فکر وفہم
محمد ایوب بٹ
جس طرح ایک استادیاایک ڈاکٹر نے اندازہ کردیا تھا ۔چونکہ انسان اپنی مرضی اور ارادے سے اپنا راستہ چُن لیتا ہے ،اس لئے ربّ نے پہلے ہی سے اس کے اپنے اختیار سے چُنے اچھے یا بُرے اعمال کو درج کیا،اس لئے اللہ کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔یہی وجہ ہے ایک نابالغ ،نافہم بچے ،ایک مجنوں اور بے خبر سوئے ہوئے انسان کی کوئی خطا ،بُرائی لکھی نہیں جاتی ،کیونکہ وہ اپنے ارادے اور اختیار سے کچھ نہیں کرتے،نہ ایسا کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ بندے پر ظلم نہیں کرتا بلکہ بندہ اپنے اعمال سے خداسے اپنا بدلہ حاصل کرتا ہے۔قرآن کی یہ آیت (سورہ یونس۔۴۴) ،ترجمہ: ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا ،وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ بندوں پر واضح کرتا ہے کہ صراط المستقیم کی رہنمائی کے باوجود انسان اپنی مرضی سے بُرائی کا راستہ چُن لیتا ہے ،اس طرح اپنے ارادے اور اختیار کا غلط استعمال کرتا ہے ،خود ہی انسان اپنے اوپر ظلم کرتا ہے ،اسی لئےتقدیر بھی ویسی لکھی جاچکی ہے۔یاد رہے کہ اللہ کا علم کسی کے اختیار کو سلب نہیں کرتا ۔ہماری تقدیر میں کیا لکھا جاچکا ہے ،یہ تو صرف ربّ جانتا ہے ،ہم کو بالکل پتہ نہیں کہ کیا لکھا گیا ہے ،اس لئے ہمیں ہر حال میں ربّ کے حکم کی تعمیل کرنی چاہئےاور اپنے ارادے اور اختیار کا صحیح استعمال کرنا چاہئے۔صراط المستقیم کی راہ پر چلنا چاہئے۔ہمارے صدقہ و خیرات ہماری تدبیر یں،ہماری جدوجہد ،ہماری دعائیںتقدیر کو بدل سکتی ہے۔رشتہ داروں اور والدین سے حسن ِ سلوک ،دعائوں کی بدولت رزق میں کشادگی اور عمر میں برکت ہونے کی امید ہے ،مایوسی کفر ہے۔ربّ الکریم نے ہماری رہنمائی کے لئے رسولوں کو بھیجا ،آسمانی کتابوں اور قرآن کریم کو نازل کیا تاکہ ہم جان سکیں کہ اچھا کیا ہے اور بُرا کیا ہے۔۔اچھے اور بُرے کا خمیازہ انسان کو خود بھگتنا ہوگا،اس سے تقدیر اچھی طرح سے سمجھی جاسکتی ہے۔خدا کا کلام صاف صاف لفظوں میں ہم پر عنایت کرتے ہوئے ہمیں صحیح اور غلط فیصلے کا حکم سناتی ہے،یہ اب ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم کیا کریں ۔تعجب کی بات ہے کہ مقدر کو اچھی طرح ذہن نشین کرانے کے باوجود ہم مقدر کو ہی کوستے رہتے ہیں،یہ کہہ کر ایک پتّا بھی اللہ کے حکم کے بناء ہِل نہیں سکتا ،کب ہم کو ناکامی مل جاتی ہے،گو کہ ہم اس کامیابی کو اپنی محنت کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور تقدیر کو پس ِ پشت ڈالتے ہیں۔
انسان کتنا خود غرض ہے ۔بُرائی خود کرتا ہے اور الزام تقدیر پر تھونپتا ہے۔کوئی کسی کا ناحق قتل کریں اور پھر یہ کہہ دیں کہ قتل ہونا اسکی تقدیر میں لکھا تھا ،میرا کیا قصور ۔نعوذ باللہ یہ تو اللہ تعالیٰ پر تہمت ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس کام میں انسان کا اپنا ارادہ اور اختیار شامل تھا چونکہ اللہ کے علم میں پہلے سے اُس کے اختیار کا بروئے کار لانے کا ،اس لئے وہی لکھا گیا ہے جس کو انسان اپنے اختیار سے کرتا ہے۔جب انسان سے کوئی غلط کام سرزد ہوتا ہے تو اس کا ضمیر اس کی ملامت کرتا ہے۔اگر بر وقت انسان اپنے فطرت میں موجود ضمیر کی آواز سُن لیں تو وہ گناہ سے بچ جاتاہے۔لیکن اگر وہ ضمیر کی آواز کو اَن سُنی کرکے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ خود ہی اس کا ذمہ دار ہے۔قرآن کریم کی اس آیت پر غو رکریں: ترجمہَ ’’ہم نے انسان کو خیر اور شَر دونوں نمایاں راستے دکھائے۔‘‘اللہ تعالیٰ صاف صاف واضح کرتے ہیں کہ ہم نے انسان کو خیر و شَر اور بدی کے راستے سے واقف کیا ،اب یہ انسان کی اپنی مرضی ہے کہ وہ کیا اختیار کریں۔وہ خود ہی سزا یا جزا کا مستحق ہوگا۔سورہ کہف ،آیت ۳۰میں ارشاد الٰہی ہے ۔(ترجمہ ) ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کریں تو یقیناً ہم نیکو کارو لوگوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے۔‘‘رب الکریم کی نیکی کا بدلہ نیکی اور بدی کا بدلہ بدی ہوگا۔رب الکریم نیکی کو رائیگاں نہیں کرتا ۔نیکی کا بہتر صلہ ملنے کا اللہ کا وعدہ ہے۔یاد رہے انسان کی پیدائش اصل میںآزمائش کے لئے ہے۔دنیا عارضی ہے اور آخرت بقاء ہے،ہمیشہ رہنے والی۔دنیا میں اُتارو چڑھائو آتے رہیں گے ،انسان کو مصائب و تکالیف ،بیماری، نقصان ،غم و خوشی ،راحت اور کامیابی وغیرہ سے آزمایا جاتا ہے۔اسی آزمائش میں کامیابی یا ناکامی کا راز پوشیدہ ہے۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ مصائب اور مشکلات بندے کو ربّ کے قریب لاتا ہے ،اُس کی یاد تازہ کرتا ہے۔بندے کو صبر اور شکر کرتے رہنا ،انسان کے اختیار میں ہے۔صبر اور شکر ہی میں نیکی اور کامیابی پوشیدہ ہے۔محنت اور جدوجہد انسان کے اختیارمیں ہے ،نتیجہ اللہ کے اختیار میں۔یاد رہے ،ہر عمل کا درمدار انسان کی نیت پر منحصر ہے۔انسان کو اپنی عقل کا استعمال کرنا چاہئے۔سب کچھ لکھا جاچکا ہے مگر انسان کو پتہ نہیں کہ کیا لکھا جاچکا ہے۔اس لئے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے نہیں رہ سکتے۔اگر ہم سب تقدیر کا ہی انتظار کریں تو جو لکھا وہی ہوگا تو روٹی روزی کمانے کے لئے ہاتھ پائوں کیوں مارتے ہیں،حسن ِ سلوک کی کیا ضرورت ہے،نیک اور بُرے کاموں سے فکر کیوں کرتے ہیں۔یاد رہے کہ ربّ کسی بندے پر اُس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ہے،نہ بے قصور کو سزا دیتا ہے۔وہ تو رحیم اور کریم ہے۔اس نے اچھے اوربُرے کی پہچان کرنے کی صلاحیت ہم میں رکھی ہے۔اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔قرآن کی سورۃ البقرہ کی اس آخری آیات پر غور کریں: (ترجمہ )’’ اللہ تعالیٰ کسی کے نفس پر اُس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا ۔ہر اُس شخص نے جو نیکی کمائی ہے اُس کا پھل اُسی کے لئے ہےاور جو بدی سمیٹی ہے ،اُس کا وُبال اُسی پر ہے۔‘‘اس آیت کو غور سے سمجھنے کے بعد خود فیصلہ کریں کہ اللہ نے تقدیر پہلے سے کیوں لکھا ہے کہ انسان اچھا کرے گا یا بُرا کرے گا،کیونکہ اللہ نے انسان کو پوری آزادی دی ہے کہ وہ اپنے اختیار کا فیصلہ کرسکے۔انسان کی پیدائش کا مقصد صرف اور صرف معرفت ِ الٰہی و عبادت ہے۔لیکن آزمائش مشروط ہے۔اللہ نے انسان کے اختیار کی بنیاد پر سزا اور جزا مقرر کی ہے ۔دنیا کو امتحان گاہ بنایا ہے تاکہ بندے کو آزمایا جاسکے کہ وہ سکھ اور دُکھ،خوشی و غم ،مفلسی اور راحت ،حاکمی و محکومی کے دور میں اپنے اختیار کا کس طرح استعمال کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ انسان کو خبردار کیا ہے کہ نیکی کیا ہے اور بدی کیا ہے۔نیکی کا انجام کیا ہے اور بدی کا کیا۔اس لئے تقدیر اسی لحاظ سے لکھا جاچکا ہے۔اللہ کا علم وسیع ہے ،مقدر میں وہی لکھا جاچکا ہے جو انسان نے اپنے اختیار سے کیا ہو۔بہر صورت تقدیر پر مکمل ایمان رکھنا دین کا ایک اہم جز ہے ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہےکہ تقدیر پر بے جا اور فضول بحث کرنا جائز نہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیکی کی توفیق عطا کرے۔آمین
رابطہ۔9419050333