سرینگر //تدریسی انتظامات کے تحت مختلف اسپتالوں میں تعینات ملازمین نے پیر کو جی ایم سی سرینگر میں خاموش احتجاج کیا ۔ تدریسی انتظامات کے تحت تعینات کئے گئے ملازمین کی ایسوسی ایشن کے صدر ہلال احمد نے بتایا کہ جی ایم سی جموں میں 550اور جی ایم سی سرینگر میں 550افراد کو دس سال قبل تعینات کیا گیالیکن 10 سال گذر جانے کے بعد ان اسامیوں پربھرتی کا عمل ایس ایس آر بی کے ذریعے شروع کیا گیا ہے‘‘۔ہلال نے بتایا کہ تدریسی انتظامات کے تحت ملازمین کو 6سال تک تعینات کرنا تھا لیکن عدالتی احکامات کے بعد یہ ملازمین پچھلے 10 سال سے تعینات ہیں۔ ہلال نے بتایا کہ 6ماہ قبل حکومت نے منظورشدہ اسامیوں کو بھرتی کیلئے ایس ایس آر بی کو روانہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے بھی پرنسپل جی ایم سی جموں اور پرنسپل جی ایم سی سرینگر کو ہدایت جاری کی تھی کہ وہ منظور شدہ اسامیوں پر مذکورہ ملازمین کی بھرتی کیلئے پالیسی ترتیب دیں لیکن کوئی پالیسی ترتیب نہیںدی گئی۔ لیفٹینٹ گورنر سے اپیل کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ ہم نے پچھلے 10سال کے دوران کئی مشکلات کا سامناکیا اور اپنے فرائض انجام دیئے ہیں اور اسلئے لیفٹینٹ گورنر سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے لئے بھرتی پالیسی ترتیب دیکر 1200پڑھے لکھے نوجوانوں کے مستقل کو بچائیں۔