سابق ریاست اور موجودہ مرکز ی زیر انتظام جموں کشمیر میں گذشتہ12برس کے دوران9بار مختلف نوعیت کے انتخابات کا انعقاد ہوا۔سال2008کی زور دار عوامی تحریک کے بعد اُسی سال یہاں اسمبلی انتخابات کرائے گئے،پھر2009میں پارلیمانی الیکشن ہوئے،2011میں پنچایتی انتخابات عمل میں لائے گئے اور2014میں اسمبلی انتخابات کے ساتھ ساتھ پھرپارلیمانی الیکشن ہوئے۔2018میں یہاں میونسپل اور پنچایتی انتخابات کا انعقاد عمل میں لایا گیا اور2019میں ایک اور پارلیمانی انتخابات ہوئے یہاں تک کہ رواں برس ابھی حال ہی میں پہلے ضلعی ترقیاتی کونسل کے انتخابات انتہائی قر و فر سے انجام پائے۔یوں گذشتہ 12برس کے دوران اوسطاً یہاں ہر 16ماہ بعد کوئی نہ کوئی الیکشن ہوتا رہا ہے ۔ بالفاظ دیگراس عرصہ کے دوران یہاں کم و بیش ایک سال الیکشن ضابطہ اخلاق کے نفاذ میں ہی گذر گیا۔2008کی طویل ہڑتال،2010کی خونین بندشیں،2016کا قتل عام اور2019سے لگاتار پابندیاں اس کے علاوہ ہیں۔
اگر چہ ووٹ کا استعمال کرنا کوئی قانونی بندش نہیں ہے تاہم حق رائے دہی جمہوری نظام حکمرانی کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس حق کے ذریعے عام لوگ جمہوری عمل کا براہ راست حصہ بنتے ہیں اور اسی بنیاد پر جمہوری نظام حکمرانی کو’’عوام کی حکمرانی‘‘ کہا جاتا ہے۔شہری اس لئے اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں تاکہ منتخب نمائندے اُن کے خیالات، اُن کی فکر اور اُن کی سوچ کی نمائندگی کرکے اُن کے مفادات کی حفاظت کا کام انجام دیں ۔
یونانی زبان سے مستعار لئے گئے لفظ ’ڈیمو کریسی‘ کی تعریف یہ ہے کہ حکمرانی میں طاقت کا سرچشمہ لوگ ہیں۔اس فکر کے برعکس جتنے بھی نظام ہائے حکمرانی ہیں اُنہیں جدید دنیا مسترد کرچکی ہے ۔ اب حال یہ ہے کہ مغربی نظام جمہوریت کے ناقدین بھی اسی سوچ اور فکر کے ارد گرد ہی ہاتھ پائوں مار کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے نظر آرہے ہیں کہ اُن کے ہاں بھی اولیت عوام کو ہی حاصل ہے۔حالانکہ اب نظام جمہوریت کے نقائص کھل کر سامنے آنے لگے ہیں اور اس نظام کے مخالفین کے ہاں بھی نظام حکمرانی کے بہترین اُصول اور طریقے موجود ہیں لیکن دنیا ’جمہوریت‘ کے سحر میں اس قدر مسحور ہے کہ اس کے مخالفین بھی اسی اصطلاح ،یعنی جمہوریت کا ہی سہارا لیکر متبادل طرز حکمرانی کی تعریفیں کرتے پھر رہے ہیں ،فی الوقت وہ اس میں بری طرح ناکام ہورہے ہیں اور نتیجے کے طور پر وہ متبادل نظام کے خد و خال بھی ٹھیک ٹھیک منظر عام پر نہیں لاسکتے ہیں۔شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہر نظام حکمرانی کو صرف عملانے سے ہی سمجھایا جاسکتا ہے اور جمہوریت کے ناقدین کی سوچ بھی تب تک دنیا کے سامنے ظاہر نہیں ہوگی جب تک وہ اس کی کوئی عملی مثال قائم نہ کرلیں۔
جمہوری نظام حکمرانی کی تعریف اور اس کی تنقید ایک طرف، ووٹ ڈالنے یا نہ ڈالنے کی بحث بھی اپنی جگہ، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انتخابات کا انعقاد ہی جمہوری طرز حکمرانی کیلئے کافی ہے یا اس کے لئے کچھ اورکرنا بھی لازم ہوتا ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ اصل میں انتخابات جمہوری پراسیس کا پہلا زینہ ہیں اور ان کا انعقاد جمہوری نظام حکمرانی کی ابتداء ہے۔ اس آغاز سے لوگ اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ ارباب اقتدار کون ہوں گے ۔اس کے علاوہ انتخابات کا کوئی دوسرا مقصد نہیں ہوتا ہے۔ انتخابات کے بعد منتخب نمائندوں کو ایسے اقدامات کرنے پڑتے ہیں جن سے جمہوری نظام حکمرانی کا نفاذ ہو۔
لیکن شومئی قسمت کہ ہمارے یہاں الیکشن کو ہمیشہ شرح فیصد،لوگوں کے جذبات اور سوچ یہاں تک کہ تنازع کی عینک سے دیکھا جاتارہا ہے۔ ایسا انتخابات کے حمایتیوں اور اس کے مخالفین، دونوں کی طرف سے ہوتا آرہا ہے۔مخالفین تو بحرحال انتخابات کے انعقاد کے بعد خاموش ہوہی جاتے ہیں یا اُنہیں خاموش کیا جاتا ہے، لیکن اگلے انتخابات تک اس کے حمایتی ایسا شور بپا کئے رہتے ہیں جیسے لوگوں نے ووٹ کا استعمال کرکے اُنہیں اُن کے قضا و قدر کا مالک بنایا ہوتا ہے اور جیسے اُن کے منتخب ہونے سے ہی نظام جمہوریت کا قیام مکمل ہوتا ہے ۔اس شور و غل میں بے چارے عوام یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ انتخابات کے دوران بنیادی سروسز کی بہتری کے وعدے کرنے والے ،اُن کی شنوائی کی یقین دہانیاں دینے والے اور اُن کی خواہشات کی نمائندگی کا دم بھرنے والے آخر کہاں چلے گئے ہیں؟عوام اپنی بنیادی ضرورتوں کے پورا ہونے کی تمنا میں ہی دن رات گذارلیتے ہیں اورماہرین اُس نظام حکمرانی کو ہر آن منہدم ہوتے دیکھ رہے ہوتے ہیں جس کیلئے انتخابات کا انعقاد عمل میں لایا گیا ہوتا ہے اور لوگوں نے ووٹ ڈالے ہوتے ہیں ۔
پوچھا جاسکتا ہے کہ قانون سازیہ ، بلدیاتی اداروں، پنچایتوں اور ضلع سطح کے منتخب عوامی نمائندے جمہوریت کو کیا سمجھ بیٹھے ہیں؟ کیاجمہوریت انتخابات کے انعقاد تک ہی محدود ہے اور کیاعوام کی داد رسی کا نام جمہوریت نہیں ہے؟کیابجلی اورپانی جیسی بنیادی سروسز کی بہتری جمہوریت کا حصہ نہیں ہے؟ کیا بہترسڑک رابطے قائم کرکے لوگوں کے سفر کو آسان بنانا جمہوریت کے زمرے میں نہیں آتا ہے؟ کیا نظام تعلیم کو نئے زمانے سے ہم آہنگ بنانے کا نام جمہوریت نہیں ؟ کیا عوام کی خواہشات اور احساسات کا احترام جمہوریت نہیں کہلاتا ہے؟ کیا صرف مالدار لوگوں کے بچوں کو ہی معیاری اداروں میں تعلیم حاصل کرنا جمہوریت کہلاتا ہے ؟کیا معمولی کاموں کیلئے عام لوگوں کو سرکاری دفاتر کے طواف کرانے پر مجبور کرنا ہی جمہوریت ہے؟اورکیا آزاد عدلیہ کا قیام جمہوریت کا حصہ نہیں ہے؟
عوامی حلقوں کو شکایت ہے کہ اُن کے منتخب نمائندے الیکشن جیتنے کے فوراً بعد اُن سے بہت دور چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ اُن تک رسائی مشکل حد تک ناممکن بن جاتی ہے۔ اور تو اور مذکورہ منتخب عوامی نمائندے کچھ مہینوں کے اندر ہی ایسی زندگیاں حاصل کرلیتے ہیں جس کا اُنہوں نے صرف تصور کیا ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر جمہوریت کی نیلم پری منتخب عوامی نمائندوں پر لکشمی دیوی ثابت ہوجاتی ہے ۔عوامی حلقوں کے ان الزامات کے پس منظر میں بات کی جائے تو عوامی نمائندے منتخب ہونے کے بعد کورپٹ ہوکر محض اپنے ہی بارے میں سوچتے اور عمل کرتے رہتے ہیں۔ وہ کیسے منتخب ہونے کے چند ماہ بعد ہی اپنا طرز زندگی اعلیٰ تر بنالیتے ہیں؟عام لوگ اس سوال کا جواب تلاشتے تلاشتے کبھی کبھی اپنی رائے دہی کو ہی کوستے ہیں۔عوامی حلقوں کا سنیں تومنتخب عوامی نمائندوں پر سرکاری رقومات میں خرد برد سے لیکر موقع ملنے پر دلبدلی سے حاصل بھاری آمدن تک الزامات کی بھر مار ہے۔
جمہوری نظام حکمرانی، جس کے بارے میں اب ہمارے یہاں حکام کا دعویٰ ہے کہ اس کو ’گراس روٹ‘ سطح تک پہنچایا گیا ہے، کے سلسلے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ منتخب نمائندے شہری آزادی کو یقینی بنانے اورعدلیہ سمیت دیگر آزاد اداروں کے قائم کرنے کے مکلف ہوتے ہیں۔اس نظام حکمرانی کی یہ بھی ایک خاصیت ہے کہ اس کیلئے منعقد ہونے والے انتخابات میں ہارنے والے بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں جنہیںجمہوری اصطلاح میں حزب اختلاف کہا جاتا ہے۔اس لئے عوام دوست حکمرانی اور آزاد جمہوری ادارے قائم کرنے کیلئے جہاں حزب اقتدار ذمہ دار ہے وہیں حزب اختلاف بھی اپنا کردار ادا کرسکتی ہے۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو مخلص ہونا صرف منتخب نمائندوں کیلئے ہی ضروری نہیں ہے بلکہ اس میدان میں اُترکر ہارنے والوں کا ذمہ دار ہونا بھی از حد ضروری ہوتا ہے، یعنی اگر عوام کی حکمرانی مقصود ہو تومیدان سیاست کا ہر کھلاڑی پُر خلوص ہونا چاہئے۔پُر خلوص ہونے کے ساتھ ساتھ وہ جمہوریت اور جمہوری اُصولوں سے بھی پوری طرح باخبر ہونا چاہئے۔وہ بات کرنے کا اہل ہونا چاہئے،وہ موقع پرستی کا شکار ہوکر ایسا شخص نہیں ہونا چاہئے جو اپنا ذاتی قرضہ اُتارنے کیلئے سیاست کے میدان میں آیا ہو۔
جمہوریت کی روح یہ ہے کہ اس میں منتخب عوامی نمائندے جوابدہ ہوتے ہیں یہاں تک کہ جو پارٹی عوامی خواہشات پر پورا نہیں اُترتی ہے اُسے وقت آنے پر عوام کے ہاتھوں ہی سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔لیکن یہ سب کہنے کی باتیں ہیں،عملی میدان میں الیکشن کا بگل بجتے ہی ایک خاص قسم کا جیسے ماحول تیار کیا جاتا ہے اور ہر سیاست کار اور سیاسی پارٹی کی طرف سے اسی ماحول کی مناسبت سے لوگوں کو شیشے میں اُتارنے کیلئے تازہ سبز باغ دکھائے جاتے ہیں اور نتائج کو اپنے حق میں کرنے کیلئے نت نئے طریقے اپنائے جاتے ہیں، جس میں پراکسی اُمیدوار کھڑا کرنا بھی شامل ہے۔زبردستی جمہوری عمل سے اس نظام حکمرانی کے مطلوبہ ثمرات حاصل نہیں ہوتے ہیں۔ یعنی اگر لوگ ہی کسی نہ کسی وجہ سے اس سے دلبرداشتہ ہوں اور وہ اس میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوں تو طاقت کے بل پر منعقدہ انتخابات کالاحاصل ہونا طے ہوتا ہے۔ اس طرح کے عمل سے حکومتیں ضرور بنتی ہیں لیکن اُن کوعوام کی حکمرانی ہر گز قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔
یہ بات مسلمہ ہے کہ صرف انتخابات کا انعقاد ہی جمہوری نظام اور جمہوری اداروں کے قیام کیلئے لازم نہیں ہے بلکہ ایک موثر جمہوری نظام اور اس نظام کو چلانے والے ادارے قائم کرنے کیلئے عملی کام کی ضرورت ہوتی ہے۔ہمارے یہاں اسمبلی تحلیل ہوئے اب تیسرا سال ہے، اس لئے عوامی نمائندوں کے ذریعے قانون سازی مفقود ہے،پنچایتی ادارے بقول پنچایتی نمائندے بیکار پڑے ہیں اور منتخب نمائندے معلوم نہیں کن ہوٹلوں کے اندر سرکاری حفاظت میں سرکاری روٹیاں توڑ رہے ہیں،کم و بیش یہی حال بلدیاتی اداروں کا بھی ہے اور سننے میں آیا ہے کہ حال ہی میں کامیاب قرار پائے ضلعی ترقیاتی کونسل کے نمائندوں کو بھی مختلف مقامات پر سرکاری حفاظت میں رکھا گیا ہے۔اب کیسی جمہوریت اور کہا ں کی ’گراس روٹ‘ سطح؟۔