوں نے حکومت و عدالت عظمیٰ سے ایسے شرپسند و اسلام دشمن عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹھاٹھری ،ملکپورہ بھلیسہ ،بھدرواہ میں بعد نماز جمعہ پر امن جلوس نکالے گئے جس دوران مظاہرین نے 'پھانسی دو پھانسی دو، رضوی کو پھانسی دو' بولو بولو کیا چاہیے، گستاخ قرآن کا سر چاہیے'کے نعرے بلند کئے۔مقررین نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت پر ہمیں یقین ہے کہ وہ اس قسم کی کسی بھی درخواست کو نہ صرف رد کریں گے بلکہ درخواست گذار کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لانے کے احکامات جاری کئے جائیں گے۔ملکپورہ بھلیسہ میں امام جامع مسجد کی قیادت میں احتجاجی جلوس سے سماجی کارکن محمد حنیف ملک، مولانا مظفر، ظفراللہ ملک و فرید احمد وانی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا وہیں ٹھاٹھری میں امام مرکزی جامع مسجد مولانا شفقت حسین و صدر مسجد کمیٹی عبدالمجید بٹ نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا۔
بانہال
نامہ نگار محمد تسکین کے مطابق نماز جمعہ کے موقع پر قرآن کی توہین کے مرتکب وسیم رضوی کے خلاف قصبہ بانہال اور رام بن میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے اور اسلام کے حق میں نعرے بلند کئے۔نماز جمعہ کے فوراً بعد مرکزی جامع مسجد کے باہر لوگوں کی ایک بڑی تعداد جموں سرینگر شاہراہ پر جمع ہوگئی اور قرآن کی آیات کے خلاف وسیم رضوی کے آہانت آمیز مطالبہ پر احتجاج کیا۔ مقررین نے آہانت قرآن میں ملوث وسیم رضوی کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وہ وسیم رضوی کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کرے۔ اس دوران رام بن میں جامع مسجد قدیم کے ساتھ فورلین شاہراہ کی زد میں آئے مدرسہ قاسم العلوم رامبن کی نئی عمارت کی بنیاد ڈالنے کے موقع پر وسیم رضوی کے قرآن کے متعلق توہین آمیز کلمات کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ایک پرامن احتجاج کیا گیا اور اسلام کی سربلندی کے نعرے بلند کئے گئے۔ مقررین نے ریاستی اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امن اور آپسی بھائی چارے کا درس دینے والے قرآن کی توہین کرنے والے شخص کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔
راجوری
نامہ نگارسمت بھارگو کے مطابق قرآن کریم کی مقدس کتاب کے بارے میں وسیم رضوی کے قابل اعتراض تبصرہ کے خلاف ناراضگی کے طور پر ضلع راجوری کے راجوری ، تھنہ منڈی ،بدھل اور منجاکوٹ میں احتجاج کیا گیا اور مظاہرین نے رضوی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ راجوری میں مظاہرین نے ایک احتجاجی مارچ نکالا جو طلاب والی مسجد سے شروع ہوا اور مرکزی قصبے سے گزرا جس کے دوران مظاہرین نے اسلام نواز نعرے بازی کی اور وسیم رضوی کے تبصرے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور لوگوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے معاملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآن پاک اللہ تعالی کی کتاب ہے اور جو بھی اس پر انگلیاں اٹھاتا ہے وہ معاشرے کو تقسیم کرنے کے لئے تلے ہوئے عناصر کے اشاروں پر ناچ رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وسیم رضوی کی جانب سے معزز عدالت میں دائر درخواست کو خارج کیا جائے اور اْس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اسی طرح تھنہ منڈی سب ڈویژن کی تھنہ منڈی و عظمت آباد مساجد اور کوٹرنکا سب ڈویژن کی بدھل میں واقع مسجد میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے جہاں مظاہرین نے احتجاجی ریلیاں بھی نکالیں۔اُدھرنامہ نگارپرویز خان کے مطابق منجاکوٹ میں عوام نے جم کررضوی کے خلاف نعرے بازی ۔خطیب جامع مسجد منجاکوٹ نے عدالت عظمی سے اپیل کی کہ فورا ًایسے ناپاک شخص کی عرضی خارج کریں اور اس کو کیفر کردار تک پہنچائیں تاکہ آیندہ کوئی بھی شخص اس ہندوستان کی خوشگوار فضا کو زہر سے مسموم نہ کرے نیز اسکی تفتیش کریں کہ کن لوگوں کے اشارے پر ایسی حرکتیں ہورہی ہیں۔
سرنکوٹ
نامہ نگاربختیار حسین کے مطابق سرنکوٹ کی تمام مرکزی جامع مساجد میں وسیم رضوی کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیاکہ جس نے مسلمانوں کی معتبرک کتاب القران مجید کی عظمت کے خلاف اور القران مجید کی آیتوں کا انکار کر کے عرضی دائر کی ہے،اس پر دنیا بھرکے مسلمان سراپا احتجاج ہیں۔ علماء کا کہنا تھا کہ قرآن کی عظمت پر حملہ مسلمانوں کے ایمان پر حملہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ وسیم رضوی کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور اس کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی کسی مذہبی جذبات کو مجروح نہ کر سکے۔