ایجنسیز
واشنگٹن//ایک طرف امریکہ و اسرائیل نے ایران پر حملہ کر خلیجی ممالک کو آگ کی لپٹوں میں دھکیل دیا ہے، اور دوسری طرف امریکہ خود کو مضبوط کرنے کے لیے وینزویلا کے ساتھ کچھ ایسے تجارتی معاہدے کر رہا ہے جو حیران کرنے والے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے بے دخل کیے جانے کے چند ہی ہفتوں بعد دونوں ممالک کے درمیان 1000 کلوگرام سونے کا ایک بڑا معاہدہ طے پایا ہے۔دراصل، منشیات کے ایک مبینہ معاملے میں نکولس مادورو کی گرفتاری انتہائی ڈرامائی انداز میں دیکھنے کو ملی۔ اس کے بعد وینزویلا کی حکومت میں ایک بڑا بدلاؤ آیا ہے۔ اس تبدیلی نے امریکہ کو وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر براہ راست کنٹرول حاصل کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔
اب ایک نئی خبر یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سونے کی برآمد کا ایک بہت بڑا معاہدہ ہوا ہے۔’ایکسیوس‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق وینزویلا کی سرکاری کانکنی کمپنی ’منروین‘ اور کموڈیٹی ٹریڈنگ کمپنی ’ٹریفیگورا‘ کے درمیان ایک اہم معاہدہ طے پایا ہے۔ اس کے تحت 1000 کلوگرام تک کے ’گولڈ ڈور بار‘ امریکی بازار میں بھیجے جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق اس سونے کی حتمی خالصیت 98 فیصد ہوگی۔ اس پورے عمل میں ٹریفیگورا امریکی حکومت کے ساتھ ایک علیحدہ انتظام کے تحت یہ سونا وہاں کی منڈیوں تک پہنچائے گی۔قابل ذکر ہے کہ مادورو کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد امریکہ اور وینزویلا کے تجارتی تعلقات تیزی سے مضبوط ہو رہے ہیں۔ 4 مارچ 2026 کو کاراکاس کے راشٹرپتی بھون میں وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈرگز اور امریکی وزیر داخلہ ڈگ برگم کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی۔ اس میٹنگ کا بنیادی ایجنڈا کانکنی اصلاحات اور معدنی وسائل پر گفتگو تھا۔ جب سے امریکہ نے وینزویلا کے سب سے قیمتی وسیلے یعنی تیل پر اپنا کنٹرول قائم کیا ہے، تب سے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دستخط کیا گیا یہ تیسرا استخراجی معاہدہ ہے۔