بالاکوٹ//ریا ستی حکومت کی جانب سے جموں کے سرحدی علاقوں کے ساتھ ساتھ سر حدی ضلع راجوری کے نوشہرہ علاقہ میں بنکروں کی تعمیر کا کام شروع کر دیا گیاہے لیکن مینڈھر کے سر حدی علا قو ں کو نظر نداز کر دیاگیا ہے جس کی وجہ سے لو گو ں میں مخلوط حکومت کے خلاف غم و غصہ پایاجارہاہے ۔ نو جو ان لیڈر ظہیر احمد خان کا کہنا ہے کہ جب بھی سر حد ی کشیدگی ہو تی ہے تو سب سے زیا دہ نقصان بالاکوٹ کے لو گو ں اُ ٹھا نا پڑ تا ہے لیکن حکومت کے نما ئند ے لو گو ں کے ساتھ جھو ٹے وعد ے کر تے ہیں ، جس کی وجہ سے عام لو گو ں کو نقصان ا ٹھا نا پڑ تا ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ بالاکوٹ کے سر حدی علاقو ں میں پا کستا نی فا ئر نگ سے کئی لو گ ہلا ک ہوئے اور سب سے زیادہ بنکروں کی ضر ورت اسی علاقے میں تھی لیکن یہی علاقہ نظرانداز کردیاگیاہے ۔ ماسٹر عنایت اللہ خان نے ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ سرحدی کشیدگی مینڈھر کے بالاکوٹ ،منکوٹ ،کرشناگھاٹی اور مینڈھر سیکٹروں میں ہوتی ہے اوراِس وقت تک پاکستانی فوج کی فائرنگ سے بالاکوٹ ،مینڈھر میں کئی قیمتی جانیں چلی گئی جن میں نمبردار بالاکوٹ رفیق خان اور سرپنچ بالاکوٹ کے علاوہ کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں لیکن سر کار نے اِس وقت تک مینڈھر کے کسی بھی سرحدی علاقہ میں تعمیر کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ انہوںنے حکومت پر انسانی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ لوگوں کے جان و مال کو تحفظ ملناچاہئے ۔انہو ں نے ما نگ کی کہ فوری طور بنکر تعمیر کرنے کا کام شروع کیا جائے تاکہ لوگوں کی قیمتی جانیں ضائع نہ ہوں ۔اِس سلسلہ میں جب ایس ڈی ایم مینڈھر شری راہل یا دو سے بات ہوئی تو اُن کا کہنا تھا کہ انہوں نے بنکر بنانے کی تجویز BADPسکیم کے تحت بنائی ہے لیکن تمام کا م ضلع سطح سے شر وع کیا جائے گا ۔ اِس سلسلہ میں جب ڈپٹی کمشنرپونچھ سے بات کی گئی تو اُن کا کہنا تھا کہ ضلع پونچھ کے لئے تین ہزار بنکروں کی تجویز بنا کر انہوں نے BADP کے تحت بھیج دی ہے لیکن ہم جلد ایک میٹنگ کر کے جگہ تجویز کر کے بنکروں کا کام شروع کریں گے۔