پونچھ//دورِ حاضرہ میںدُنیا عالم کے مُسلمان جس پستی ، تباہی اور ظُلم و ستم کا شکار ہیں اُس کی نظیر چودہ سو سالہ تاریخ میں کہیں نہیں مِلتی اور اس تمام تر تباہی کے ذمہ دار خود مُسلمان ہی ہیں جنہوں نے عِلم ِدین و سُنّت رسول ؐ کو اپنے گھروں سے رُخصت کر دیا ہے۔ اِن خیالات کا اظہار مرکزی جامع مسجد پونچھ کے خطیب مولانا مفتی فاروق حُسین مصباحی اپنے خطاب کے دوران کر رہے تھے۔ یہاں جاری بیان کے مطابق مولانا نے مزید کہا کہ دینِ فطرت سے دوری کے سبب آج قومِ مُسلم تباہی و بر بادی کا شکار ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میںاعلیٰ عصری تعلیم وتربیت حاصل کرنے والے نونہالانِ قوم کی کثیر تعداد آج منشیات اور بے راہ روی کا شکار ہے جس کی آئے روز کئی مثالیں سامنے آ رہی ہیں۔ موصوف نے کہا کہ ایک دور تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پراسی دینِ متین کی خاطر طائف کے بازاروں میں پتھر ائو کیا گیا، کہیں آپ کی راہوں میں کانٹے بچھائے گئے ،کہیں آپ پر اُونٹ کی اوجھ ڈالی گئی اور کہیں آپ کے ساتھ دھکا مُکی کی گئی لیکن آپ ؐ نے یہ سب سہتے ہوئے دین کو دھکا نہیں لگنے دیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اُس دور کے کُفار و مشرکین نے دین کو ڈھانے کا ہر مُمکن حربہ استعمال کیا لیکن رب العزت کے فضل و کرم ، رسولِ خُدا صلی اللہ علیہ وسلم کی سعی ِ جمیلہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اتباعِ نے دین کو مزید فروغ بخشا۔ مولانا نے کہا کہ دورِ حاضرہ کی حیران کُن بات یہ ہے کہ نماز ،روزہ، حج ، مساجد کا رُخ اور تلاوت ِ قُرآن کریم کے بجائے ہم نے ٹی۔وی، ڈراموں، فلموں اور ناچ گانوںکو اپنا لائحہ عمل بنایا ہے جس سے آج کا مُسلم از خود اپنے گھر سے دین کو باہر دھکیلتا ہوا نظر آ رہا ہے ۔ موصوف نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں جب بچیوں کو زندہ در گور کیا جاتا تھا اور نشہ و شراب نوشی عام تھی تو تب نبیِ آخر الزماںؐنے قوم کو مسجد کی طرف بُلاکر اُنہیں وہ تعلیم عطا کی کہ ’’ خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے رہبر بن گئے‘‘ کے مترادف بنا دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر آج بھی قوم چاہتی ہے کہ اُس کی حالت میں وہ سُدھار پیدا ہو اور وہ بھی دُنیا کی رہبر ی و رہنمائی کریں تو اُنہیں مسجدوں کا رُخ کر کے تعلیم و پیغامِ مُصطفےؐ پر گامزن ہونا پڑے گا جس میں سارے عالم کی ا من و سلامتی کا راز پوشیدہ ہے۔