منتظر مومن وانی
اس بات کا ہم سب مکمل عقیدہ رکھتے ہیں کہ انسانی زندگی کو سنوارنے میں استاد کا سو فیصد کردار ہے۔اسی شخصیت کے سبب ایک انسان کسی بھی کامیابی کا دعویٰ کرسکتا ہے۔پانچ ستمبر کو یوم اساتذہ منایا جاتا ہے اس دن ملک کے لوگ یہ یاد تازہ کرتے ہیں کہ واحد اُستاد ہی ایسی ہستی ہے، جس سے زندگی کی ترقی اور کامیابی ممکن ہے۔اسی حوالے سے سرزمین کشمیر میں بھی تعلیمی اداروں میں تقاریب کا اہتمام ہوا،سوشل میڈیا کے ذریعے ملے تصاویر اور ویڈیو دیکھ کر انسان کو ڈاکٹر اقبالؒ کی بات یاد آتی تھی کہ ’’سبق شاہین بچوں کو دیتے ہیں خاکبازی کا‘‘۔ان اداروں کے منتظمین سے ادباً یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ یوم اساتذہ کی حقیقت سے باخبر ہے ،اگر ہاں! تو بچوں کے ذریعے ناچ گانے کی عمل پیش کرکے آپ کس فکر کو فروغ دیتے ہیں۔اسکولوں میں غیر اخلاقی فکر کو فروغ دے کر تاریک مستقبل ترتیب دیتے ہیں۔شایدآپ شاید اس بات سے بالکل بے خبر ہیں کہ قوم نے اپنا مستقبل آپ کے ہاتھوں میں دیا ہے اور مستقبل کو کس تربیت سے روشناس کرنا ہے ،وہ آپ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔اگر آپ کے ادارے ناچ گانے کی ہی تربیت دینے کے قائل ہیں تو خدارا والدین پر رحم کرکے اُن کی خون پسینے کی کمائی کیوں ضائع کررہے ہیں۔کلچرل پروگرام کے نام پر آپ بچوں کو بے حیائی کا جو سبق دے رہیں ،اُس سے پڑھ کر اب معاشرے میں اَن گنت جرائم پیدا ہورہے ہیںاور دن بہ دن فروغ پارہے ہیں۔یوم اساتذہ کے حوالے سے جہاں کئی تعلیمی ادارے اچھے اور مثبت پروگرام ترتیب دے رہے ہیں، وہیں بیشتر اداروں کے پروگرام دیکھ کر انسان شش و پنج میں پڑتا ہے کہ ہمارے مستقبل کے شگوفے کن ہاتھوں میں پل رہے ہیں۔یہی دکھائی دیتا ہے کہ پروگراموں کو ترتیب دینے والےکے منتظمین کے پاس ایسا کوئی ہنر ہی نہیں ہے، جن سے وہ بچوں کو مستفید کراکے ناظرین کو متاثر کرنے کے لئے سامنے لاسکتے۔یہی وجہ ہے کہ بچے اب سوشل میڈیا،یوٹیوب سے ناچ نغمے کا نقل اُتار کر بے ہودگی ،بے حیائی اور بد اخلاقی کے شکار ہوجاتے ہیں۔تعلیمی اداروںکے ارکان کو شائدخودکو سمجھنے اور دوسروں کو سمجھانے کی قوت ہی نہیں ہے یا پھر خود انہیں مطالعہ کرنے کا شوق بھی شوق نہیں، تاکہ وہ بہتر سے بہتر مضامین اور موضوع کا انتخاب کرسکیں اوراُن کے زیر تعلیم بچے اُن اچھے موضوعات پر لب کشائی کرنے والے بن جائیں۔خدارا اپنے اداروں میں رائج موجودہ طریقۂ کار کا جائزہ لینے کی زحمت گوارا کیجئے تاکہ آپ کومعلوم ہوجائے کہ آپ کی تربیت کس قدرغیر ضروری اور کمزور ہے۔بھَلااب کب تک تہذیب وکلچرل کے نام پربے ہودہ ناچ گانوں اور دیگر بداخلاقیوں کا اہتمام ہوتا رہے گا؟ان بچوں کو وہی تعلیم اور تربیت دینے کی کوشش کیجئے ،جس سے موجودہ،بے حیائی ،بے ہودگی اور بداخلاقی کا قلع قمع ہوجائے۔قوم کی اس امانت کی سنجیدگی کے ساتھ حفاظت کیجئے، ورنہ قوم کے بربادی کے ذمہ دار آپ ہی کو ٹھہرایا جائے گا۔چنانچہ کئی اسکولوں نے ایسے پروگرام پیش کئے اور کررہے ہیں، جو قابل تحسین تھے اور ہیں لیکن جدیدیت کا کلمہ پڑھنے والے زیادہ تر تعلیمی اداروں نے نہ معلوم کیوں ہمارے مستقبل کوتاریک بنانے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے تاکہ نئے شگوفوں کا کَل بُرباد ہو کر غلط راہوں کی نذر ہوجائے۔یہ ناچ گانے،ڈانس ، ڈفلی اور دیگر خرافات بچوں کی اصل تربیت میں وہ زہرگول رہے ہیں،جو بالآخر قوم کے مستقبل کے لئے بربادی کا سبب بنتے جارہے ہیں۔جو ادارے ایسےپروگرام ترتیب دیتے وقت ان ضروری باتوں کا خیال نہیں رکھتے ہیں،انہیں اپنے کام کاج کا جائزہ لینے کے لئےپر سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے۔تاکہ ان بداخلاقیوں کوفروغ پانے سے قبل ہی خاتمہ کیا جاسکے۔اللہ ہمارے شگوفوں کو سلامت رکھیں اورہمارے اساتذہ کو انہیں صحیح اور مکمل تربیت دینے کی توفیق عطا کرے۔آمین
(رابط 8899558163)
<[email protected]>
آپ بچوں کو کیا سِکھاتے ہیں؟