بلا شبہ جب تک انسان کا ضمیر بیدار رہتا ہے، گھر میںاخلاق زندہ رہتے ہیں اور معاشرے میںاخلاقی اقدار کی پاسداری ہوتی رہتی ہے،تب تک انسان باعزت رہتا ہے،خاندانی نظام پُر سکون رہتا ہے اور معاشرتی توازن میں اعتدال رہتا ہے۔لیکن جب انسان کے باطن میں موجود ضمیر جو خیر و شر کے درمیان آخری نگہبان ہوتا ہے آہستہ آہستہ مرنے لگتا ہے تو پھرانسان کے لئے نہ صرف اپنی عزت ،خاندان کی وقعت اورمعاشرے کی ملامت بے معنی ہوجاتی ہے بلکہ قانون کا خوف بھی بے اثر ہو جاتا ہے۔ درحقیقت ضمیر کی موت وہ پہلا زینہ ہے جس سے اُتر کر انسان بُرائیوں،خرابیوں اور چھوٹے چھوٹے گناہوں سے سنگین جرائم تک جا پہنچتا ہے۔اُس میںحلال و حرام کا شعور دُھندلا پڑجاتا ہےاور اعمال کے نتائج کا احساس بھی ختم ہوجاتا ہے۔ وہ یہ سوچنا تک چھوڑ دیتا ہے کہ کون سا عمل اِخلاقی ہے اور کون سا محض وقتی فائدے کا ذریعہ۔ اسی طرح انسان جب وفاداری، صبر اور تحمل جیسے اقدار کو کمزوری سمجھنے لگتا ہے اور چالاکی، فریب اور خود غرضی کو ذہانت کا نام دیتا ہے تو اُس کے لئے رشتوں کی ذمّہ داری بوجھ بن جاتی ہےاور اِسی ذہنی سوچ میں انسان اصولوں کے ساتھ جینے کے بجائے منفعت ومفاد ات کے ساتھ جینے کو ہی اپنی کامیابی سمجھنے لگتا ہے،گویایہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں مفاد کو اخلاق پر ترجیح دی جاتی ہے، راستے کی پاکیزگی غیر اہم ہو جاتی ہےاور پھر جھوٹ، دھوکہ، خیانت اور حتیٰ کہ سنگین جرائم بھی ’آخری حل‘ کے طور پر اُبھرنے لگتے ہیں۔
یہ سوچ دراصل اس بات کا اعلان ہوتی ہے کہ انسان کے اندر اخلاقی قدروں کا چراغ بُجھ چکا ہے اور وہ اب صحیح و غلط کے فرق کو اپنے ضمیر کی آواز سے نہیں بلکہ قانون کی شقوں سے ناپنے لگا ہے ۔جس سے یہ بات اُبھر کر سامنے آجاتی ہے کہ کسی بھی فرد ،خاندان یا معاشرے میں جرائم کی اصل جڑ محض غربت، قانون کی کمزوری یا وقتی اشتعال نہیں ہوتی بلکہ اس سے کہیں گہری سطح پر اخلاقی تربیت اور دینی شعور کے انہدام کا عمل کار فرما ہوتا ہے۔ ظاہر ہےکہ اسلامی تعلیمات اور ہر مہذب معاشرے کی اخلاقی روایت اس اصول پر متفق ہے کہ انسانی اختلاف فطری ہے، مگر اس کا حل تشدد، فریب یا جرم نہیں بلکہ صبر، مکالمہ اور اصلاح ہے۔ جہاں یہ صلاحیت زندہ رہتی ہے، وہاں مسائل بوجھ نہیں بنتے اور جہاں یہ دم توڑ دیتی ہے، وہاں معمولی ناچاقیاں بھی کسی نہ کسی المیے میں بدل جاتی ہیں۔ خاندان کے بزرگ، خیر خواہ افراد یا ثالثی کا نظام اسی مقصد کے لیے رکھا گیا ہے کہ معاملات جذبات کے طوفان میں بہنے کے بجائے حکمت کے ساحل تک پہنچ سکیں۔چنانچہ مسئلہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب صبر کو بزدلی، برداشت کو کمزوری اور اخلاقی جرأت کو بوجھ سمجھ لیا جاتا ہے، جب انسان خود کو مکالمے کی مشقت، اصلاح کی محنت اور علیحدگی کے سماجی دباؤ سے بچانا چاہتا ہےاور وہ شارٹ کٹ تلاش کرنے لگتا ہے جو اُسے بظاہر آسان لگتا ہے مگر درحقیقت یہی شارٹ کٹ انسان کو جرم کی دلدل میں دھکیل دیتا ہے، جہاں ایک غلط فیصلہ درجنوں ناقابلِ تلافی نتائج کو جنم دیتا ہے۔ اصلاحی زاویے سے اصل ضرورت یہ ہے کہ صبر کو دوبارہ وقار، مکالمے کو حکمت اور اخلاقی جرأت کو اصل طاقت کے طور پر پیش کیا جائے۔ انسان کو یہ سکھایا جائے کہ مشکل راستہ ہی اکثر دُرست راستہ ہوتا ہے اور وقتی نجات کے نام پر اختیار کیا گیا شارٹ کٹ آخرکار ذِلت، پشیمانی اور تباہی پر منتج ہوتا ہے۔یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ صبر، مکالمہ اور اصلاح نہ صرف انسان کو جرم سے بچاتے ہیں بلکہ معاشرے کو انسانیت کے دائرے میں قائم رکھتے ہیں۔المختصرہمیںاس بات کا بھی احساس ہونا چاہئے کہ جب نئی نسل کو وفاداری، صبر، ضبط اور اخلاق کی عملی تربیت دینے کے بجائے محض کامیابی، آزادی اور لذت کا سبق پڑھایا جائے تو پھر وہ آزادی بسا اوقات بغاوت اور جرم میں بدل جاتی ہے۔یاد رکھیں کہ اصلاح کا راستہ فرد کو کوسنے سے نہیں بلکہ اجتماعی شعور کی بیداری سے نکلتا ہے اور ہماری نئی نسل کو جذباتی بلوغت کے ساتھ دینی و اخلاقی اقدار سکھانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہمارے معاشرہ میں بُرائیوں ،خرابیوں اور جرائم کی روک تھام ہوسکے۔
��