ایجنسیز
ہیگ//وزیرِ اعظم نریندر مودی جمعہ (15 مئی 2026) کو اپنے پانچ ملکی دورے کے دوسرے مرحلے کے تحت نیدرلینڈز پہنچ گئے، جہاں وہ اپنے ڈچ ہم منصب روب جیٹن کے ساتھ تجارت، ٹیکنالوجی، دفاع اور قابلِ تجدید توانائی جیسے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بات چیت کریں گے۔وزیرِ اعظم مودی کا ایئرپورٹ پر استقبال ریئر ایڈمرل لْڈگر برومیلار، جو بادشاہ معظم کے فوجی امور کے سربراہ اور ایڈجوٹنٹ جنرل ہیں، ڈچ وزیر خارجہ ٹام برینڈسن، اور نیدرلینڈز میں بھارت کے سفیر کمار توہن نے دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ کیا۔وزیرِ اعظم نے اپنی آمد کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا،’’میں ایمسٹرڈیم پہنچ گیا ہوں۔ نیدرلینڈز کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بھارت اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے نے تجارت اور سرمایہ کاری کے روابط کو بڑی تقویت دی ہے‘‘۔ مودی نے کہا کہ وہ وزیرِ اعظم جیٹن کے ساتھ ملاقات کریں گے اور بادشاہ ولیم الیگزینڈر اور ملکہ میکسیما سے بھی ملاقات کریں گے۔نیدرلینڈز کے دورے کے دوران ہفتہ کے روز بھارتی تارکینِ وطن کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے دی ہیگ کو ’’بھارتی دوستی کی ایک زندہ علامت‘‘قرار دیا۔اپنے دو روزہ دورے کے دوران وزیرِ اعظم مودی معروف کاروباری رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔بھارتی کمیونٹی کی توانائی، جوش و جذبے اور زندگی کو بھرپور انداز میں منانے کے جذبے کو سراہتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ تاریخ میں کئی تہذیبیں مٹ گئیں، مگر بھارت کی متنوع ثقافت آج بھی اس کے عوام کے دلوں میں دھڑک رہی ہے۔اپنی تقریر کا آغاز’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعروں سے کرتے ہوئے مودی نے کہا،’’اتنی محبت اور جوش و خروش ہے کہ کچھ لمحوں کے لیے مجھے لگا ہی نہیں کہ میں نیدرلینڈز میں ہوں، ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے بھارت میں ہی کوئی تہوار منایا جا رہا ہو۔‘‘انہوں نے دی ہیگ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا،’’دی ہیگ کو ‘امن اور انصاف کا شہر’ کہا جاتا ہے، لیکن آج یہاں کا ماحول دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ بھارتی دوستی کی ایک زندہ مثال بن گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاسپورٹ کا رنگ، پتہ اور ٹائم زون بدل سکتا ہے، مگر ‘ماں بھارتی’ کے بچے جہاں بھی رہیں، ان کا جوش، ولولہ اور زندگی منانے کا جذبہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔‘‘وزیرِ اعظم نے اپنے سابقہ دوروں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ نیدرلینڈز میں آباد بھارتیوں کے ساتھ ان کا گہرا جذباتی تعلق رہا ہے۔
انہوں نے کہا،’’یہاں موجود خاندانوں کی کہانی صرف ہجرت کی نہیں بلکہ ثقافت، ورثے اور مشکلات کے باوجود ترقی کی داستان ہے۔ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ دو سمندر پار کرنے کے بعد بھی بھارتی شناخت برقرار رہے گی۔‘‘مودی نے مزید کہا کہ جب بھی وہ ماضی میں ڈچ رہنماؤں سے ملے، انہوں نے ہمیشہ بھارتی کمیونٹی کی تعریف کی۔آپ نیدرلینڈز کی معیشت اور معاشرے میں جو کردار ادا کر رہے ہیں، وہ ہر بھارتی کے لیے فخر کا باعث ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ بھارتیوں کے آباؤ اجداد جسمانی طور پر وطن چھوڑ گئے، لیکن وہ اپنی روایات، یادیں اور اقدار اپنے ساتھ لے گئے۔’’وقت کے ساتھ کئی ثقافتیں ختم ہو گئیں، مگر بھارت کی متنوع ثقافت آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ نسلیں، ممالک اور حالات بدل گئے، مگر خاندانی اقدار اور وابستگی کا احساس نہیں بدلا۔‘‘وزیرِ اعظم نے نیدرلینڈز میں بھارتی کمیونٹی کے ریڈیو اسٹیشنز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارمز بھارتی موسیقی اور ثقافت کو فروغ دے رہے ہیں اور نئی نسل کو اپنی روایات سے جوڑے رکھ رہے ہیں۔انہوں نے 16 مئی 2014 کے لوک سبھا انتخابات کو یاد کرتے ہوئے کہا،’’آج سے بارہ سال پہلے اسی دن ایک تاریخی لمحہ آیا تھا جب ایک مضبوط اکثریتی حکومت بنی۔ اس دن سے لے کر آج تک عوام کے اعتماد نے مجھے رکنے یا تھکنے نہیں دیا۔‘‘اپنی عوامی زندگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا،’’آپ سب میرا خاندان بن چکے ہیں۔ میں نے ‘میں’ سے ‘ہم’ کا سفر اختیار کیا ہے اور آپ کی دعاؤں کے ساتھ خدمت جاری رکھے ہوئے ہوں۔‘‘انہوں نے کہا کہ بطور وزیرِ اعلیٰ 13 سال اور وزیرِ اعظم 12 سال کا سفر عوام کی مسلسل حمایت کے بغیر ممکن نہ تھا۔یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ میرے لیے ایک عظیم سرمایہ ہے۔بھارت کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ ملک اب صرف تبدیلی نہیں بلکہ بہترین اور تیز ترین ترقی کا خواہاں ہے۔انہوں نے کہا،’’بھارت میں خواہشات لامحدود ہیں اور کوششیں بھی بے حد ہیں۔‘‘انہوں نے نوجوانوں کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسٹارٹ اپس، سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت اور ڈرون ٹیکنالوجی میں بھارتی نوجوان نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں، اور بھارت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بن چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اس وقت “غیر معمولی تبدیلی” کے دور سے گزر رہا ہے اور آیوشمان بھارت کے تحت دنیا کی سب سے بڑی سرکاری ہیلتھ انشورنس اسکیم چل رہی ہے۔اس سے قبل بھارتی کمیونٹی کے ارکان، بشمول بچوں نے روایتی رقص جیسے لوانی اور بیہو پیش کر کے وزیرِ اعظم کا استقبال کیا۔اپنے دورے کے دوران مودی بادشاہ ولیم الیگزینڈر اور ملکہ میکسیما سے ملاقات کریں گے اور نیدرلینڈز کے وزیرِ اعظم روب جیٹن کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات بھی کریں گے۔وزیرِ اعظم مودی جمعہ کی رات نیدرلینڈز پہنچے تھے، جہاں ان کا یہ دورہ یورپ کے ساتھ بھارت کے اسٹریٹجک، اقتصادی اور تکنیکی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔