ایجنسیز
اسلام آباد// پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جمعہ کی نماز کے دوران ایک مسجد میں خودکش حملے کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد جاں بحق جبکہ تقریباً 170 زخمی ہو گئے، حکام نے بتایا۔پولیس کے بیان کے مطابق یہ زور دار دھماکہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع خدیجۃ الکبریٰ مسجد و امام بارگاہ میں پیش آیا۔پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق خودکش حملہ آور کو امام بارگاہ کے دروازے پر روک لیا گیا تھا، تاہم اس نے وہیں خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق دھماکے میں کم از کم 31 افراد ہلاک اور 169 زخمی ہوئے۔ابھی تک کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آور غیر ملکی شہری تھا اور اس کے فتنہ الخوارج سے روابط تھے، جو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے۔اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن نے پہلے بتایا تھا کہ دھماکے میں 80 سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ 15 لاشوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ پولیس اور ریسکیو 1122 کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ فوج اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ دھماکے کے مقام اور اطراف میں سکیورٹی آپریشن جاری ہے۔ صورتحال سے نمٹنے کے لیے وفاقی دارالحکومت کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔یہ حملہ اس واقعے کے تین ماہ سے بھی کم عرصے بعد ہوا ہے جب اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے باہر ایک خودکش دھماکے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب ازبکستان کے صدر شوکت مرزایویف پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر موجود ہیں، جو جمعرات کو اسلام آباد پہنچے تھے۔صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے حملے کی شدید مذمت کی۔ زرداری نے کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔راجہ ناصر عباس نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا انسانیت، مذہب اور معاشرتی اقدار پر براہِ راست حملہ ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔پولیس حکام کے مطابق دھماکے کی نوعیت کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاہم ابتدائی شواہد کے مطابق یہ خودکش حملہ معلوم ہوتا ہے۔وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال کا دورہ کر کے زخمیوں کی عیادت کی، جبکہ وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سوشل میڈیا پر حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ کارروائی قرار دیا اور قومی یکجہتی، امن اور برداشت کے فروغ پر زور دیا۔