ایجنسیز
بیجنگ //چین کے صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے اور آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے کھلی رہنی چاہیے۔ یہ بات جمعرات کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے بتائی گئی۔شی جن پنگ نے اس سے قبل کہا کہ تجارتی مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ تائیوان کے معاملے پر اختلافات تعلقات کو خطرناک سمت میں لے جا سکتے ہیں۔شی کے بیانات نے اس سربراہی اجلاس کی بنیاد رکھی جسے ٹرمپ نے ممکنہ طور پر ’’تاریخ کا سب سے بڑا اجلاس‘‘ قرار دیا۔
یہ اجلاس بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں شاندار استقبالیہ تقریب کے بعد شروع ہوا۔افتتاحی تقریب میں گارڈ آف آنر اور بچوں کی بڑی تعداد نے پھول اور جھنڈے لہرا کر مہمانوں کا استقبال کیا۔ شی نے کہا کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان مستحکم تعلقات پوری دنیا کے مفاد میں ہیں۔انہوں نے کہا،’’جب ہم تعاون کرتے ہیں تو دونوں فریق فائدہ اٹھاتے ہیں، اور جب ہم تصادم کرتے ہیں تو دونوں کو نقصان ہوتا ہے۔‘‘ٹرمپ نے جواب دیتے ہوئے کہا،’’آپ ایک عظیم رہنما ہیں… کچھ لوگ پسند نہیں کرتے کہ میں یہ کہوں، لیکن میں پھر بھی کہتا ہوں۔‘‘شی نے بتایا کہ جنوبی کوریا میں ہونے والے مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور مستقبل کے لیے تعاون کے طریقہ کار بنانا ہے۔تائیوان کا مسئلہ بھی زیرِ بحث آیا، جسے چین اپنا حصہ سمجھتا ہے جبکہ امریکہ اسے دفاعی معاونت فراہم کرتا ہے۔ شی نے خبردار کیا کہ اس معاملے کو غلط انداز میں سنبھالنے سے تصادم کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ، یوکرین اور جزیرہ نما کوریا کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے تجارت اور زراعت میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ٹرمپ اور شی ایک سرکاری ضیافت میں شرکت کریں گے اور اگلے دن چائے اور دوپہر کا کھانا بھی ساتھ کریں گے۔ٹرمپ کے ساتھ کئی بڑے کاروباری رہنما بھی موجود ہیں، جن میں ایلون مسک اور این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ شامل ہیں۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ چین کو امریکی صنعت کے لیے مزید کھولنے کی درخواست کریں گے۔ماہرین کے مطابق، ٹرمپ کے 2017 کے دورے کے مقابلے میں اب طاقت کا توازن بدل چکا ہے۔ چین کی عالمی حیثیت مضبوط ہوئی ہے جبکہ امریکہ کو اندرونی معاشی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ایران جنگ نے امریکہ میں مہنگائی بڑھا دی ہے اور سیاسی خطرات میں اضافہ کیا ہے، جبکہ چین نسبتاً کم دباؤ میں ہے۔ٹرمپ کی کوشش ہے کہ چین، ایران پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرے، تاہم ماہرین کے مطابق چین ممکنہ طور پر ایران پر زیادہ سخت دباؤ ڈالنے سے گریز کرے گا۔