ایجنسیز
لندن// شمال مغربی لندن کے ایک سکول میں دو لڑکوں کو چاقو مارنے کے واقعے میں گرفتار 13 سالہ لڑکے پر اقدامِ قتل کے الزامات عائد کر دیے گئے ہیں اور وہ ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ میں پیش ہوگا۔ یہ بات برطانیہ کی میٹروپولیٹن پولیس نے جمعرات کو بتائی۔قانونی وجوہات کے باعث نابالغ ہونے کی بنا پر لڑکے کا نام ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر دو بار اقدامِ قتل، سکول کی حدود میں نوکیلے ہتھیار (چاقو) رکھنے، نقصان دہ مادہ اسپرے کرنے، اور نوکیلے ہتھیار کی ملکیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔میٹ پولیس کے مطابق ملزم برطانیہ میں پیدا ہونے والا برطانوی شہری ہے اور برینٹ کے کنگزبری ہائی اسکول کا سابق طالب علم رہا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اس نے منگل کے روز اسکول میں 12 اور 13 سالہ دو طلبہ کو چاقو سے نشانہ بنایا جبکہ تیسرے طالب علم پر کیڑے مار اسپرے کیا۔کاؤنٹر ٹیررازم پولسنگ لندن سے وابستہ ڈیٹیکٹو چیف سپرنٹنڈنٹ (ڈی سی ایس) ہیلن فلاناگن نے کہا،’’یہ ایک کم عمر لڑکے کے خلاف انتہائی سنگین الزامات ہیں، اور ہم اس ہولناک واقعے کے بعد متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ ساتھ پوری اسکول کمیونٹی کی مسلسل معاونت کر رہے ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا،’’اگرچہ ہم نے اب لڑکے پر الزامات عائد کر دیے ہیں، تاہم ہماری تفتیش جاری ہے اور تفتیشی افسران مقامی علاقے میں مزید تحقیقات کرتے رہیں گے۔ ہم برینٹ کے مقامی پولیس ساتھیوں کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کر رہے ہیں، اور حالیہ دنوں میں اسکول اور مقامی برادری کی حمایت پر میں ان کی شکر گزار ہوں۔‘‘ڈی سی ایس فلاناگن کے مطابق بعض حالات کے باعث ان کی ٹیم تفتیش کی قیادت کر رہی ہے، تاہم اس واقعے کو دہشت گردی قرار نہیں دیا گیا۔ چاقو کے وار سے زخمی ہونے والے دونوں لڑکے تاحال اسپتال میں ہیں اور ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔میٹ پولیس کی جانب سے پہلے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق، مشتبہ لڑکا منگل کی دوپہر اسکول میں داخل ہوا اور پہلی منزل کی ایک جماعت میں جا کر ایک طالب علم کے چہرے کی طرف اسپرے کیا۔