سرینگر//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فارو ق خان نے تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں سے کہا ہے کہ وہ اَپنے اَضلاع کی قبائلی آبادی سے متعلق اَمور اور منصوبوں میں حائل رُکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے کم سے کم ہرماہ ایک میٹنگ منعقد کریں۔اُنہوں نے ان پر زور دیا کہ وہ آبادی کے مسائل کو ترجیح دیں تاکہ ان کو فوری طور ازالہ کیا جائے ۔مشیر موصوف نے سپیشل سینٹرل اسسٹنس (ایس سی اے )کے ساتھ ٹرائبل سب پلان ( ٹی ایس پی ) کے تحت ہر منصوبے اور قبائلی سب سکیموں (ٹی ایس ایس ) میں اَب تک کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔میٹنگ میں سیکرٹری قبائلی امورڈاکٹر شاہڈ اقبال چودھری ، ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگر اعجاز اسد ، ایڈیشنل پی سی سی ایف ، ناظم باغبانی ، ناظم پشو پالن ، ایم ڈی جے اینڈ کے ہائوسنگ بورڈ ، پی ڈبلیو ڈی ، جے کے پی سی سی اور سی پی ڈبلیو ڈی کے چیف انجینئر ان نے شرکت کی۔میٹنگ میں تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں اور جموں کے اَفسران نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ حصہ لیا۔مشیر موصوف نے تمام ضلع ترقیاتی کمشنر وںسے پہلے تمام زیر اِلتوأ منصوبوں کو مکمل کرنے کو کہا ۔اُنہوں نے متعدد مرکزی سکیموں یا کیپکس بجٹ کے تحت نشاندہی کی جانے والی تمام منصوبوں کے لئے جلد از جلد ڈی پی آر تیار کرنے کی ہدایت دی تاکہ آئندہ کام کے سیزن میں ان منصوبوں پر کام شروع کیا جائے ۔اُنہوں نے اَفسران پر زور دیا کہ وہ اپنے علاقوں میں اس آبادی کے لئے رہائشی سکولوں ، ہوسٹلوں ، روزگار اور آمدنی پیدا کرنے والے یونٹوں کے قیام کا جائزہ لینے کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنروں سے کہا کہ وہ خانہ بدوش آبادی کی نقل و حمل کو آسان بنائیں اور ان کے حقوق کی قانونی تحفظ دیں۔سیکرٹری قبائلی امور نے ضلع ترقیاتی کمشنروں سے کہا کہ وہ مجوزہ شکل کے مطابق منصوبوں کے ڈی پی آر مرتب کرکے پیش کریںتاکہ ان کی اِنتظامی اور تکنیکی منظور ی مل جائے ۔سیکرٹری نے ڈی سیوں سے کہا کہ جہاں بھی استقامت ہے وہاںتمام نئے رہائشی سکولوں ، ہوسٹلوں ، تحقیقی اِداروں کے لئے اراضی کی نشاندہی کی جائے ۔میٹنگ کو بتایا گیا کہ جموںوکشمری کے مختلف علاقوں میں تقریباً 27 کلسٹر گائوں تیار کئے گئے ہیں جن پر 108 کروڑ روپے کا مرکز ی حصہ خرچ کیا جانا ہے ۔اِس کے علاوہ قبائلیوں کی قابل ذکر آبادی والے 10 اَضلاع میں دودھ کے گائوں 14.40 کروڑروپے کی لاگت سے قائم کئے گئے ہیں۔اِس کے علاوہ ٹی ایس پی نے قبائیلی دیہات کو سڑک رابطے کی سہولیات ، پینے کے صاف پانی کی سہولیات ، بجلی کی سہولیات کی فراہمی پر بھی غور کیا ہے جس کے لئے ہر برس ایس سی اے کے تحت فنڈس مختص کئے جاتے ہیں تاکہ وہ ٹی ایس ایس کے حصے کے طور پر خرچ ہوں ۔ اس کا مقصد تعلیم ، صحت ، زراعت ، ہنر مندی کی ترقی ، روزگار کے ساتھ آمدنی پیدا کرنے سے آباد ی کے اس حصے کے حق میں شعبوں میں پائے جانے والے تفاوت کو ختم کرنا ہے۔