یواین آئی
نیویارک// آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کی جانب سے فیس کی وصولی دنیا کے لیے ناقابل برداشت ہو گئی ہے، امریکہ سے لے کر اقوام متحدہ تک آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔اطلاعات کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز پر عملی طور پر اپنا کنٹرول قائم کرتے ہوئے فیس وصول کرنا شروع کر دیا ہے، اگرچہ اس کی شرح اور قانونی حیثیت ابھی بین الاقوامی طور پر متنازعہ ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر فیس عائد کرنے کی کوشش برداشت نہیں کر سکتے۔ انھوں نے کہا بین الاقوامی بحری گزرگاہوں کو یرغمال بنانے کی کوشش برداشت نہیں کریں گے، آبنائے ہرمز کھلا ہونے کا ایرانی دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں ہے، ایران سے اجازت لینا یا اسے ادائیگی کرنا آبنائے ہرمز کا کھلا ہونا نہیں ہے۔مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ایران کی مرضی اور ادائیگی کے عوض بحری راستہ استعمال کرنا معمول نہیں ہو سکتا، ایران یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ بین الاقوامی گزرگاہ کون استعمال کرے گا اور کون نہیں۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کا احترام کیا جانا چاہیے، فریقین سے اپیل ہے کہ آبنائے ہرمز کھولیں اور جہازوں کو گزرنے دیں، کوئی ٹول نہیں کوئی امتیاز نہیں، تجارت دوبارہ شروع ہونے دیں۔ یو این سیکریٹری جنرل نے اپیل کی کہ عالمی معیشت کو سانس لینے دیں، محفوظ اور بلا روک ٹوک راستہ ہی معاشی اور انسانی ضرورت ہے۔