پیرپنچال اور چناب خطوں میں بھی برفباری ہوگی، زمینی اور فضائی ٹریفک ہوسکتا ہے متاثر
سرینگر // وادی کے میدانی علاقوں میں طویل خشک موسم کے ختم ہونے کا امکان ہے، محکمہ موسمیات نے آئندہ ہفتے کے لیے بڑے پیمانے پر برف باری کی پیش گوئی کی ہے ۔حکام نے کہا ہے کہ لوگوںکو تیار رہنا چاہیے کیونکہ 23 جنوری کے موسمی مرحلے کے بعد شدید سردی کا امکان ہے اور شبانہ ٹھنڈ میں اضافے کے دوران پارہ مزید گرنے کا امکان ہے۔حکام نے بدھ کو کہاکہ دو مضبوط مغربی ڈسٹربنس اس ہفتے جموں اور کشمیر پر اثر انداز ہونے کا امکان ہے، جس میں پہلا جمعرات کو اور دوسرا 26 جنوری کو متاثر کرے گا۔عہدیداروں نے بتایا کہ ان سسٹم کے زیر اثر، وسیع پیمانے پر ہلکی سے درمیانے درجے کی بارش/برفباری متوقع ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اہم موسمی سرگرمی 23 اور 27 جنوری کو ہوگی۔انہوں نے کہا کہ شہر سرینگر میں 22 اور 23 جنوری کی شب سے (24 گھنٹے کے دورانیہ)کے درمیان بھاری برف باری ہو سکتی ہے، اور تقریباً 1 فٹ تک جمع ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط ویسٹرن ڈسٹربنس (WD) کے جموں و کشمیر پر 22 جنوری(صبح/دوپہر)سے 22 ویں رات تک متاثر ہونے کی توقع ہے، ابتدائی طور پر اونچائی علاقے متاثر ہونگے۔ ، جموں و کشمیر کے بیشتر حصے بارش/برف کی زد میں آنے کا امکان ہے۔میدانی علاقوں میں بڑے پیمانے پر برف باری کا امکان ہے۔ برفباری کے لیے درجہ حرارت انتہائی سازگار رہنے کی توقع ہے۔ بارش اعتدال سے بھاری ہو گی اور ابتدائی طور پر 22 جنوری کی رات کے اوقات میں بھاری بارش متوقع ہے،اہم اثر 22 جنوری کی رات اور 23 جنوری کی دوپہر/شام کے درمیان متوقع ہے۔
چناب
ڈوڈہ، پونچھ، کشتواڑ اور رام بن کے مقامات پر بھی اچھی برفباری کا امکان ہے۔جموں خطہ کے میدانی علاقوں میں ہلکی اور، ساتھ ہی موسلادھار بارش بھی ہوگی۔پیر پنجال کے پہاڑوں کے قریب کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہونے کی توقع ہے۔تیزہوائیں بارش کے بعد پرسکون ہونگی۔ میدانی علاقوں میں برف باری ہونے کی صورت میں، تازہ برف اور بعد میں جمنے کی وجہ سے سڑکوں کے حالات انتہائی پھسلن ہونے کا امکان ہے۔ جموں سرینگر قومی شاہراہ پر بارش کے دوران اور بعد میں لینڈ سلائیڈنگ کا امکان ہے۔شاہراہ کا رام بن سیکٹر بری طرح متاثر ہوسکتا ہے۔موسمی حالات کی وجہ سے پرواز وںاور ٹرین میں خلل ممکن ہے۔ مسافروں کو اس کے مطابق منصوبہ بندی کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔