جموں //حکومت نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ بجلی کی ترسیلی لائنیں بجلی کھمبوں کے بجائے سرسبز درختوں اور لکڑی کے کھمبوں کے ساتھ بندھی ہوئی ہیں تاہم اس کیلئے حکومت نے ماضی میں اس شعبہ کو پہنچنے والے نقصان کو وجہ قرار دیا ۔بی جے پی کے ممبر اسمبلی چنانی دینا ناتھ بھگت کے سوال کے جواب میں نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ ، جن کے پاس بجلی کا قلمدان بھی ہے ،نے بتایا کہ سرسبز درختوں پر بجلی کی ترسلی لائیں باندھی گئی ہیں ۔دینا ناتھ نے دین دیال سکیم سے متعلق اپنے سوال کے تیسرے حصہ میں پوچھا کہ ’’کیا یہ حقیقت ہے کہ سر سبز درختوں کو بجلی کھمبوں کی جگہ ترسیلی لائنوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور اگر اس بات کا جواب ہاں میں ہے تو حکومت کون سے ایسے اقدمات کر رہی ہے جن سے ترسیلی نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے ۔‘‘اس سوال کے جواب میں نرمل سنگھ نے کہا ’’ہاں ماضی میں تباہی کی وجہ سے ترسیلی لائینں سر سبز درختوں اور لکڑی کے کھمبوں سے باندھی گئی ہیں۔‘‘ تاہم انہوں نے بتایا کہ حکومت نے سال 2016-17میں پرایم منسٹر ڈیولپمنٹ فنڈ کے تحت 100لاکھ روپے منظورکئے تاکہ تباہ شدہ کھمبوں اور کنڈیکڑوں کو تبدیل کیا جا سکے ۔ اسمبلی حلقہ چنانی کی تفصیل بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 959کھمبوں کو تبدیل کرنے کے ہدف میں سے ابھی تک 735کھمبوں کو تبدیل کیا گیا ہے اور مزید فنڈ دستیاب ہوتے ہی دیگر کھمبے بھی تبدیل کئے جائیں گے ۔سوال کے پہلے حصہ کے جواب میں وزیر نے بتایا کہ دین دیال سکیم کے تحت 616.59کروڑ روپے جموں کے 10کشمیر کے 9اور لداخ کے 2اضلع کیلئے منظور ہوئے ہیں جن سے 2011کی سروے کے مطابق برقی رو سے محروم کل 102گائوں کو بجلی فراہم کی جا رہی ہے ۔سروے کے مطابق کشمیر کے 26اور جموں کے 58اور لداخ کے 18گائوں بجلی سے محروم ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ ان 102گائوں میں سے 78گائوں کا اس سکیم کے تحت احاطہ کر لیا گیا ہے جن میں کشمیر کے 26،جموں کے 34اور لداخ کے 18گائوں شامل ہیں ۔وزیر کے مطابق کنٹریکٹ میں تاخیر کو دیکھتے ہوئے حکومت نے مرکزی سرکار کی طرف سے مقرر کردہ مددت کے اندر یہ کام مکمل کرنے کیلئے 60گائوں میں بجلی لگانے کا کام محکمانہ طور پر ہاتھ میں لیا ہے جن میں سے 10گائوں کو بجلی فراہم کی جا چکی ہے جبکہ 18گائوں کو پی جی سی آئی ایل کے ذریعے لیا گیا ہے ۔