عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی (بی جی ایس بی یو) راجوری میں ضلعی انتظامیہ راجوری اور اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار آرٹس (آئی جی این سی اے) کے اشتراک سے فاؤنڈرز پارک میں ایک شاندار قبائلی لوک موسیقی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب کا افتتاح ڈپٹی کمشنر راجوری ابھشیک شرما نے کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں قبائلی برادریوں کی قدیم اور قیمتی ثقافت کے تحفظ اور فروغ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تقریبات نہ صرف قبائلی طرزِ زندگی اور موسیقی روایات کو زندہ رکھتی ہیں بلکہ نوجوان نسل کو اپنی جڑوں سے جوڑنے کا بھی بہترین ذریعہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ روایتی قبائلی کھیلوں کو فروغ دے کر نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھا جا سکتا ہے، جس سے وہ منفی رجحانات خصوصاً منشیات سے دور رہ سکتے ہیں۔اس موقع پر روایتی قبائلی کھیلوں جیسے ’بینی‘ اور ویٹ لفٹنگ کے مقابلے بھی منعقد کیے گئے، جن میں نوجوانوں نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔تقریب میں مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے معلوماتی اور نمائشی اسٹالز بھی قائم کیے گئے، جن میں سیلف ہیلپ گروپس، ہینڈلوم و ہینڈی کرافٹس، شیپ و اینیمل ہسبنڈری، سوشل ویلفیئر، فشریز، صحت و طبی تعلیم/آیوش، صنعت، سیاحت، زراعت، باغبانی و شہد کی مکھیوں کی پرورش، جنگلات، وائلڈ لائف اور محکمہ تعلیم شامل تھے۔پروگرام کی دلکشی بڑھانے کے لیے محکمہ سیاحت نے ایک روایتی قبائلی جھونپڑی تیار کی، جبکہ بی جی ایس بی یو کے طلباء نے مٹی کا گھر بنا کر قبائلی طرزِ تعمیر کو خوبصورتی سے پیش کیا۔ اس کے علاوہ ایک اوپن ایئر میوزیم بھی قائم کیا گیا، جس میں مٹی کے برتن، لکڑی کے ہل اور تنکے سے بنی نشستیں نمائش کے لیے رکھی گئیں۔طلباء کی جانب سے پیش کیے گئے ڈرامہ اور اسکیٹ میں قبائلی زندگی، شادی بیاہ کی رسومات اور روایتی اقدار کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا۔ثقافتی پروگرام میں گوجر اور پہاڑی برادریوں سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے اپنی دلکش آوازوں اور روایتی موسیقی کے ذریعے حاضرین کو خوب محظوظ کیا۔تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔ آخر میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے شرکاء کو اعزازات سے نوازا گیا۔