عظمیٰ نیوزسروس
نئی دہلی//مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہدایت دی کہ جموں و کشمیر کے ضلع اُدھم پور کی جی آئی ٹیگ یافتہ روایتی دودھ سے بنی مصنوعات’کلاڑی‘ کو جدید فوڈ ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے مختلف غذائی استعمالات اور پکوانوں کیلئے فروغ دیا جائے، تاہم اس کے اصل ذائقے، بناوٹ اور غذائی شناخت کو مکمل طور پر برقرار رکھا جائے۔وزیر نے کہا کہ توجہ ویلیو ایڈیشن اور شیلف لائف میں اضافے پر ہونی چاہیے تاکہ کلاڑی کو حکومت کے ’ون ڈسٹرکٹ ون پروڈکٹ‘ اقدام کے تحت قومی اور بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچایا جا سکے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے زور دیا کہ کسی بھی سائنسی مداخلت کو انتہائی احتیاط سے انجام دیا جائے تاکہ غذائیت، ذائقہ اور مقامی خصوصیات متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ محدود شیلف لائف کلاڑی کو مقامی منڈیوں سے باہر لے جانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلاڑی کی انفرادیت، جسے اکثر’’جموں کی موزریلا‘‘ کہا جاتا ہے، کو بڑے پیمانے پر تیاری کے امکانات تلاش کرتے ہوئے بھی برقرار رکھا جانا چاہیے۔اجلاس کے دوران ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سی ایس آئی آر-سنٹرل فوڈ ٹیکنالوجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی ایس آئی آر-سی ایف ٹی آر آئی)، میسور کے ڈائریکٹر ڈاکٹر گری دھر پروتَم اور سی ایس آئی آر-انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انٹیگریٹو میڈیسن (سی ایس آئی آر-آئی آئی آئی ایم)، جموں کے ڈائریکٹر ڈاکٹر زبیر احمد سے بات چیت کی اور انہیں کلاڑی کی غذائی پروفائلنگ، خصوصیات کی جانچ، ویلیو ایڈیشن اور شیلف لائف میں اضافے پر مشترکہ طور پر کام کرنے کی ہدایت دی۔ وزیر نے دونوں ممتاز سی ایس آئی آر لیبارٹریوں کو قریبی تعاون کے ساتھ چند ہفتوں میں ابتدائی مشاہدات پیش کرنے اور چھ ماہ کے اندر جامع نتائج فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں رائج روایتی طریقوں کو دستاویزی شکل دی جائے گی اور سائنسی بنیادوں پر ایک ایسا مشترکہ اور صنعت دوست طریقہ کار تیار کیا جائے گا جو بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے موزوں ہو۔ وزیر نے مزید ہدایت دی کہ اس اقدام کے لیے بھارت کے صفِ اوّل کے فوڈ ٹیکنالوجی ادارے سی ایس آئی آر-سی ایف ٹی آر آئی، میسور کی ٹیکنالوجیز سے استفادہ کیا جائے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ اقدام حکومت کے اس وژن سے ہم آہنگ ہے جس کے تحت سائنس، ٹیکنالوجی اور روایتی مصنوعات کو جوڑ کر مقامی معیشتوں کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ جب شیلف لائف اور ویلیو ایڈیشن سے متعلق مسائل حل ہو جائیں گے تو کلاڑی کو جموں و کشمیر سے باہر بھی مؤثر انداز میں فروغ دیا جا سکے گا، جس سے کسانوں اور روایتی کاریگروں کو بہتر منافع حاصل ہوگا اور ڈوگرا کھانوں کی ثقافتی وراثت قومی اور عالمی سطح پر اجاگر ہو سکے گی۔