آئین میں ’خصوصی درجہ‘ کا کوئی ذکر نہیں، این سی عوام کو گمراہ کر رہی ہے:سنیل شرما
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما اور جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سنیل شرما نے نیشنل کانفرنس پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ بار بار نام نہاد اور غیر موجودہ مسئلے ’’خصوصی درجہ‘‘ کو اٹھا کر جموں و کشمیر کے عوام کو جان بوجھ کر گمراہ کر رہی ہے۔اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے سنیل شرما نے واضح طور پر کہا کہ بھارتی آئین میں جموں و کشمیر کے لیے کسی بھی قسم کے ’’خصوصی درجہ‘‘ کا کہیں کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ این سی کی جانب سے اس معاملے پر مسلسل بیان بازی دراصل عوام کو الجھانے اور اپنی مکمل حکمرانی کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔انہوں نے زور دیا کہ آئینی مطالبات کسی سیاسی تصور یا جذباتی نعروں پر نہیں بلکہ واضح اور تحریری آئینی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔سنیل شرما نے کہا’’جہاں تک میرا مطالعہ اور آئین کی سمجھ ہے، جموں و کشمیر کے بھارت سے الحاق یا انضمام کے حوالے سے آئین میں ’خصوصی درجہ‘ نام کا کوئی لفظ موجود نہیں۔ آئینی مطالبہ ہو تو اسے آئینی دفعات سے ثابت کرنا ہوگا، نہ کہ جھوٹ اور سیاسی ڈرامے سے‘‘۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’خصوصی درجہ‘‘ کی اصطلاح ملک کی مختلف ریاستوں کی جانب سے معاشی، روزگار یا مالی پیکیجز کے لیے عمومی طور پر استعمال کی جاتی رہی ہے، جس کا آرٹیکل 370سے کوئی تعلق نہیں۔انکاکہناتھا’’خصوصی درجہ سے مراد کوئی مالی یا روزگار پیکیج ہو سکتا ہے، اسے آرٹیکل 370سے نہ جوڑا جائے۔ آرٹیکل 370ماضی کا حصہ بن چکا ہے اور ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکا ہے‘‘۔ایوان میں این سی کے ایک ایم ایل اے کی جانب سے نعرہ بازی کا حوالہ دیتے ہوئے سنیل شرما نے حکمراں جماعت کو چیلنج کیا کہ وہ آئین کی ایک بھی سطر دکھا دے جس میں جموں و کشمیر کو کسی ’’خصوصی درجہ‘‘ کی ضمانت دی گئی ہو۔انہوں نے کہا’’اگر کوئی یہ ثابت کر دے کہ آئین میں جموں و کشمیر کے لیے خصوصی درجہ درج ہے تو میں ہر سزا قبول کرنے کو تیار ہوں۔ تب تک یہ دعویٰ سراسر جھوٹ ہے‘‘۔بی جے پی رہنما نے این سی قیادت اور عبداللہ خاندان پر براہِ راست سیاسی حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ دہائیوں سے عوام کو دھوکہ دیتے آ رہے ہیں اور ’’خصوصی درجہ‘‘ کا بیانیہ اپنی بدانتظامی، ٹوٹے وعدوں اور حکمرانی کے زوال کو چھپانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو محض ماضی کی انتخابی باتوں اور ناکام وعدوں کو جواز دینے کے لیے دوبارہ زندہ کیا جا رہا ہے۔سنیل شرما نے این سی حکومت کو عوامی مسائل کے تئیں بے حسی کا بھی ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں، بے روزگار نوجوانوں اور اے اے وائی، ڈی پی ایل اور ای ڈبلیو ایس زمروں کے مستحقین کے حقیقی مسائل حل کرنے کے بجائے حکومت کھوکھلے نعروں اور توجہ ہٹانے کی سیاست میں مصروف ہے۔قائدِ حزبِ اختلاف نے این سی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے جموں و کشمیر بجٹ کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مایوس کن اور بے سمت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ نوجوانوں، کسانوں، مزدوروں، تاجروں اور غریبوں سمیت معاشرے کے کسی بھی طبقے کو کوئی راحت یا امید دینے میں ناکام رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ زمینی سطح پر عوام مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ حکومت حکمرانی فراہم کرنے کے بجائے محض خواب بیچنے میں لگی ہوئی ہے۔آخر میں سنیل شرما نے اعادہ کیا کہ بی جے پی نیشنل کانفرنس کے جھوٹے بیانیے، آئینی حقائق کو مسخ کرنے اور حکمرانی کی ناکامیوں کو بے نقاب کرتی رہے گی اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر سچ، ترقی اور جوابدہی کو یقینی بنائے گی۔