عظمیٰ نیوز سروس
سانبہ//مرکزی وزارت داخلہ نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ایک جدید ترین فرانزک انسٹی ٹیوٹ کے لیے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(ایمس)، جموں کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔حکام نے بتایا کہ یہ تجویز ایک انسٹی ٹیوٹ کے قیام کے لیے بھیجی گئی تھی تاکہ شواہد جمع کرنے، سزا کی شرح میں اضافہ اور صحت کے شعبے میں بہتر تفتیش اور تشخیص میں مدد ملے۔ایمس جموں کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرپروفیسر شکتی کمار گپتا نے بتایا، “جموں و کشمیر میں ایک فرانزک انسٹی ٹیوٹ قائم ہونے جا رہا ہے۔ ایمس نے وزارت داخلہ کو ایک تجویز(جے اینڈ کے میں انسٹی ٹیوٹ کے قیام کے لیے)پیش کی ہے اور انہوں نے اسے منظور کر لیا ہے،” ۔گپتا نے کہا کہ سی بی آئی بھی اس میں شامل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں صرف چند ہی فرانزک انسٹی ٹیوٹ ہیں یہ انسٹی ٹیوٹ جموں و کشمیر کے سانبہ ضلع میں قائم کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ مستقبل میں ایمس انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور طبی صحت کے لیے ابتدائی تحقیقات اور تشخیص میں مدد کرے گا۔جموں و کشمیر، جو گزشتہ 35 سالوں سے ملی ٹینسی سے نبرد آزما ہے، جموں اور سرینگر میں دو فرانزک سائنس لیبارٹریز ہیں، جن کا ہیڈ کوارٹر جموں میں ہے۔ اسے 1964 میں محکمہ داخلہ کے تحت بنایا گیا تھا۔حکام نے کہا کہ جموں اور کشمیر کا جغرافیائی محل وقوع، بین الاقوامی سرحد اور تین ریاستی سرحدوں سے قربت کے ساتھ، اسے ملی ٹینسی، منشیات اور بندوق سے متعلق جرائم کے لیے حساس بناتا ہے۔انہوں نے کہا، “یہ تفتیشی ایجنسیوں کے لیے ایک نکاتی سہولت ہوگی۔ اس سے شواہد کو محفوظ بنانے، شواہد کی جانچ پڑتال اور ایک ہی وقت میں ایک ہی چھت کے نیچے دستیاب مختلف سائنسی لیبارٹریوں کے ذریعے اس کا تجزیہ کرنے میں مدد ملے گی۔”