جنگ کے خلاف استعفیٰ دینے والے جو کینٹ کا انکشاف
نیویارک//دنیا کو مغلوب کرنے کی خواہش رکھنے والا امریکہ اپنی دھونس اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے کٹگھرے میں ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو خطرناک بتاتے ہوئے ایران کی جوہری تنصیبات کو نیست ونابود کرنے کے لیے گزشتہ سال بھی فوجی کارروائی کرکے اس کو زیرکرنے کی کوشش کی تھی۔ اب 28 فروری کو شروع ہونے والے فضائی حملے میں امریکی فوج اسرائیل کے ساتھ مل کر ایرانی ٹھکانوں پر بمباری کررہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای، ان کے قریبی ساتھی علی لاریجانی اور کئی اعلیٰ فوجی کمانڈر شہید ہو چکے ہیں۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی واسرائیلی حملے سے ایران میں اب تک 1440 سے زائد افراد جاں بحق اور 18400 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ تنازعہ عالمی کشیدگی میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔ مغربی ایشیا میں ہنگامہ آرائی کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی کٹگھرے میں آگئے ہیں۔ تازہ ترین پیش رفت میں ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت میں استعفیٰ دینے والے امریکی انتظامیہ کے انسداد دہشت گردی محکمہ کے سینئر افسر جو کینٹ نے چونکا دینے والے انکشافات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ٹرمپ اسرائیل کے دباؤ میں ایران پر حملے کر رہے ہیں۔دہشت گردی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے ذمہ دار امریکی ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ نے دعویٰ کیا کہ انھیں اور دیگر اعلیٰ حکام کو ایران میں جنگ کے بارے میں اپنے خدشات صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ شیئر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرتے وقت مشیروں کے ایک چھوٹے گروپ پر بھروسہ کیا۔ اسرائیل نے ٹرمپ پر کارروائی کرنے کا دباؤ ڈالا۔ امریکہ کو ایران سے کوئی خطرہ ہے، اس بات کے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھے۔کینٹ نے ٹکر کارلسن کے شو میں مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کے دوران کہا کہ ایران میں فوجی کارروائی جیسے اہم فیصلے کرنے والے کئی افسران کو صدر کے سامنے اپنی رائے ظاہر کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ فضائی حملے سے پہلے اس معاملے پر کوئی ٹھوس اور کھلی بحث بھی نہیں ہوئی۔ کینٹ نے کہا کہ میں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ اس وقت کیا جب یہ واضح ہو گیا کہ میرے خدشات کو نظر انداز کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ’’میں جانتا ہوں کہ جنگ کا یہ راستہ کارگر نہیں ہے، میرے ضمیر کی آواز ہے کہ مجھے ایسی کارروائی کا حصہ نہیں بننا‘‘۔قابل ذکر ہے کہ جو کینٹ نے رواں ہفتے ایران میں جنگ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اخلاقی وجوہات کا حوالہ دے کر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔