خورشید ریشی
تعلیم کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، یا یوں کہا جائے کہ کسی بھی قوم کی عظمت، تعمیر یا ترقی کا اندازہ اس کی تعلیمی حالت سے لگایا جاتا ہے۔ حال ہی میں دسویں اور بارویں جماعت کے امتحانی نتائج سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر نمبر گیم کا سلسلہ اس رفتار سے زور پکڑتا گیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں تصویریں نمبروں کے ساتھ اپلوڈ کر دی گئیں، جیسے کسی خاص مقصد کے لیے ان نمبروں کی بولی لگ رہی ہو۔ ہماری آنکھوں نے خود تعلیم کی بولی لگتے ہوئے دیکھی۔ اس دوران سوشل میڈیا پر بہت سے کھیل بھی دیکھنے کو ملے۔ ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر انہی تصویروں اور نمبروں کو اپنے اپنے انداز میں پیش کیا گیا اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوششیں بھی صاف نظر آئیں۔آج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے، جہاں کامیابی کو صرف نمبروں، فیصد، لائکس اور واہ واہ میں تول دیا گیا ہے۔ اس بے رحم مقابلے کا سب سے زیادہ نقصان ہمارے بچے اٹھا رہے ہیں جو نمبروں کے بوجھ تلے دباؤ، خوف اور ذہنی انتشار کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ نمبروں کو بچوں کی قابلیت جانچنے کا آخری اور واحد پیمانہ بنا لیا گیا ہے، حالانکہ نمبرات کسی بھی بچے کی شخصیت، ذہانت اور صلاحیتوں کا مکمل عکس نہیں ہوتے۔ ایک بچہ کم نمبروں کے باوجود بہترین سوچ، غیر معمولی تخلیقی صلاحیت اور مضبوط کردار کا حامل ہو سکتا ہے، مگر افسوس کہ ایسے بچوں کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ نتائج کے دن والدین اور طلبہ کے اسکرین شاٹس، مبارکبادوں اور موازنوں کی بھرمار دیکھنے کو ملی۔ یہ فضا بچوں کو ایک خاموش پیغام دیتی ہے کہ قدر صرف اسی کی ہے جس کے نمبر زیادہ ہوں۔ ایسے میں بچے اپنی ناکامیوں کو زندگی کی ناکامی سمجھ بیٹھتے ہیں، جو ایک انتہائی خطرناک سوچ ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بچوں کو یہ شعور دیں کہ نمبرات صرف ایک مرحلہ ہیں، منزل نہیں۔ کامیابی کے کئی راستے ہوتے ہیں اور ہر راستہ نمبروں سے ہو کر نہیں گزرتا۔ بچوں کے اندر تخلیقی سوچ، سوال کرنے کی عادت، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور خود اعتمادی پیدا کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ تعلیم کا مقصد رٹا لگانا نہیں بلکہ سوچنا سکھانا ہونا چاہیے۔
والدین کا کردار یہاں انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ انہیں چاہیے کہ بچوں کے نمبروں کے بجائے ان کی کوشش، محنت اور سیکھنے کے عمل کو سراہیں۔ بچے اگر ناکام بھی ہوں تو انہیں احساسِ شکست کے بجائے سیکھنے کا موقع دیا جائے۔ اسی طرح اساتذہ کو بھی کلاس روم میں ہر بچے کی انفرادی صلاحیت کو پہچاننے اور ابھارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
سوشل میڈیا کے استعمال میں بھی توازن ضروری ہے۔ نمبروں کی نمائش کے بجائے بچوں کی محنت، اخلاق، ہنر اور تخلیقی کاموں کو اجاگر کیا جائے۔ اس سے بچوں کو یہ احساس ہوگا کہ وہ صرف نمبروں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل انسان ہیں۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر ہم نے نمبروں کو آخری فیصلہ سمجھنا بند نہ کیا تو ہم ایک ایسی نسل کھو دیں گے جو سوچنے، تخلیق کرنے اور نئی راہیں نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بچوں کو نمبروں کے بوجھ سے آزاد کر کے انہیں خواب دیکھنے، سوال کرنے اور خود کو پہچاننے کا حق دینا ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔اس کے علاوہ ہمیں اپنی سوچ پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ہم اپنے بچوں کو خود ہی مقابلہ آرائی کے دباؤ میں دھکیل رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ہمارے بچے سیکھنے کے بجائے صرف نمبر حاصل کرنے کی مشین بن کر رہ گئے ہیں۔ اسی وجہ سے ان میں تجسس، تخیل اور خود اعتمادی بتدریج ختم ہوتی جا رہی ہے۔
ہمیں ایسے تعلیمی ماحول کو فروغ دینا ہوگا جہاں بچوں کو اظہارِ خیال، تجربہ اور غلطیوں سے سیکھنے کی آزادی حاصل ہو۔ نصاب میں عملی سرگرمیوں، فنون، کھیل، مباحثے اور تحقیق کو مناسب جگہ دی جائے تاکہ بچے اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچان سکیں۔ ایک صحت مند معاشرہ وہی ہوتا ہے جو اپنے بچوں کو نمبروں کی قید سے نکال کر کردار، سوچ اور انسانیت کی بنیاد پر پرکھے۔ اگر آج ہم نے بچوں کے ذہنی سکون اور تخلیقی صلاحیتوں کو ترجیح نہ دی تو کل ہماری ترقی محض کاغذی نمبروں تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔