ایس سی او اجلاس کے موقع پر چینی و روسی وزرائے دفاع سے ملاقاتیں
یو این آئی
نئی دہلی// وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آپریشن سندور کو دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کے پختہ عزم کی علامت قرار دیتے ہوئے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی جیسی “برائیوں” کا مقابلہ کرنے کے لیے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے اور کسی بھی سیاسی استثنیٰ کو مسترد کرتے ہوئے متحدہ محاذ بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔سنگھ نے یہ بات منگل کو کرغزستان کے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے دفاع کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیر دفاع نے زور دے کر کہا کہ ایس سی او کو ان لوگوں کے خلاف مناسب کارروائی کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے، جو دہشت گردوں کو مدد، پناہ گاہیں اور محفوظ ٹھکانے فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کا بغیر کسی استثناء کے مقابلہ کرکے، ہم علاقائی سلامتی کو ایک چیلنج سے امن اور خوشحالی کے ستون میں بدل دیتے ہیں۔راجناتھ سنگھ نے چین اور روس کے اپنے ہم منصبوں سے اہم ملاقاتیں کیں۔ راجناتھ سنگھ نے چینی وزیر دفاع ایڈمرل ڈونگ جون سے ملاقات کو خوشگوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایس سی او اجلاس کے دوران ان سے بات چیت مفید رہی۔تاہم، اس ملاقات کی تفصیلات کے حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ بھارتی وزیر دفاع نے روسی وزیر دفاع آندرے بیلوسوف سے بھی ملاقات کی اور اسے ایک مثبت اور تعمیری ملاقات قرار دیا۔ یہ ملاقاتیں خطے میں سیکیورٹی، استحکام اور باہمی دفاعی تعاون کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ بشکیک میں اپنے دورے کے آغاز پر راجناتھ سنگھ نے وکٹری اسکوائر پر شہداء کو گلہائے عقیدت پیش کیا۔اس کے بعد انہوں نے مختلف ممالک کے دفاعی سربراہان سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اجلاس میں رکن ممالک کے درمیان انسداد دہشت گردی، علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون کو فروغ دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ایس سی او دنیا کی بڑی علاقائی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے، جس میں بھارت، چین، روس، پاکستان، ایران، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔بھارت 2017 میں اس تنظیم کا مستقل رکن بنا تھا اور 2023 میں اس نے تنظیم کی صدارت بھی سنبھالی تھی۔ ذرائع کے مطابق راجناتھ سنگھ اپنے دورے کے دوران دیگر رکن ممالک کے نمائندوں سے بھی دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے تاکہ باہمی سیکیورٹی مفادات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔