ایجنسیز
ماسکو// ایران کے وزیر خارجہ عباس اراغچی نے پیر کے روز کہا کہ وہ روس میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے دوران ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع پر بات چیت کریں گے، کیونکہ امن مذاکرات میں بڑی رکاوٹ بنیادی اختلافی نکات ہیں۔اراغچی، جو سینٹ پیٹرزبرگ پہنچ چکے ہیں، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کریں گے۔ یہ دورہ تہران کے مطابق ایک ’’مسلط جنگ‘‘ کے پس منظر میں ہو رہا ہے اور اس سے قبل پاکستان اور عمان میں حالیہ سفارتی سرگرمیاں ہو چکی ہیں۔ٹیلیگرام پر جاری بیان میں اراغچی نے کہا کہ ایران اور روس علاقائی اور عالمی امور پر قریبی رابطہ رکھتے ہیں، تاہم تنازع کی وجہ سے مشاورت کی رفتار سست ہو گئی تھی۔ انہوں نے کہا، ’’ہم اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنگ سے متعلق پیش رفت پر بات کریں گے اور ضروری ہم آہنگی پیدا کریں گے۔‘‘کریملن نے ان مذاکرات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ترجمان دمتری پیسکوف کے حوالے سے کہا کہ موجودہ صورتحال میں، خاص طور پر ایران اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کے تناظر میں، اس ملاقات کی اہمیت ’انتہائی زیادہ‘ ہے۔اراغچی نے حالیہ ایران-امریکہ مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار بھی واشنگٹن کو ٹھہرایا، جو پاکستان میں منعقد ہوئے تھے۔ انہوں نے امریکہ پر ’حد سے زیادہ مطالبات‘ او’غلط طریقہ کار‘ اپنانے کا الزام لگایا۔ ان کے مطابق، ابتدائی مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی تھی، مگر آخرکار کوئی نتیجہ حاصل نہ ہو سکا۔انہوں نے کہا، ’’امریکی پالیسیوں اور غلط رویوں کی وجہ سے مذاکرات اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکے،‘‘اور زور دیا کہ ایران کو کئی ہفتوں کی مزاحمت کے بعد اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہوگا۔پاکستان نے ان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کیا تھا، جس کے بعد تہران نے اسلام آباد میں حکام سے مزید مشاورت کی تاکہ سفارتی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔خطے میں جاری کشیدگی کی نشاندہی کرتے ہوئے اراغچی نے آبنائے ہرمز کو عالمی سطح پر ایک اہم مسئلہ قرار دیا اور محفوظ سمندری گزرگاہ کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ آبی راستہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کا ایک اہم مرکز بنا ہوا ہے۔اراغچی نے کہا کہ روس میں ہونے والی بات چیت میں خطے کی مجموعی صورتحال اور حالیہ سفارتی کوششوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا، اور انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ تہران اور ماسکو کے درمیان ہم آہنگی اس بحران سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔امریکہ اور ایران کے درمیان بنیادی اختلافی نکات میں ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام کی نوعیت اور افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل شامل ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اسے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت جوہری ایندھن افزودہ کرنے کا’حق‘ حاصل ہے۔