سرینگر //اومپورہ بڈگام میں ایک 4سالہ بچی کی تیندوے کے حملے میں ہلاکت کے بعد خانصاحب علاقے میں ایک تیندے کو پکٹرا گیا جبکہ منگل کی شام پونچھ گنڈ بیروہ میں محکمہ وائلڈ لائف کے عملے نے تیندوے کے دو بچوں کو پکڑلیا، جس کے بعد ضلع حکام نے لوگوں کو خبردار کیا کہ دونوں بچوں کی ( ماں) آس پاس ہی ہوسکتی ہے جس سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ اس دوران اومپورہ کے آس پاس کے قریب 7علاقوں میں محکمہ وائلڈ لائف نے داچھی گام ،گاندربل اور ٹنگمرگ سے عملے کی خدمات حاصل کی ہیں ۔محکمہ جنگلی حیات کے اعلیٰ حکام نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جموں وکشمیر میں سالانہ جنگلی جانوروں کے حملوں میں اوسطاً 20افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں۔محکمہ کے مطابق جموں وکشمیر میں گذشتہ 8برسوں کے دوران 162افراد ان حملوں میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 1792زخمی ہوئے ۔محکمہ کے پاس موجود عدا د وشمار کے مطابق سب سے زیادہ حملے 2013-14میں ہوئے ، جس دوران 36لوگ ہلاک اور 401زخمی ہوئے۔سال 2012-13میں 16افراد جنگلی جانوروںکے شکارہو گئے،جبکہ 314 زخمی ہوئے۔سال 2015-16میں 26افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے، جبکہ 285افراد زخمی ہوئے۔ 2016-17میں 21افراد ہلاک اور 157زخمی ہوئے۔سال 2017-18میں 15افراد ہلاک اور 152زخمی ہوئے۔2018-19میں 12افراد ان حملوں میں ہلاک اور 131زخمی ہوئے ۔اسی طرح گذشتہ سال 2019-20میں 18افراد کی موت ہوئی اور 120افراد زخمی ہوئے۔اب موجودہ سال بھی جنگلی جانوروں کے حملے جاری ہیں۔ وادی میںمحکمہ جنگلی حیات کی وارڈن مس افشان دیو نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ وادی کے مختلف علاقوں سے انہیں پچھلے تین روز سے کافی فون کالیں موصول ہو رہی ہیں کہ وہاں پر انہوں نے بستوں میں جنگلی جانوروں کو دیکھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اومپورہ واقعہ کے بعد لوگوں میں زیادہ تشوش پائی جا رہی ہے اور لوگ سہمے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ وائلڈ لائف نے بھی وادی کے قرب وجوار میں ان جانوروں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا ہے اور ان کو پکڑنے کی کوششیں جاری ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بیروہ سے تندوے کے دو بچوں کو پکڑا گیا ہے جبکہ ان کی ماں کے آس پاس ہونے کے خدشات ہیں اور محکمہ نے لوگوں کو احتیاط برتنے کی تلقین کی ہے ۔انہوں نے کہا اومپورہ واقع کے بعد 7مقامات پر عملے کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی صورتحال سے نپٹا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں تیندوں کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے اور بدقسمتی سے یہ کبھی کبھار بستوں میں بھی داخل ہو جاتے ہیں ۔