ایجنسیز
اسلام آباد// وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے جمعرات کو پاکستان میں تعینات امریکہ کی ناظم الامور نٹالی بیکر سے ملاقات کی، جس میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، سرکاری بیان میں کہا گیا ہے۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب تہران اور واشنگٹن کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہوئی ہے، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ بات چیت ہفتے کے آخر تک ہو سکتی ہے۔وزارتِ داخلہ کے مطابق نقوی اور بیکر کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے خطے کی تازہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی اور مجوزہ امن مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا۔
نقوی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ‘‘مثبت پیش رفت’’ قرار دیا جو کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہمیں ایران کی جانب سے بھی مثبت پیش رفت کی امید ہے۔‘‘نقوی اور بیکر نے مغربی ایشیا کے تنازع کے پائیدار حل کے لیے سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔بیان کے مطابق نقوی نے بیکر کو بتایا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر پرامن حل کے لیے ہر سطح پر بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔وزیرِ داخلہ نے کہا،’’امید ہے کہ دونوں فریق سفارتی اور پرامن حل کو ایک موقع دیں گے۔‘‘یہ ملاقات اس ہفتے کے دوران دونوں کے درمیان دوسری ملاقات تھی اور مجوزہ مذاکرات کے پیش نظر اسلام آباد میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔پیر کے روز نقوی نے بیکر اور پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی تھیں، جن میں اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے دور کے انتظامات پر بات چیت کی گئی۔بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر ایران کے ساتھ جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کا اعلان کیا تاکہ تہران کی قیادت کو جنگ کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کا مزید وقت مل سکے۔