عموماً ََ کہا جاتا ہے کہ افسانہ ایک ایسی صنف ہے جس میں بہت کم لفظوں میں بہت کچھ کہا جاتا ہے یا کم لفظوں میں کا استعمال وسیع معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔اور یہ صحیح بھی ہے کہ افسانہ کی ابتدا کی وجہ یہ بنی کہ رسالے یا اخبار میں پورے ناول کو شایع کرنے میں بہت مہینے لگتے تھے اور تب تک قاری کی توجہ ناول کے پلاٹ سے ہٹ جاتی تھی یا وہ بہت سی اہم چیزیں کبھی کبھی بھول بھی جاتا تھا۔بہرحال جو بھی ہو افسانے سے متعلق جو چیز سب سے پہلے ذہن میں آتی ہے وہ یہ کہ یہ ایک مختصر کہانی ہے جس کی طوالت 1000 سے7000 الفاط کے درمیان ہو۔ کبھی یہ طوالت20000 الفاط تک بھی جاتی تھی لیکن اب ایسا کم دیکھنے کو ملتا ہے۔
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ افسانے میں کردار ، ترتیب یا زماں و مکاں، پلاٹ، کشمکش اور موضوع بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اور بھی کچھ چیزیں ہوسکتی ہیں لیکن مذکورہ پانچ چیزوں کے بغیر شائد ہی کوئی اچھا اور کامیاب افسانہ وجود میں آئے۔یہاں پر یہ بتادینا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ صحیح بات ہے کہ کوئی بھی فنکار یا ادیب محض تکنیک یا اجزائے ترکیبی پڑھنے یا جاننے سے بڑا فنکار یا افسانہ نگار نہیں بن سکتا بلکہ اس کے لیے عمیق مشاہدیو مطالعے کی ضرورت ہے۔برے فنکاروں کے فن پاروں کا مطالعہ ضروری ہے۔جن فن پاروں نے کلاسک کا درجہ حاصل کیا ، ان کا مطالعہ ضروری ہے۔لیکن یہ کہے بنا چارہ نہیں کہ جب افسانے نے انیسویں صدی کے آخر تک بہت ترقی کی تو باقی فنون کی طرح اس کے فن و تکنیک پر بحث چھڑ گئی۔جیسے ایڈگر لن پو نے افسانے کو ایک ہی نشت میں پڑھنے والی تحریر کہا وغیرہ۔ اب ان لوگوں کے لیے یہی کہنا مناسب سمجھتا ہوں جن کو افسانے کے فن و تنکنیک پر بات کرنے سے الرجی ہے کہ پہلے وہ اپنا مطالعہ بڑھائے اور اپنے ارد گرد نظر دوڑائے پھر اپنی شیخی بگھاریں۔ مثلاََ اس سے تو کسی کو انکار نہیں کہ پہلے فن وجود میں آیا پھر تنقید نگاروں و اسکالروں نے اس پر بات کی۔ یہ ارسطو و افلاطون کے زمانے سے چلتا آرہا ہے نہ کہ محض سجاد حیدر یلدرم یا پریم چند کے زمانے جیسا کہ یہاں کچھ نام نہاد نقادوں کا ماننا ہے۔دوسرے یہ کہ یہ ہر فن میں ہوتا آیا ہے کہ پہلے کچھ فن پارے وجود میں آئے اور بعد میں اس کی تنقید یا اس کی تکنیک وغیرہ پر بات ہوئی۔ کرکٹ یا فٹبال پہلے وجود میں آیا پھر اس کے نئے نئے ضابطے بن گئے اور پھر ماہرین نے اس کی نئی نئی تکنیکوں یا اس میں مہارت حاصل کرنے کیے تکنیک پر لکھا اور کھلاڑیوں سے کہا کہ آپ ان چیزوں پر عمل کرکے اچھے اور کامیاب کھلاڑی بن سکتے ہیں۔ یہی حال اداکاری، مصوری ، گلوکاری و دیگر فنون کا ہے۔اب اگر کوئی آج بھی طوطے کی طرح رٹ لگائے بیٹھا ہے کہ فن پہلے وجود میں آیا اور تنقید یا تکنیک پر بات کرنا گناہ ہے تو ایسے آدمی کی ذہانت وذہنیت پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔
انیسوی صدی کی آخری چند دہائیوں میں انگریزی ادبی دنیا میں افسانے کو ناول کا ایک حصہ تصور کیا جاتا تھا اور یہ مشہور تھا کہ ایک ناول نگار پلاٹ اور کرداروں کو چند ہزار الفاظ میں سمیٹ کر افسانہ ترتیب دیتا ہے۔
1880-1890 ء کے درمیان امریکہ میں بہت سے رسالے شائع ہونے لگے اور اسی کے ساتھ ان رسالوں نے ناول کے بجائے افسانوں کو شایع کرنا شروع کیا اور بہت جلد افسانے نے مقبولیت حاصل کی۔پرنٹنگ پریس نے چھپائی کو آسان کردیا اور تفریح کے ذرائع بھی محدود تھے۔ اس لیے لوگوں نے مختصر افسانے کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔جہا ں ایک طرف روسی زبان میں گوگول اور چیخوف نے اور فرانسی میں فلابئیر اور موپاساں نے اس صنف کا ادبی مقام متعین کیا وہیں امریکہ میں پو ؔ اور ہاتھورن نے بھی اس صنف میں طبع آزمائی کی ۔ یوں افسانہ نئی بلندیاں چھوتا گیا۔
اردو کے ایک معتبر اور بڑے نقاد وقار عظیم نے اپنی کتاب کی ابتدا میں کہا ہے کہ مختصر افسانے نے ناول کی جگہ لے لی لیکن اسی مضمون کے آخر میں وقار عظیم اپنے خیال کی یہ کہہ کر نفی کرتے ہیں کہ ناول میں چونکہ حیات انسانی کی پیچید گیوں ، سادہ اور پرکیف حقیقتوں اور ان کی تفصیلات کا ذکر ناول کو افسانے پر فوقیت عطا کرتا ہے اورقاری یہ چیزیں کھونا نہیں چاہتا۔مطلب یہ کہ ناول کی اہمیت بہرحال قائم رہے گی اور چونکہ مختصر افسانے اس کمی کو پورا نہیں کر سکتا اس لیے ناول کی اہمیت ہمیشہ برقرار رہے گی ۔تضاد واضح طور پر ظاہر ہے۔وہیں دوسری طرف آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح ناول نے ترقی کی نئی منازل طے کی ہیں۔یہاں پر یہ دکھانا مقصود نہیں کہ افسانہ کوئی کمتر فن ہے بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ افسانے نے اتنی ترقی کے بعد اور اپنی ایک الگ جگہ بنانے کے بعد ناول نے پچھلی صدی میں کچھ زیادہ ہی ترقی کی ہے اور جیسا کہ کچھ نقادوں نے اعلان کیا تھا کہ افسانے نے ناول کی جگہ لی ہے اور طالب علموں کو گمراہ کیا تھا وہ محض ان کی ذہنی اختراع ثابت ہوا۔ پس ثابت ہوا کہ افسانے اور ناول نے اپنے اپنے طور پر ترقی کی ہے اور کسی نے بھی کسی دوسرے کی جگہ نہیں لی ہے۔
جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں افسانے کے اجزائے ترکیبی کے بارے میں بات ہوئی جس میں موضوع بھی ایک اہم چیزہے۔ موضوع پر ایک افسانہ نگار کو پوری توجہ دینی چاہیے ۔موضوع کوئی بھی چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا بلکہ یہ افسانہ نگار کی صوابدید اور فنی چابک دستی پر ہی منحصر ہے کہ وہ موضوع کو کس طرح پیش کرتا ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ افسانہ نگار کو اپنے موضوع جس کو وہ اپنی کہانی میں برت رہا ہے وہ اس سے دلچسپی رکھتا ہو ۔وہ اس موضوع کی جزئیات سے پوری طرح واقف ہو۔چھوٹی سی چھوٹی اور بڑی بات سے واقف ہو۔ موضوع کو صحیح ، گہرائی میں سمجھنا افسانہ نگار کا اولین کام ہونا چاہیے کیونکہ جس موضوع پر افسانہ نگار کی گہری نظر نہ ہو اس پر وہ اچھا افسانہ یا چند سطریں تک نہیں لکھ سکتا ۔دوسرے یہ کہ اس وجہ سے اس افسانے میں بہت سی کمیاںرہ جائیں گی۔
مسائل تو ہر طرف ہیں لیکن ان مسائل میں وہ مسائل چننا اور پھر ان مسائل کوفنی چابکدستی سے الفاظ کا جامہ پہنانا ایک کامیاب افسانہ نگار کا کام ہے۔مثلاََ ہندوستان میں ایک عام مسلمان کو لاکھوں مسائل درپیش ہیں اور ہر مسئلے کی پیچھے ایک تاریخ ہے ، نفسیات ہے، سیاست ہے۔افسانہ نگار کا کام یہ ہے وہ ان مسائل کی تہہ میں جائے ، نہ کہ کسی خبر کو بنیاد بناکراس پر افسانہ لکھنا شروع کردے۔خبر ضروری ہے لیکن یہ محض ایک وسیلہ ہے حقائق تک پہنچنے کا۔افسانے نگار کو پہلے حقائق تک پہنچنا چاہیے جس کا ذکر اوپر ہوا پھر جاکر اپنا قلم اٹھانا چاہیے۔یہاں فن کار کا صبر و برداشت کا بھی امتحان ہوتا ہے۔ہاں ایسا ضرور ہے کہ بہت سے افسانے ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر لکھے گئے اور لکھے جاتے ہیں ۔یہاں افسانہ نگار کو آزادی حاصل ہے کہ جیسا اس کے تجربے میں آیا وہ اس پر اپنی کہانی تعمیر کرے ،مگر مذکورہ بالا فنی و تکنیکی باتوں کی اہمیت بہرحال قائم رہے گی۔
افسانہ نگار کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ وہ افسانہ لکھ رہا ہے نہ کہ بچوں کے لیے کوئی کہانی۔کردار کا ارتقا ء اور اس کی نفسیات کی عکاسی کی جتنی ضرورت ایک ناول میں ہوتی ہے، اتنا ہی ایک افسانے میں اس کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک افسانے میں کردار کو مسائل یا کشمکش پیش آتی ہے اور جب وہ ان چیزوں میں ڈھل جاتا ہے تو اس کو دکھانے کے لیے ایک افسانہ نگار کے پاس الفاظ کا ذخیرہ ، مشاہد ہ اور تخیل ہونا چاہیے تبھی وہ کسی کردار کے ساتھ انصاف کرسکے گا۔ایسا نہ ہو کہ کردار کا عمل چند ہی جملوں کے بعد تھمنے لگے یا اس کا دم گھٹنے لگے۔یہ کہانی کو آگے نہیں بڑھنے دے گا اور کہانی فطری انجام واختتام کے بجائے وقت سے پہلے اختتام کو پہنچ جائے گی۔
1968 ء میں جنوبی افریقہ کے ادیب نادین گوڈیمر نے کہا کہ ہم میں سے ہر ایک ہی وقت میں ہزار زندگیاں گزارتا ہے۔مطلب زندگی میں اتار چڑھاو آتے رہتے ہیں اور ناول نگار کا فوکس انسان کے ایک ہی پہلو پر رہتا ہے یا وہ ایک کردار کو ایک ہی نتاظر میں یا نقطہ نظر سے پیش کرتا ہے۔اور اس دوران میں کردار کی باقی پہلو پر روشنی نہیں پڑتی یا وہ پس پشت چلے جاتے ہیں۔وہیں افسانہ نگار کسی ایک واقعہ یا پہلو کو ایک ہی جست میں دیکھ لیتا ہے۔افسانہ نگار کی ساری توجہ حال پر مرکوز ر ہتی ہے اور اس کو اس سے سروکار نہیں کہ واقعہ سے پہلے کیا ہو اور بعد میں کیا ہوگا۔ اسے صرف حال سے دلچسپی ہے اور بس اور بہتر یہی ہے کہ وہ اسی پر اپنی ساری توجہ اور فنکاری صرف کرے۔
افسانے کا ایک مسئلہ کہانی اور کرداروں کا پھیلاؤ بھی ہے، جس پر بہت حد تک افسانے کی کامیابی کا دارومدار ہوتا ہے ،لیکن ہمارے یہاں اس پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے ۔پھیلائو پر کردارنگاری پر بات کرتے ہوئے تھوڑا ذکر ہوا۔ یہاں پر اتنا اضافہ کرنا ضروری ہے کہ پھیلائو سے مراد کہانی کے پلاٹ، کردار ، نقطہ نظر، موضوع وغیرہ کا پھیلائو ہے۔مختصر افسانہ لکھنے کے دوران یہ بات ذہن میں رکھنی لازمی ہے کہ افسانہ غیر ضروری حد تک سمٹ نہ جائے یا زیادہ مختصر نہ رہ جائے کہ کردار کا عمل بہت جلد سمٹ جائے یا کہانی محض چند جملوں میں سمٹ جائے۔ تو پھر یہ کہانی نہیں بلکہ کوئی اخباری رپورٹ بن کر رہ جائے گی۔اس کو ہم افسانے کی وقت سے پہلے موت سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں۔
افسانہ نگار کو چاہیے کہ افسانے کو ایک ابنارمل کہانی یا اخباری رپورٹ بننے سے بچانے کے لیے وہ کہانی کو پھیلائے اور کردار و موضوع کے مختلف پہلوئوں کو بھی سامنے لائے جس سے اس کردار یا موضوع کو پوری طرح سمجھنے میں آسانی ہو، کردار یا کہانی سے متعلق کوئی چھوٹا ساواقعہ افسانے کے لیے اہم ہوسکتا ہے۔پھیلائو میں کبھی کبھی زمان و مکان کی دیواریں پھلانگنی پڑتی ہیں تاکہ قاری کہانی کے موضوع سے اچھی طرح واقف ہوسکے۔کسی کردار کے خاندان، اس کے رشتہ دار، بھائی بہن ، اس کے بچپن کا مختصر ذکر یا بچپن میں پیش آئے کسی اہم واقعہ کا ذکر افسانے کو سمجھنے میں ہماری بڑی مدد کرسکتا ہے۔ یہ محض ایک جملہ یا چند جملوں پر پیش کیا جاسکتا ہے تاکہ قاری افسانے سے پوری طرح لطف اندوز ہوسکے اور موضوع سے اُس کا ذہن نہ بھٹکے ۔اسی طرح افسانے کی ابتدا بھی اس طرح ہونی چاہیے کہ قاری فوراََ کہانی کی طرف متوجہ ہو اور پھر قاری کی اس کہانی سے ہمیشہ دلچسپی برقرار رہے۔ باقی افسانچہ اور اس کی ماہیت اور ادب میں اس کی حیثیت پر راقم السطور نے پہلے ہی، اسی اخبار کے ایک مضمون میں خیالات کا اظہار کیا ہے۔یہاں پر اُن کو دہرانے کی ضرورت نہیں اور نہ سیاہی و کاغذ خرچنے کی ۔
رابطہ :جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی
نوٹ : یہ مضمون ٹاون ہال بانڈی پورہ میں منعقد ہ کانفرنس بعنوان ’’ افسانہ : فن ا و ر تکنیک ‘‘ میں پیش کیے گئے مقالے کا خلاصہ ہے۔ کانفرنس کا انعقاد ’’ وُ لر ادبی فورم، بانڈی پورہ کشمیر‘‘ نے کیا تھا۔