بلا شبہ انسان کا دماغ ہی پورا انسان ہے۔قدرت نے دماغ کو دل سے اونچی جگہ دی ہے۔بعض اوقات اکثر لوگوں کے دِلوںمیں بْرے خیالات آتے ہیں مگر سلیم عقلیںاْنہیںبْرائیوں سے باز رکھتی ہیں، اس لئے جذبات کو ہر حالت میں تمیز کے تابع رکھنا لابد ہے اور ہوش مند وہی ہوتاہے جو مصیبت وپریشانی کے وقت دِل اور دماغ پر قابو رکھتا ہے اور دانشمندی کے ساتھ حال کا صحیح ادراک کرکے وقت کے ساتھ چلتا رہتا ہے۔ماہرین بھی معترف ہیں کہ انسانی جسم میں تقریباً 80 فیصد بیماریاں دماغ سے ہی پیدا ہوتی ہیںکیونکہ دماغ جیسا سوچتا ہے انسان ویسا ہی بن جاتا ہے، گویاانسان کے لئے اپنے ’دِل‘ اور ’دماغ‘کو ہر وقت نیک ،مثبت اور اچھے کاموں میں مشغول رکھنا ضروری ہے۔ہم سب کے دل اور دماغ میں بہت سی طاقتیں سوئی ہوئی ہیں جن کوہم اپنی باہمی رفاقت ،مروت ،ہمدردی اور حوصلہ افزائی سے جگا سکتے ہیںاورایک دوسرے کو ضعف میں مبتلا ہونے سے بچا سکتے ہیں۔
قارئین کرام!شائد آپ کی نظروں سے وہ فکر انگیزباعثِ تشویش رپورٹ گذری ہوگی جو رواں ماہ ’ کشمیر عظمیٰ ‘کے 3جون کے شمارے میں صفحہ اول پر شائع ہوئی تھی کہ’’ وادیٔ کشمیر میں طویل عرصہ سے جاری نا مساعد صورت حال کے ساتھ ساتھ اب کورونا قہرکے خوف ،لاک ڈاون ،بندشوں اور روز گار کے چھِن جانے سے یہاں کے لوگوں میں ذہنی امراض کا گراف بڑھتا چلا جارہا ہے۔رپورٹ میں ماہرین کے حوالے یہ چونکا دینے والا اعداد و شمار پیش کیا گیا ہے کہ 18لاکھ کشمیری جو یہاں کی آبادی کا 45فیصدحصہ ہے، میں ذہنی امراض کی علامتیںموجود ہیں جبکہ 16لاکھ بالغان ڈپریشن کا شکار ہیں۔رپورٹ میںمعالجین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر حکومت ِ وقت اس معاملے کا بر وقت سنجیدہ نوٹس نہیں لیتی تو وقت گذرنے کے ساتھ ذہنی امراض کا یہ معاملہ خوفناک صورت اختیا ر کرسکتا ہے‘‘۔
بے شک کشمیر دنیا کا وہ واحدخطہ ہے جو گذشتہ اوررواں صدی کے طویل ترین لاک ڈائون کا سامنا کررہا ہے۔پچھلے اکتیس برسوںسے اس خطے میں لوگوں کی زندگی اپنے حقِ مطالبات کی حصولیابی کے جرم میں عذاب بنا دی گئی ہے اور اب رواں عالمی وبا’ کورونا وائرس‘ نے بھی ان کے عذاب میں مزیداضافہ کردیا ہے۔ظاہر ہے کہ اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس سے نمٹنے میں مصروف ہے۔تقریباً تمام ممالک اس وبا کا شکار ہو چکے ہیں ،قریباً 38لاکھ لوگوں کی جانیں اس بیماری کی نذر ہوچکی ہیں اور کروڑوں لوگ اس وبائی بیماری میں مبتلا ہیں۔ بڑے پیمانے پرانسانی جانوں کے اتلاف ، مریضوں کے لئے شفا خانوں کی کمی ،ادویات اور دیگر طبی سازو سامان کی نایابی ،اقتصادی و معاشرتی بدحالی کے علاوہ بعض ملکوں میں حکمرانوں کی نااہلی وبدنظمی نے لوگوں کو انتہائی خستہ و شکستہ حال بناکے رکھ دیا ہے۔خاص طور پر امریکہ اوربرازیل کے بعد اب بھارت میںلاحدناقص انتظامی صورت حال پر اب پوری دنیا حیرت زدہ بھی ہے۔
یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وادیٔ کشمیرایک ایسا خطہ ہے، جہاں کے عوام کے شب و روز میں پچھلے اکتیس برسوں سے غیر یقینی صورت حال میں گذر رہے ہیں۔ستم بالائے ستم کہ کرونا وائرس نے بھی اس خطے میں اپنے پنجے گاڑدیئے ہیںجس کے نتیجہ میںجموں و کشمیر میںچار ہزار سے زاید افراد کی جانیں تلف ہوچکی ہیںاور تین لاکھ کے قریب لوگ اس وبائی مرض سے متاثر ہوئے ہیں۔ دن بہ دن اس وبا سے جہاںمتاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلاجارہا ہے وہیں ہلاکتوں میںبھی بڑھوتری ہورہی ہے۔
کرونائی قہر نے بھی نہ صرف مختلف شعبہ ہائے زندگی جیسے سیاحت ،ٹرانسپورٹ اور دیگر تجارتی اداروںبالخصوص مزدور طبقے کا ذریعہ معاش مسدود و مفقود کردیا ہے بلکہ انہیںاپنے ہی گھروں میں ہی قید رہنے پر مجبور کردیا ہے۔ یہی وہ صورت حال ہے جس نے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو ذہنی امرا ض میں مبتلا کردیا ہے جبکہ بعض طبی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کورونا وائرس نہ صرف انسان کے پھیپھڑوں کو نشانہ بناتا ہے بلکہ انسانی دماغ کو بھی متاثر کرتا ہے۔
قارئین کرام! بے شک دماغ کی قوت مشق ہے آرام نہیں،جبکہ محتاجی دماغ کو ضعیف کردیتی ہے اور مشکلات و مصائب لوگوں کی اصول پرستی کا امتحان لیتی رہتی ہیں۔ ایک طرف جہاںکورونا کی دوسری لہر خطرناک ہونے کے باعث متقاضی ہے کہ ہر سطح پر زیادہ احتیاط کی جائے اور ایس او پیز پر سختی سے عمل کیا جائے مگر انسانی فطرت چونکہ غیرمعمولی پابندیاں قبول نہیں کرتی، اس لئے کووڈ۔19کے پھیلائو کے سوا سال سے زیادہ کے عرصے میں مکمل یا جزوی لاک ڈائون سے پریشان حال لوگوں کیلئے سماجی، معاشی، کاروباری اور ثقافتی سرگرمیوں کا جمودبے حد مشکلات کا سبب بن رہا ہے۔ یہاں کے وسائل چونکہ تمام پیداواری و کاروباری سرگرمیاں معطل کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے، اس لئے یہاں زیادہ عرصے کے دوران اسمارٹ لاک ڈائون کی حکمت عملی پر عمل کیا گیا۔مگر جب وائرس کے پھیلنے کی رفتار تیز ہوگئی تو حکومت ایک بار پھر سماجی فاصلے کی پابندیاں عائد کرنے اور لوگوں کی نقل و حرکت محدود کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔کشمیر میں اگرچہ ویکسی نیشن کا مرحلہ وار آغاز ہوچکا ہے، ضروری آلات اور بیماری سے متعلق معلومات بھی دستیاب ہیں تاہم ایس او پیز اور دیگر پابندیوں کے باعث کاروباری حلقوں اور محنت کشوں میں پریشانی و بیزاری کے آثاربالکل نمایاں ہیں۔ حکومتی اداروں،سیاسی رہنمائوں اور دینی تنظیموں سمیت صاحبان فکر پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عام لوگوں کو اس حقیقت کا احساس دلائیں کہ پابندیاں کسی کے لئے بھی پسندیدہ نہیں ہوتیں مگر انسانی جانیں بچانے کا فریضہ حکومتی اداروں ہی نہیں تمام حلقوں پر عائد ہوتا ہے۔ حکومتی فیصلے انسانی جانوں کی بقا اور ان سے تعلق رکھنے والے تمام امور میں حفاظت یقینی بنانے کے نقطہ نظر سے کئے جارہے ہیں۔ ان کی پابندی کرنا جہاں ہم سب کا فرض ہے وہاں اپنے پڑوسیوں خصوصاً غریب ہمسایوں کے مسائل پر نظر رکھنا بھی ہم سب کی دینی، اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے۔ ان سے کسی صورت روگردانی نہیں کی جانی چاہئے اورہم سب کو کورونا کا مقابلہ حوصلے ، صبر ، برداشت اور احتیاط سے کرنا ہو گا۔
اس سچ سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دنیا کا ہر شخص مشکلات و مصائب سے گھبراتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ ساری زندگی عیش و آرام سے بسر ہوجائے۔ لیکن ایسا ہونا ممکن نہیں کیونکہ یہ قدرت کا اٹل قانون ہے کہ ہر انسان اپنی زندگی میں مشکل حالات سے ضرور گزرے گا۔ لیکن کیا یہ مشکلات اور پریشانیاں انسان کے لئے صرف اذیت کا سامان ہی پیدا کرتی ہیں یا ان کے آنے کا کچھ فائدہ بھی ہوتا ہے۔اس سوال کے جواب کا اندازہ ایک عام انسان ہر گز نہیں کرسکتا۔پریشانیاں تکلیف دہ ضرور ہیںمگر دیر پا نہیں،ہر مشکل کے بعد آسانی کا آنا قدرت کا اٹل فیصلہ ہے۔مشکلات اور پریشانی کچھ کر گزرنے کے جذبات سے بھی آشنا کر دیتی ہیں۔زندگی میں پیش آنے والے ایسے معاملات یا حالات جو غور طلب ہوں اور جسے ٹھیک کئے بغیر ہم سکون سے نہ رہ سکیں یا ایسے معاملات جو ہماری روز مرّہ زندگی میںڈر،خوف، تذبذب، بے سکونی اور بے قراری کا باعث بنیں، اْنہیں ہم مشکلات یا پریشانی کا نام دیتے ہیں۔مشکلات، پریشانیاں، مصیبتیں، دْکھ، تکلیفیں،اذیتیں، آزمائشیں، ناکامیاںاور رنج و غم ہر ذی روح کی زندگی میں کبھی نہ کبھی ضرور آتی ہیں۔ہرانسان کو پیدائش سے موت تک کے سفر میں بارہا پریشانیوں ،مصیبتوںاور ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہر شخص چاہے وہ ایک ادنیٰ انسان ہو یا ایک اعلیٰ عہدیدار، عالم،فاضل یاولی کامل اْن کی زندگیوں میں لازمی پریشانیاں آتی ہیں۔پیغمبروں اور رسولوںنے حد سے زیادہ مصائب اور پریشانیاں جھیلی ہیں۔ اچھے لوگوں کی زندگیوں میں پریشانیاں زیادہ ہوتی ہیں تاکہ انکی آزمائش ہو سکے۔تکلیفیں اور پریشانیاں انسانوں کو صرف عاجزی اور انکساری ہی عطا نہیں کرتیں بلکہ یہ اْن میں خود اعتمادی کا سبب بھی بنتی ہیں۔زندگی میں ہمیں صرف کامیابیاں ہی نہیں ملتیں بلکہ اکثر رنج و غم اورناکامیوں کا منہ بھی دیکھنا پڑتا ہے جو ہمارے لئیپریشانیاں بنتی ہیں لیکن جب یہی پریشانیاں ہمیں بار بار پیش آتی رہیں تو ہم میں ان پریشانیوں سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے، ہمیں بااعتبار وبااعتماد بنا نے کا ذریعہ بنتی ہے اور ہمارے لئے خود شناسی اور خدا شناسی کا بھی سبب بنتی ہے۔اگر ہم یونہی آسانی سے اپنی ساری زندگی گزار دیں تو یقین کریں ہمیں کبھی بھی اپنی ذہنی و جسمانی صحت اور اسکی طاقت کا اندازہ ہو ہی نہ پائے۔ جب ہم بہت زیادہ پریشان ہوتے ہیں تو ہمارا دماغ اس اذیت سے نکلنے کے راستے تلاش کرنے لگ جاتا ہے۔ اس سے نمٹنے کے لئے نئی نئی راہیںڈھونڈتا رہتا ہے۔اگر ہم حقیقت سے نظریں چرانے لگ جائیں توہمارے اندر اس پریشانی سے نمٹنے کی خاطر خواہ صلاحیتیں کبھی پیدا ہی نہ ہوں۔اب اگر کسی پریشانی سے کوئی شخص ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے اور پھر وہ اس ڈپریشن سے بچنے کے لئے منشیات کا سہارا لیتا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس شخص میں اس صلاحیت کا فقدان ہے جو اسے اس پریشانی سے نکلنے میں مدد کر سکے۔لہٰذا ہر قسم کی پریشانی اور مصیبت ہمیں اپنی ذات کی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہی دیتی ہیں۔
ظاہر ہے کہ کورونا لاکھوں انسانوں کی اموات کا باعث ہی نہیں کروڑوں افراد کا روزگار ختم کرنے کی وجہ بھی بن چکا ہے اور اس کی لہریںنئے نئے اشکال میں کئی ملکوں میں ایسی تباہ کاریاںپھیلا رہی ہیںکہ روح کانپ جاتی ہے۔بھارت کی ہی حالت ِ زارپر نظر ڈالیں تو لرزہ طاری ہوجاتا ہے اور اپنے کشمیر میں تاحال کورونا پھیلائو میں کوئی ٹھہرائو نہیں آرہا ہے ،اس لئے کہا نہیں جاسکتا کہ کورونائی لہر کی انتہا گذر چکی ہے ،چل رہی ہے یا پھر ابھی آنی باقی ہے؟اس لئے اپنے دِل اور دماغ کو اچھے کاموں میں مشغول رکھو اور حد بندی سے باہر جانے کی من مانی کوششوں سے باز رہو۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں پریشانیاں کیوں آتی ہیں اسکا جواب اگر ہم قران و حدیث میں تلاش کریں تو ہم پر یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ ہماری زندگی میں پیش آنے والے تمام معاملات چاہے وہ اچھے ہوں یا بْرے ہوں، ان کا تعلق خود ہمارے اعمال سے ہوتا ہے۔ یعنی اگر ہم اچھے اعمال کرتے ہیں تو نتائج اچھے دیکھنے کو ملتے ہیں اور اگر بْرے اعمال کریں تو نتائج بْرے۔ اب بھی وقت ہے ،ذرا غور کروکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ’ تمہارا سوتا ہوا دِل اور دماغ بے دار ہوجائے کیا اتنی قابلیت بھی تم میں نہیں‘؟۔