ایجنسیز
واشنگٹن//امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اہم پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک ایک ممکنہ معاہدے کے کافی قریب پہنچ چکے ہیں۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اشارہ دیا کہ جوہری معاہدے کے معاملے میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے اور اگر ضرورت پیش آئی تو جاری جنگ بندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ٹرمپ کے مطابق ایران اب ان شرائط پر غور کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے، جنہیں وہ چند ماہ قبل قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت خوشگوار ماحول میں جاری ہے اور دونوں فریق سنجیدگی کے ساتھ کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دیا جائے، کیونکہ یہ عالمی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ چند دنوں میں مذاکرات کی رفتار مزید تیز ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ ہفتے کے اختتام پر دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان براہ راست ملاقات بھی ہو۔ جنگ بندی کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ اگر معاہدہ قریب ہوا تو اسے بڑھانے پر غور کیا جا سکتا ہے، تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ حالات کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے اور تصادم کا خطرہ بھی موجود رہے گا۔ ان کے مطابق ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں امریکی معاشی پابندیوں اور دباؤ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان پابندیوں کی وجہ سے ایران کی معیشت متاثر ہوئی ہے اور اس کی بین الاقوامی تجارت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔معاشی پہلو پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان پیش رفتوں کا عالمی منڈیوں پر مثبت اثر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق حصص بازار میں بہتری دیکھی جا رہی ہے جبکہ تیل کی قیمتوں میں بھی کمی آئی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ حالات بہتر سمت میں جا رہے ہیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری بات چیت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایک ہفتے کی جنگ بندی کے لیے مثبت تجاویز زیر غور ہیں، جن میں حزب اللہ کی شمولیت بھی ممکن ہے۔ انہوں نے اس عمل کو خطے میں استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔
چین کی ایران کو 58 ٹن ہنگامی طبی امداد کی فراہمی
یواین آئی
بیجنگ// چین نے ایران کو طبی سامان پر مشتمل 58 ٹن ہنگامی امداد فراہم کر دی۔بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق چین نے امداد بدھ کو تہران میں باضابطہ طور پر ایران کیحوالے کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تہران میں چینی سفارت خانے اور ایرانی ہلالِ احمر سوسائٹی کے درمیان دستخطی تقریب ہوئی۔اس موقع پر ایران میں موجود چینی سفیر نے کہا کہ چین ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے، چین مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کی لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔ چینی سفیر نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ ایران کے لیے انسانی المیے کا باعث بنی، ایران کو خصوصاً ادویات کی اشد ضرورت ہے۔صدر ایرانی ہلالِ احمر نے کہا کہ چین کی جانب سے اس مشکل وقت میں مدد پر شکریہ ادا کرتے ہیں، چین کی امداد ایران اور عوام کے لیے محبت اور ہمدردی کی عکاس ہے۔