سمت بھارگو
راجوری//گورنمنٹ میڈیکل کالج سے منسلک ہسپتال راجوری میں جمعرات کے روز ملازمین کی ہڑتال کے باعث او پی ڈی خدمات شدید متاثر رہیں جس سے علاج کے لئے آنے والے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہڑتال میں شامل ملازمین نے حکومت کے حالیہ فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے مطالبات کی فوری منظوری کا مطالبہ کیا۔ملازمین نے جموں و کشمیرمیڈیکل ایمپلائی فیڈریشن کے بینر تلے ایک روزہ علامتی ہڑتال کی۔ اس احتجاج کی وجہ حکومت جموں و کشمیر کی جانب سے جاری کیا گیا وہ حالیہ سرکلر بتایا جا رہا ہے جس کے تحت محکمہ صحت کے ملازمین کو اضافی کام کے بدلے دی جانے والی ماہانہ ڈھائی دن کی اضافی تنخواہ کو ختم کر دیا گیا ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ یہ سہولت کئی برسوں سے دی جا رہی تھی اور اسے اچانک واپس لینا محکمہ صحت کے عملے کے ساتھ ناانصافی ہے۔ہڑتال کے دوران گور نمنٹ میڈیکل کالج راجوری میں تعینات ملازمین نے معمول کی خدمات معطل کر کے احتجاج میں حصہ لیا۔
اس کے نتیجے میں ہسپتال کی او پی ڈی خدمات متاثر ہوئیں اور دور دراز علاقوں سے علاج کے لئے آنے والے مریضوں کو خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مریضوں کو گھنٹوں انتظار کے بعد واپس جانا پڑا جبکہ بعض نے نجی کلینکوں کا رخ کیا۔ملازمین نے ہسپتال کے باہر احتجاجی دھرنا بھی دیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت کے ملازمین پہلے ہی شدید دباؤ میں کام کر رہے ہیں اور اضافی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں، اس کے باوجود ان کی مراعات کم کرنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر جاری کردہ سرکلر کو واپس لیا جائے اور ملازمین کو پہلے کی طرح اضافی تنخواہ کی سہولت بحال کی جائے۔اس دوران ہسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ ہڑتال کے باوجود ایمرجنسی خدمات کو متاثر نہیں ہونے دیا گیا اور ایمرجنسی وارڈ معمول کے مطابق کام کرتا رہا تاکہ کسی بھی ہنگامی مریض کو علاج میں دشواری پیش نہ آئے۔ملازمین نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا تو آنے والے دنوں میں احتجاج کو مزید تیز کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہیں اور جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے تب تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔