پونچھ//افغانستان قندوز کے علاقہ سیّد آباد کی مرکزی شیعہ جامع مسجد میں ہو ئے خود کش دھماکے کےخلاف پونچھ ضلع کی کئی شیعہ تنظیموں نے احتجاج کرتے ہوئے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔اس خود کش دھماکے میں کم از کم سو اہلاکتوں کے علاوہ 2سو سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں ۔افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے بعد قندوز میں یہ پہلا دہشت گردانہ حملہ ہے اس سے قبل تین اکتوبر کو بھی کابل میں عید گاہ کے قریب دہشت گردانہ بم دھماکے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے ۔اس طرح کے حملوں کی ذمہ داری خونخوار دہشت گرد گروہ داعش نے قبول کیا ہے۔سنیچر وار کو انجمن جعفریہ پونچھ کے زیراہتمام مرکزی علی جامعہ مسجد پونچھ کے احاطے میں ایک احتجاجی مظاہرہ عمل میں لایا گیا جہاں اس حملے کی زبردست مذمت کی گئی۔ مظاہرین عالمی برادری سے اس سلسلہ میں کارروائی کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر مقررین نے خطاب کر کے قندوز دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ امام جمعہ و جماعت علی جامعہ مسجد پونچھ مولانا سید ظہور علی نقی نے کہا کہ دہشت گردی خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہم ہمیشہ اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد شفایابی کی دعا کی ہے۔اسی سلسلہ میں بروزِ سنیچر کو ہی بعد نماز ظہرین جامع مسجد المصطفیٰ منڈی میں امام جمعہ و جماعت مولانا انعام علی نقوی کی قیادت میں تعزیتی اجلاس ہوا جہاں اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔اس دوران فاتحہ ہوئی اور شہدائے راہ حق کے لئے دعاے مغفرت کی گئی جب کہ زخمی ہوئے مومنین کی جلد صحت یابی کے لئے بھی دعاے خیر کی گئی۔