رمیش کیسر
نوشہرہ// سب ڈویژن نوشہرہ کے بریری گائوں میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت نے مقامی آبادی کو سخت مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔ وسیع آبادی اس وقت پانی کی کمی کے باعث روزمرہ زندگی کے بنیادی امور انجام دینے میں دشواری محسوس کر رہی ہے۔ خواتین، بچے اور بزرگ پانی کے حصول کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں، جس سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔مقامی لوگوں نے انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ متعلقہ محکمہ اس سنگین مسئلے کو حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی کی فراہمی کے لیے کوئی مؤثر اور دیرپا اقدامات نہیں کیے جا رہے، جس کی وجہ سے ہر سال گرمیوں کے موسم میں یہی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق خشک موسم کے باعث قدرتی چشموں میں بھی پانی کی سطح نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے، جس نے مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ پہلے لوگ انہی چشموں سے اپنی ضروریات پوری کر لیتے تھے، مگر اب وہاں بھی پانی دستیاب نہیں رہا، جس کے باعث بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے کئی مرتبہ محکمہ کے افسران اور مقامی انتظامیہ کو اس مسئلے سے آگاہ کیا، لیکن اب تک کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت توجہ دی جاتی تو آج یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔اہلِ علاقہ نے جموں و کشمیر حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کا سنجیدہ نوٹس لے اور ہنگامی بنیادوں پر پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متبادل ذرائع جیسے ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کیا جائے اور مستقل بنیادوں پر پانی کی اسکیموں کو فعال بنایا جائے تاکہ عوام کو اس بنیادی سہولت سے محروم نہ رہنا پڑے۔