ترال// تحصیل آری پل کے متعددگائوں میں پینے کے پانی کی شدید قلت کی وجہ سے مقامی لوگ محکمہ جل شکتی سے نالاں ہے۔ لوگوں نے محکمہ پر الزام لگایا کہ حکام انہیں درپیش مشکلات سے باخبر ہونے کے باجود ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں ۔مقامی لوگوں نے بتایا مذکورہ تحصیل کے آری پل نا می گائوں میں موجود قدرتی چشمہ ترال کی ایک بڑی آبادی کو پینے اور سینچائی کے لئے پانی فراہم کرتا ہے تاہم مذکورہ گائوں کی گنائی محلہ نامی بستی پانی کی ایک ایک بوند کے لئے ترس رہی ہے۔علاقے سے مقامی جامع مسجد امام کی قیادت میں آئے لوگوں نے بتایا کہ مذکورہ بستی میں لوگوں کو پینے کے پانی کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا اس حوالے سے انہوں نے کئی مرتبہ محکمہ کو آگاہ بھی کیا ہے تاہم تاحال کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ۔انہوں نے کہا محکمہ ہمارے مسئلے کو حل کرنے میںسنجیدہ نظر نہیں آرہا ہے ۔ادھرترال کے ززبل، لام نامی گائوں میں رہائش پذیر لوگوں کو برسوں سے پینے کے پانی کی قلت کا مسئلہ درپیش ہے ۔گزشتہ روز مقامی لوگوںنے پینے کے پانی کی شدید قلت کے خلاف خاموش احتجاج بھی کیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جل جیون مشن سمیت دیگر اسکیموں کا زمینی سطح پر لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں نظر نہیں آرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکار کی جانب سے لوگوں کو بنیادی ضروریات بہم پہنچانے کے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں تاہم ززبل جیسے دور افتادہ علاقوں میں آج بھی لوگوں کو پینے کے پانی کے حوالے سے دقتوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔اس احتجاج میں شامل لوگوں نے بتایا کہ پانی کا ترسیلی نظام ابتری کا شکار ہے اور متعلقہ ملازمین اپنی ڈیوٹی خوش اسلوبی کے ساتھ انجام نہیں دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملازمین کی غفلت شعاری کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔دریں اثنا ستورہ ترال کی آبادی نے مذکورہ محکمے پر الزام لگایا ہے کہ انہیں ایک نالے کا مضر صحت پانی فراہم کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے لوگ طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو ئے ہیں ۔ لوگوں نے بتایا حاجن نامی گائوں میں لاکھوں روپے مالیت کی رقم سے ایک فلٹریشن پلانٹ تعمیر کیا گیا ہے تاہم نا معلوم وجوہات کی بناء سے اسے چالو نہیں کیا گیا ۔ادھر پیٹھ خانہ نامی بستی میں کئی ماہ سے پینے کے پانی کی قلت پائی جا رہی ہے ۔ ادھر واگڈ ترال کی آبادی نے بتایا یہاں موجود ایک واٹر ٹنکی میں شگاف پڑے گئے ہیں جس کا پانی قبرستان میں داخل ہوا ہے جس کی وجہ سے کئی قبروں کو نقصان پہنچا ہے ۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایامذکورہ علاقے میں جل شکتی کا محکمہ مکمل طور نا کام نظر آ رہا ہے ۔آبادی نے اس حوالے اے ڈی سی ترال سے مداخلت کی اپیل کی ہے ۔