ایجنسیز
بیروت// اقوامِ متحدہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال شام میں دروز برادری کے ساتھ ہونے والی مہلک جھڑپوں کے دوران سکیورٹی فورسز کی مبینہ زیادتیوں کی اب تک کوئی مؤثر تحقیقات نہیں کی گئیں۔اقوامِ متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن برائے شام نے اپنی سخت رپورٹ میں شامی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ان سکیورٹی حکام کے خلاف تحقیقات کرے جنہوں نے فرقہ وارانہ حملوں کی اجازت دی یا ان کی منصوبہ بندی کی۔رپورٹ کے مطابق سویدا صوبے میں ہونے والے تشدد میں کم از کم 1700 افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت دروز مذہبی اقلیت سے تعلق رکھتی تھی، جبکہ تقریباً 2 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی کے وسط میں دروز روحانی رہنما شیخ حکمت الہجری سے وابستہ مسلح گروہوں اور مقامی بدو قبائل کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد حکومتی فورسز نے مداخلت کی اور مبینہ طور پر بدو گروہوں کا ساتھ دیا۔ اس کے نتیجے میں فرقہ وارانہ حملوں، اغوا اور جوابی کارروائیوں نے حالات کو مزید خراب کر دیا۔شامی صدر احمد الشراع نے ان واقعات کی تحقیقات اور تمام فریقین کو جوابدہ ٹھہرانے کا وعدہ کیا ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے مؤثر احتساب نہ ہونے پر شدید تنقید کی ہے۔اقوامِ متحدہ کے تحقیق کاروں نے کئی ہفتوں تک شام میں رہ کر 400 سے زائد متاثرین، حکام اور مبینہ ملزمان کے بیانات ریکارڈ کیے اور متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کارروائیوں کے دوران وسیع پیمانے پر لوٹ مار، گھروں کو نذرِ آتش کرنا، شہریوں کا قتل اور اغوا جیسے سنگین جرائم ہوئے۔ تقریباً 35 دیہات میں گھروں اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں دروز اکثریت یا مخلوط آبادی رہتی تھی۔مزید برآں، دروز عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ بعض مساجد کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ کئی واقعات میں بدو شہریوں، بشمول بچوں اور بزرگوں، کو فرار کے دوران گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق تشدد کی شدت کے باعث سویدا اور درعا کے ہسپتالوں میں گنجائش ختم ہو گئی، جہاں سینکڑوں لاشیں لائی گئیں۔ بعض لاشیں شدید جھلسی ہوئی حالت میں ملیں جبکہ کچھ کو کھلے میدانوں میں چھوڑ دیا گیا تھا۔