سرینگر // گپکار الائنس نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال جموں کشمیر انتظامیہ کی غلط پالیسی کا نتیجہ ہے جس سے یہاں فرقوں کے درمیان دوریاں بڑھ گئیں۔ الائنس نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر منعقدہ اجلاس کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں موجودہ صورتحال حکومت کی پالیسیوں کی ناکامی کا نتیجہ ہے جس نے جموں و کشمیر کو اس مقام تک پہنچایا ہے۔ چاہیے نوٹ بندی ہو یا دفعہ 370 کو ہٹانا ہو، یہ فیصلے کشمیر میں عسکریت پسندی اور بیگانگی کے مسائل کے حل کے طور پر ملک کو دیئے گئے۔بیان کے مطابق’’ بغیر کسی شک و شبہ کے نوٹ بندی اور نہ دفعہ 370 کو ہٹانے سے جموں و کشمیر میں سیکورٹی کی صورت حال کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا ہے،درحقیقت ، جموں و کشمیر انتظامیہ کے کچھ حالیہ فیصلوں نے صرف ان برادریوں کے درمیان اختلافات کو بڑھانے کا کام کیا ہے جو دوسری صورت میں ایک دوسرے کے درمیان پرامن طریقے سے رہ رہے تھے‘‘۔
اجلاس میں محبوبہ مفتی ، محمد یوسف تاریگامی اور جسٹس (ر)حسنین مسعودی نے شرکت کی۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک سازگار ماحول بنانے کی ذمہ داری حکومت ہند پر عائد ہوتی ہے ، ہم جموں و کشمیر کی ذمہ دار سیاسی جماعتوں کی حیثیت سے شک اور خوف کی سطح کم کرنے کیلئے اپنی پوری صلاحیت کے مطابق اپنا کردار ادا کریں گے۔ الائنس کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ سچ ہے کہ کشمیر میں اکثریت مسلمانوں کی ہے ، ہم اپنی ذمہ داری سے بری الزمہ نہیں ہوسکتے کہ ہم اپنی طاقت سے ہر وہ کام کریں جو مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھتا ہو ،ہم ان لوگوں سے اپیل کرتے ہیں جو وادی سے بھاگنے پر غور کر رہے ہیں، کہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔بیان میں الائنس نے کہا ہے کہ وہ غیر محفوظ وادی میں بے گناہ لوگوں کے قتل کی مذمت کرتا ہے۔
ان ہلاکتوں نے خوف کا ماحول پیدا کیا ہے جو کہ 90 کی دہائی کے اوائل سے کشمیر میں نہیں دیکھا گیا۔24 جون کو وزیر اعظم کے ساتھ سیاسی رہنماں کی ملاقات میں ، وزیر اعظم نے اس فاصلے کو درست کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے "دل کی دوری اور دلی سے دوری" کو تسلیم کیا۔ جموں و کشمیر میں غیر ضروری حراست اور طاقت کا حد سے زیادہ استعمال معمول ہے۔ کل شام ہونے والی کوکر ناگ ہلاکت انتباہ کی بڑھتی ہوئی حالت اور طاقت کے استعمال کے جواز کا براہ راست نتیجہ ہے۔ بے گناہ شہریوں کو ہراساں کرنا اور شہری کا قتل جیسے جموں و کشمیر کے حالات کو مزید خراب کرنے کا سبب بنیں گے۔ انتظامیہ کو یہ یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے دیکھو اور گولی مارو پالیسی اختیار نہ کی جائے۔